شرجیل میمن کے خطاب کے دوران ایم کیو ایم کے ارکان اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئے، اسپیکر کے ڈائس کے سامنے کھڑ ے ہو کراحتجاج ،سانحہ گل پلازہ پرجوڈیشل کمیشن قائم کرو کے نعرے
ان کی کسی بات پر کوئی بھروسہ نہیں ، سانحہ گل پلازہ پرحکومتی کمیٹی ڈھکوسلہ ، افسران کیسے شفاف انکوائری کرسکتے ہیں ،ہم ڈرنے والے نہیں،ہماری سیاست ختم کردیں،علی خورشیدی کا اظہار خیال

سندھ اسمبلی کا اجلاس سانحہ گل پلازہ پر اپوزیشن کے بھرپور احتجاج کے باعث مختصر کارروائی کے بعد ملتوی کردیا گیا ۔ایم کیو ایم پاکستان کے ارکان نے اسپیکر کے ڈائس کے سامنے کھڑ ے ہو کر شدید نعرے بازی کی اور ایوان ”قاتل قاتل سی ایم قاتل ” اور” جوڈیشل کمیشن قائم کرو ” کے نعروں سے گونجتا رہا ۔سندھ اسمبلی کا اجلاس منگل کو ڈپٹی اسپیکر نوید اینتھونی کی صدارت میں شروع ہوا ۔ اپوزیشن لیڈر علی خورشید ی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کل بھی ہم نے مطالبہ کیا تھا کہ سانحہ گل پلازہ کی جوڈیشل انکوائری کروائی جائے ۔حکومتی کمیٹی ایک ڈھکوسلہ ہے ۔حکومت کے ماتحت افسران کیسے شفاف انکوائری کرسکتے ہیں ۔میں اس مسئلے پر قرارداد پیش کردیتا ہوں حکومت ہماری حمایت کرے ۔وزیر داخلہ نے حکومتی موقف پیش کیا ہے۔ ان کی کسی بات پر کوئی بھروسہ نہیں ہے۔ غیر جانبدار جوڈیشل کمیشن بنا کر ہماری سیاست ختم کردیں۔ ہم ڈرنے والے نہیں ہے۔ جتنا تنگ کرنا ہے کریں۔وزیرداخلہ سندھ ضیاء لنجار نے کہا کہ یہ تین دن سے یہی تقریر کررہے ہیں ۔ہماری بات سننے کو ہی تیار نہیں ہیں ۔یہ پہلے ہماری بات سن لیں اس کے بعد اپنی قرارداد لے آئیں۔انہوںنے کہا کہ وزیر اعلی سندھ نے سانحہ گل پلازہ پر بات کی۔ اس کے بعد اپوزیشن لیڈر نے بھی بات کی۔ یہ کوئی طریقہ نہیں ہے جس طرح بات کی جا رہی ہے ۔آج کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ کمشنر کراچی جو تحقیقات کرے گی ۔کابینہ نے وزیر اعلی کی قیادت میں کمیٹی بنائی ہے ۔یہ کمیٹی سمجھتی ہے کہ اگر انکوائری ناکافی ہے تو عدالتی کمیشن بنائیں گے۔ہم چاہتے ہیں کہ ذمہ داروں کو سزا ملنی چاہئے ۔ اسمبلی کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ اس سانحے کی مکمل تحقیقات ہوگی۔ ایک ہفتے میں جو کچھ تحقیقات ہو اس کو سامنے آنے دیا جائے ۔اس مسئلے پر سیاست نہ کی جائے نہ اسمبلی کا ماحول خراب کیا جائے ۔جو مطالبہ یہ قراداد میں کر رہے ہیں وہ کام پہلے ہو رہا ہے۔سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ وزیر داخلہ نے اچھا بیان دیا ہے۔ ایک ایک نقطے پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ کراچی کے تاجروں سے حکومت سندھ پہلے دن سے ساتھ ہیں، تاجروں نے بھی اعتماد کا اظہار کیا۔ سانحہ گل پلازہ پر پانچ رکنی کمیٹی بنائی گئی ہے۔ اگر کمیٹی سمجھے گی تو جوڈیشل کمیشن بھی بن جائی گی۔ حکومت کسی کی ڈکٹیشن پر نہیں چلی گی۔شرجیل انعام میمن کے خطاب کے دوران ایم کیو ایم کے ارکان اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئے احتجاج شروع کردیا ۔شرجیل میمن نے اپوزیشن کے احتجاج پر کہا کہ انہوں نے جو کراچی کے لوگوں کے ساتھ کیا ہے وہ کوئی بھولا نہیں ہے۔لاہور سے فارنسک ٹیم گل پلازہ کا فارنسک کررہی ہے ۔ان لوگوں نے شہر میں خون کی ہولی کھولی ہے ۔حکومت لواحقین و تاجروں کے ساتھ کھڑی ہے ۔یہاں سیاست کرنے ڈرامے کرنے سے کام نہیں ہوگا۔اسی دوران اپوزیشن ارکان اسپیکر کے ڈائس کے سامنے کھڑے ہوگئے اور سندھ حکومت کے خلاف نعرے بازی شروع کردی ۔ ڈپٹی اسپیکر نے احتجاج کے باعث وقفہ سولاتکا انائونس کر دیا تاہم اپوزیشن کی جانب سے کوئی سوال نہیں کیا گیا۔بعد ازاں سندھ اسمبلی کا اجلاس جمعے کے روز صبح ساڑھے دس بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: سانحہ گل پلازہ پر جوڈیشل کمیشن سندھ اسمبلی اسمبلی کا نہیں ہے

پڑھیں:

دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری

گلگت:

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔

گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں، میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں، گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔

بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں،  سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے، قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار