سانحہ گل پلازہ، نئے انکشافات
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
گل پلازہ کے سانحے کو ایک ہفتہ گزرنے کے بعد کہا یہ جارہا ہے کہ عمارت کا 90 فی صد حصہ کلیئر کرالیا گیا ہے، تاہم 82 افراد تاحال لاپتا ہیں‘ اب تک 71 لاشیں اور انسانی باقیات اسپتال پہنچائی جاچکی ہیں۔ 10 سے 11 افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ اب بھی موجود ہے۔ ماہرین نے آگ کو سانحہ بلدیہ ٹائون سے مماثل قرار دے کر منصوبہ بندی سے جلانے کا خدشہ ظاہر کردیا ہے، ماہرین ِ آگ کا 11 منٹ میں پوری عمارت کو لپیٹ میں لے لینا مشکوک قرار دے رہے ہیں۔ کراچی جیسا میگا سٹی آج جس صورتحال سے دوچار ہے وہ کسی المیے سے کم نہیں، شہر کا اہم تجارتی مرکز چشم ِ زدن میں دیکھتے ہی دیکھتے جل کر خاکستر ہوگیا، ستر سے زائد افراد موت کے منہ میں چلے گئے، تاجروں کی زندگی بھر کی کمائی آگ کی نذر ہوگئی اور پولیس حکام اب تک اس امر کا تعین کر رہے ہیں کہ آگ بجھانے کے آلات موجود تھے یا نہیں اور یہ کہ کیا ہنگامی اخراج کے راستے قواعد کے مطابق بنائے گئے تھے یا نہیں۔ تحقیقاتی ٹیمیں ابھی تک عمارت کے نقشے اور حفاظتی این او سی کا جائزہ ہی لے رہی ہیں۔ کراچی کی موجودہ صورتحال اس امر کی کھلی دلیل ہے کہ حکومت کو کراچی اور کراچی کے عوام کو درپیش مسائل و مشکلات سے قطعاً کوئی سروکار نہیں، گل پلازہ کے سانحے کی تحقیقات میں واضح طور پر کہا جارہا ہے کہ آگ لگنے کی رفتار اور شدت روایتی شارٹ سرکٹ کے واقعات سے میل نہیں کھاتی، عام طور پر شارٹ سرکٹ کی صورت میں آگ دو چار دکانوں تک محدود رہتی ہے اور اس پر بروقت قابو پایا جا سکتا ہے، تاہم گل پلازہ کے کیس میں یہ سوال گردش کر رہا ہے کہ ایک ہی وقت میں اتنی زیادہ دکانیں آگ کی لپیٹ میں کیسے آ گئیں اتنی تیزی سے آگ کا پھیلنا کسی کیمیکل یا آتش گیر مادے کی موجودگی کے بغیر ممکن نہیں۔ کراچی میں جب بھی کوئی سانحہ رونما ہوتا ہے اس پر سوائے بیانات کے عملی طور پر کوئی قدم نہیں اٹھایا جاتا۔ حکومت کو چاہیے کہ اس سانحے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائے اور پلازہ انتظامیہ، مالکان یا سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی تک اس کی تحقیقات کا دائرہ وسیع کرے اور ایسے اقدامات کرے کہ آئندہ اس نوع کے سانحات رونما نہ ہوسکیں۔ محض کاغذی کارروائی نہیں حقیقی مجرموں کے خلاف ٹھوس اور عملی قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: گل پلازہ
پڑھیں:
جیفری ایپسٹین کیس سے جڑے معروف نام ڈینیئل سیاد کی فرانس میں پراسرار موت
امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے جاری کی گئی بدنام زمانہ ’جیفری ایپسٹین فائلز‘ میں بارہا نام آنے والے ماڈلنگ اسکاؤٹ ڈینیئل سیاد فرانس میں اپنے گھر میں مردہ پائے گئے ہیں۔
فرانسیسی پراسیکیوٹرز نے ان کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے پوسٹ مارٹم کرایا جائے گا، جبکہ ان کے خلاف جاری فوجداری تحقیقات بھی ان کی وفات کے باوجود جاری رہیں گی۔
یہ بھی پڑھیں:ایپسٹین فائلز کا نیا حصہ جاری، ٹرمپ سے متعلق الزامات پر مبنی ایف بی آئی انٹرویوز کی دستاویزات منظر عام پر
پراسیکیوٹرز کے مطابق 69 سالہ ڈینیئل سیاد کی لاش پیرس کے نواحی علاقے میں واقع ان کے گھر سے پیر کی شام برآمد ہوئی۔ ابتدائی طور پر ان کی موت کی وجہ سرکاری طور پر سامنے نہیں آئی، تاہم پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد حتمی مؤقف اختیار کیا جائے گا۔
وکیل کا دعویٰ، موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئیڈینیئل سیاد کی وکیل، مینیا عرب تیگرین نے کہا ہے کہ ان کے مؤکل کا انتقال دل کا دورہ پڑنے کے باعث ہوا۔ بعض فرانسیسی میڈیا اداروں نے بھی ابتدائی اطلاعات کے حوالے سے یہی امکان ظاہر کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ان کی لاش گھر کے کچن سے ایک خاتون نے دیکھی، جو اس وقت ان کے ساتھ رہ رہی تھیں، جبکہ ایک پڑوسی نے انہیں بچانے کے لیے ‘سی پی آر’ بھی کی، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے۔
ایپسٹین فائلز کے بعد تحقیقات کا دائرہ وسیع ہوافرانسیسی حکام نے رواں سال فروری میں انسانی اسمگلنگ اور ٹیکس فراڈ سے متعلق وسیع تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔ یہ کارروائی امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے ایپسٹین فائلز جاری ہونے کے بعد سامنے آنے والی معلومات کے تناظر میں کی گئی۔
مزید پڑھیں:ایپسٹین فائلز: بینک آف امریکا متاثرہ خواتین کیس میں تصفیے پر مجبور
پیرس کی پراسیکیوٹر لور بیکو نے بتایا کہ تحقیقات شروع ہونے کے بعد اب تک 24 خواتین خود کو متاثرہ یا گواہ کے طور پر سامنے لا چکی ہیں، جنہوں نے ڈینیئل سیاد یا دیگر افراد کے خلاف مختلف الزامات سے متعلق بیانات ریکارڈ کرائے۔
نگرانی جاری رہی، مگر گرفتاری کے لیے شواہد ناکافی قرارپراسیکیوٹرز کے مطابق تحقیقات کے دوران ڈینیئل سیاد کی فون نگرانی سمیت خصوصی تفتیشی اقدامات کیے گئے تھے، تاہم اب تک ایسے شواہد سامنے نہیں آئے تھے جو فوری گرفتاری کے لیے قانونی طور پر کافی سمجھے جاتے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تقریباً 10 تفتیش کار اس کیس پر کام کر رہے ہیں اور ڈینیئل سیاد کی وفات کے باوجود تحقیقات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
سیاد نے تمام الزامات مسترد کیے تھےفرانسیسی میڈیا کے مطابق کم از کم 5 خواتین نے ڈینیئل سیاد پر ریپ اور انسانی اسمگلنگ کے الزامات عائد کیے تھے، تاہم انہوں نے ہمیشہ ان الزامات کی تردید کی۔
ان کے وکیل کا کہنا تھا کہ سیاد نے متعدد بار فرانسیسی عدالتی حکام کے سامنے اپنا مؤقف پیش کرنے کی درخواست کی، مگر اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ وکیل کے مطابق ان کے مؤکل آخر وقت تک اپنی بے گناہی پر قائم رہے۔
جیفری ایپسٹین سے تعلق کی وضاحتڈینیئل سیاد نے رواں سال مئی میں فرانسیسی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا جیفری ایپسٹین کے ساتھ تعلق صرف پیشہ ورانہ نوعیت کا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:’ایپسٹین فائلز ’خالص جہنم‘ ہیں، مغربی ادارے بچوں کی اسمگلنگ چھپاتے رہے، ماسکو
تاہم امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے جاری کی گئی ایپسٹین فائلز میں دونوں کے درمیان ای میلز بھی شامل تھیں، جن میں ماڈلز سے متعلق گفتگو کا ذکر موجود تھا۔ انہی دستاویزات میں ڈینیئل سیاد کا نام تقریباً 2 ہزار مرتبہ سامنے آیا۔
فرانس میں ایپسٹین سے منسلک دوسرے شخص کی موتڈینیئل سیاد فرانس میں ایپسٹین سے تعلق رکھنے والے دوسرے نمایاں فرد ہیں جن کی موت ہوئی ہے۔اس سے قبل فرانسیسی ماڈلنگ ایجنٹ ژاں لوک برونیل کو 2020 میں گرفتار کیا گیا تھا۔
ان پر الزام تھا کہ انہوں نے جیفری ایپسٹین کے لیے خواتین فراہم کیں۔ برونیل 2022 میں مقدمے کی سماعت سے قبل جیل کی کوٹھڑی میں مردہ پائے گئے تھے۔ انہوں نے بھی اپنے خلاف تمام الزامات کی تردید کی تھی۔
امریکی سرمایہ کار جیفری ایپسٹین کو کم عمر لڑکیوں کی اسمگلنگ کے الزامات کا سامنا تھا۔ وہ 2019 میں نیویارک کی جیل میں ٹرائل سے قبل مردہ پائے گئے تھے، جبکہ سرکاری طور پر ان کی موت کو خودکشی قرار دیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:ایپسٹین فائلز نے میری ازدواجی زندگی کی تکلیف دہ یادیں تازہ کر دیں، میلنڈا فرنچ گیٹس
بعد ازاں ان سے متعلق عدالتی دستاویزات اور ‘ایپسٹین فائلز’ منظرِ عام پر آنے کے بعد دنیا بھر میں کئی افراد اور نیٹ ورکس کی سرگرمیاں دوبارہ تحقیقاتی اداروں کی توجہ کا مرکز بن گئیں۔
ڈینیئل سیاد بھی انہی تحقیقات کے سلسلے میں فرانسیسی حکام کی زیرِ نگرانی تھے، تاہم ان کی وفات کے باوجود متعلقہ تحقیقات جاری رہیں گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی محکمہ انصاف انسانی اسمگلنگ پراسرار موت جیفری ایپسٹین ڈینیئل سیاد ریپ فائلز فرانس فرانسیسی میڈیا مردہ حالت وکیل