سندھ اسمبلی اجلاس، ایوان قاتل قاتل سی ایم قاتل کے نعروں سے گونج اٹھا
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
شرجیل میمن کے خطاب کے دوران ایم کیو ایم کے ارکان اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئے، اسپیکر کے ڈائس کے سامنے کھڑ ے ہو کراحتجاج ،سانحہ گل پلازہ پرجوڈیشل کمیشن قائم کرو کے نعرے
ان کی کسی بات پر کوئی بھروسہ نہیں ، سانحہ گل پلازہ پرحکومتی کمیٹی ڈھکوسلہ ، افسران کیسے شفاف انکوائری کرسکتے ہیں ،ہم ڈرنے والے نہیں،ہماری سیاست ختم کردیں،علی خورشیدی کا اظہار خیال
سندھ اسمبلی کا اجلاس سانحہ گل پلازہ پر اپوزیشن کے بھرپور احتجاج کے باعث مختصر کارروائی کے بعد ملتوی کردیا گیا ۔ایم کیو ایم پاکستان کے ارکان نے اسپیکر کے ڈائس کے سامنے کھڑ ے ہو کر شدید نعرے بازی کی اور ایوان ”قاتل قاتل سی ایم قاتل ” اور” جوڈیشل کمیشن قائم کرو ” کے نعروں سے گونجتا رہا ۔سندھ اسمبلی کا اجلاس منگل کو ڈپٹی اسپیکر نوید اینتھونی کی صدارت میں شروع ہوا ۔ اپوزیشن لیڈر علی خورشید ی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کل بھی ہم نے مطالبہ کیا تھا کہ سانحہ گل پلازہ کی جوڈیشل انکوائری کروائی جائے ۔حکومتی کمیٹی ایک ڈھکوسلہ ہے ۔حکومت کے ماتحت افسران کیسے شفاف انکوائری کرسکتے ہیں ۔میں اس مسئلے پر قرارداد پیش کردیتا ہوں حکومت ہماری حمایت کرے ۔وزیر داخلہ نے حکومتی موقف پیش کیا ہے۔ ان کی کسی بات پر کوئی بھروسہ نہیں ہے۔ غیر جانبدار جوڈیشل کمیشن بنا کر ہماری سیاست ختم کردیں۔ ہم ڈرنے والے نہیں ہے۔ جتنا تنگ کرنا ہے کریں۔وزیرداخلہ سندھ ضیاء لنجار نے کہا کہ یہ تین دن سے یہی تقریر کررہے ہیں ۔ہماری بات سننے کو ہی تیار نہیں ہیں ۔یہ پہلے ہماری بات سن لیں اس کے بعد اپنی قرارداد لے آئیں۔انہوںنے کہا کہ وزیر اعلی سندھ نے سانحہ گل پلازہ پر بات کی۔ اس کے بعد اپوزیشن لیڈر نے بھی بات کی۔ یہ کوئی طریقہ نہیں ہے جس طرح بات کی جا رہی ہے ۔آج کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ کمشنر کراچی جو تحقیقات کرے گی ۔کابینہ نے وزیر اعلی کی قیادت میں کمیٹی بنائی ہے ۔یہ کمیٹی سمجھتی ہے کہ اگر انکوائری ناکافی ہے تو عدالتی کمیشن بنائیں گے۔ہم چاہتے ہیں کہ ذمہ داروں کو سزا ملنی چاہئے ۔ اسمبلی کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ اس سانحے کی مکمل تحقیقات ہوگی۔ ایک ہفتے میں جو کچھ تحقیقات ہو اس کو سامنے آنے دیا جائے ۔اس مسئلے پر سیاست نہ کی جائے نہ اسمبلی کا ماحول خراب کیا جائے ۔جو مطالبہ یہ قراداد میں کر رہے ہیں وہ کام پہلے ہو رہا ہے۔سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ وزیر داخلہ نے اچھا بیان دیا ہے۔ ایک ایک نقطے پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ کراچی کے تاجروں سے حکومت سندھ پہلے دن سے ساتھ ہیں، تاجروں نے بھی اعتماد کا اظہار کیا۔ سانحہ گل پلازہ پر پانچ رکنی کمیٹی بنائی گئی ہے۔ اگر کمیٹی سمجھے گی تو جوڈیشل کمیشن بھی بن جائی گی۔ حکومت کسی کی ڈکٹیشن پر نہیں چلی گی۔شرجیل انعام میمن کے خطاب کے دوران ایم کیو ایم کے ارکان اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئے احتجاج شروع کردیا ۔شرجیل میمن نے اپوزیشن کے احتجاج پر کہا کہ انہوں نے جو کراچی کے لوگوں کے ساتھ کیا ہے وہ کوئی بھولا نہیں ہے۔لاہور سے فارنسک ٹیم گل پلازہ کا فارنسک کررہی ہے ۔ان لوگوں نے شہر میں خون کی ہولی کھولی ہے ۔حکومت لواحقین و تاجروں کے ساتھ کھڑی ہے ۔یہاں سیاست کرنے ڈرامے کرنے سے کام نہیں ہوگا۔اسی دوران اپوزیشن ارکان اسپیکر کے ڈائس کے سامنے کھڑے ہوگئے اور سندھ حکومت کے خلاف نعرے بازی شروع کردی ۔ ڈپٹی اسپیکر نے احتجاج کے باعث وقفہ سولاتکا انائونس کر دیا تاہم اپوزیشن کی جانب سے کوئی سوال نہیں کیا گیا۔بعد ازاں سندھ اسمبلی کا اجلاس جمعے کے روز صبح ساڑھے دس بجے تک ملتوی کردیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: سانحہ گل پلازہ پر جوڈیشل کمیشن سندھ اسمبلی اسمبلی کا نہیں ہے
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔