پاکستان اسٹیل کے اثاثے کیوں نیلام کیے جارہے ہیں، صنعت و پیداوار ڈویژن کے حکام نے اصل وجہ بتادی
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
قومی اسمبلی کی ذیلی کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کے اجلاس میں کراچی میں واقع پاکستان اسٹیل کے اثاثے چوری ہونے کے انکشافات سامنے آئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی کے لیے پاکستان اور روس کے درمیان پروٹوکول پر دستخط
نجی ٹی وی کی رپورٹ میں ایڈشنل سیکریٹری صنعت و پیداوار نے کمیٹی کو بتایا کہ اسٹیل مل کی 11 کے وی کی بجلی کی تاریں تک چوری ہوچکی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ چوری کے بڑھتے خطرات کے پیش نظر اسٹیل مل کے بعض اثاثے نیلام کیے جا رہے ہیں۔
ایڈیشنل سیکریٹری نے بتایا کہ سنہ 2010 میں پاکستان اسٹیل میں 30 ہزار ملازمین تھے جبکہ صرف 5 ہزار ملازمین سے بھی کام چل سکتا تھا۔
مزید پڑھیے: پاکستان اسٹیل ملز کے بند دروازوں کی روشنیاں دن رات کیوں جلتی رہتی ہیں؟
انہوں نے بتایا کہ جولائی 2024 سے ڈیلی ویجز اور کنٹریکٹ ملازمین کے کنٹریکٹ ختم کردیے گئے اور ان میں سے 85 فیصد کو گھوسٹ ملازمین قرار دیا گیا۔
مل بند ہونے کے باوجود بجلی کا بل 24 کروڑ روپے آیااجلاس میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ اسٹیل مل بند ہونے کے باوجود اس کا ساڑھے 27 کروڑ روپے کا بل موصول ہوا جن میں سے ڈھائی کروڑ روپے گزشتہ ماہ ادا کیے گئے۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ روس اسٹیل مل کی بحالی میں دلچسپی رکھتا ہے اور اس حوالے سے سرمایہ کاروں سے بات چیت جاری ہے۔ کمیٹی کو مزید بتایا گیا کہ سرمایہ کاروں سے بات ہوتے ہی کام شروع کردیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسٹیل مل کے اثاثوں کی نیلامی پاکستان اسٹیل پاکستان اسٹیل کے اثاثے پاکستان اسٹیل میں چوریاں قومی اسمبلی کی کمیٹی برائے صنعت و پیداوار.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان اسٹیل پاکستان اسٹیل کے اثاثے صنعت و پیداوار پاکستان اسٹیل بتایا کہ اسٹیل مل
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔
مزید پڑھیںلاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال
اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔