والڈ سٹی لاہور، 346 عمارتیں خطرناک قرار دے دی گئیں
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
لاہور (نیوزڈیسک)بسنت سے قبل والڈ سٹی لاہور میں خطرناک اور خستہ حال عمارتوں کا سروے مکمل کر کے رپورٹ لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرا دی گئی۔ والڈ سٹی لاہور میں انتہائی خستہ خطرناک بانوے عمارتیں خالی کرا لی گئیں۔
بسنت کی اجازت دینے کے خلاف درخواست میں والڈ سٹی اتھارٹی لاہور نے تحریری رپورٹ لاہور ہائیکورٹ میں پیش کر دی رپورٹ کے مطابق والڈ سٹی لاہور میں مجموعی طور پر346 عمارتیں خطرناک قرار دے دی گئیں۔ ان خطرناک خستہ حال عمارتوں میں سے ایک سوتراسی عمارتیں ناقابل مرمت قرارجبکہ ایک سوریسٹھ عمارتیں قابل مرمت قراردی گئی ہیں۔
والڈ سٹی لاہورمیں انتہائی خطرناک بانوے عمارتیں خالی کرا لی گئیں دوسوچون خطرناک عمارتیں تاحال آباد ہیں خالی نہیں کرائی جا سکیں۔ خالی کرائی گئی عمارتوں میں اسی عمارتیں قابل مسمار جبکہ بارہ قابل مرمت قراردی گئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق خطرناک عمارتوں کی چھتیں بسنت سرگرمیوں کے لئےغیرمحفوظ ہیں۔ غیرمحفوظ عمارتوں کی چھتوں کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کے لئے اقدامات کئےجا رہے ہیں۔والڈ سٹی اتھارٹی کی جانب سے وارننگ نوٹسزاورآگاہی بینرزآویزاں کئے جا رہے ہیں۔ بسنت کے دوران کسی ناخوشگوار واقعہ سے بچاؤ کےلئے حفاظتی اقدامات شروع کردیئےگئےہیں۔
بسنت کے دوران پولیس اور پیرا فورس تعینات کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
لاہور بلدیاتی الیکشن، 159 یوسیز کا اضافہ، مجموعی تعداد 433 ہوگئی
فائل فوٹوڈسٹرکٹ الیکشن کمیشن نےلاہور میں بلدیاتی الیکشن کی نئی حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی ہے، جن میں 159 یونین کونسلز کا اضافہ کیا گیا ہے۔
صوبائی دارالحکومت میں مجموعی طور پر 433 یونین کونسلز بنائی گئی ہیں، 2015 کے بلدیاتی الیکشن میں لاہور میں 274 یونین کونسلز تھیں۔
ڈسٹرکٹ الیکشن کمیشن لاہور کی ابتدائی فہرست کے مطابق راوی ٹاؤن 52، شالیمار میں 72، واہگہ ٹاؤن میں 25 یونین کونسل قائم کی گئی ہیں۔
ماڈل ٹاؤن میں 77، نشتر ٹاؤن میں 40 اور صدر کینٹ میں 29، رائے ونڈ سٹی میں 32، لاہور سٹی میں 69 اور علامہ اقبال ٹاؤن میں 37 یونین کونسل بنائی گئی ہیں۔
لاہور کے شہری 23 جون تک حلقہ بندیوں پر اعتراضات دائر کرسکتے ہیں، حلقہ بندیوں کی حتمی فہرست 10 اگست کو جاری ہوگی۔