لاہور میں بسنت سے قبل 346 عمارتیں خطرناک قرار، والڈ سٹی اتھارٹی کی ہائیکورٹ میں رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
لاہور:
پتنگ بازی کی اجازت کے خلاف درخواست کی سماعت کے دوران والڈ سٹی اتھارٹی نے اپنی رپورٹ لاہور ہائیکورٹ میں جمع کروا دی۔
رپورٹ کے مطابق بسنت سے قبل والڈ سٹی اتھارٹی نے لاہور میں خطرناک اور خستہ حال عمارتوں کا سروے مکمل کر لیا گیا ہے۔
والڈ سٹی اتھارٹی نے بتایا کہ علاقے میں مجموعی طور پر 346 عمارتیں خطرناک قرار دی گئی ہیں، جن میں سے 183 عمارتیں ناقابل مرمت جبکہ 163 قابل مرمت ہیں۔
رپورٹ کے مطابق انتہائی خستہ اور خطرناک 92 عمارتیں خالی کروا لی گئی ہیں، تاہم 254 خطرناک عمارتیں تاحال آباد ہیں جنہیں خطرے کے باوجود خالی نہیں کروایا جا سکا۔ آباد عمارتوں میں سے 103 ناقابل مرمت اور 151 قابل مرمت قرار دی گئی ہیں۔
مزید پڑھیںبسنت پر اشتعال انگیزی روکنے کیلئے دفعہ 144 نافذ، بڑی پابندیاں عائد
پنجاب حکومت نے کن شرائط پر بسنت کی اجازت دی ہے؟
مریم نواز کا پنجاب میں تین روزہ بسنت فیسٹیول کا اعلان
اتھارٹی کے مطابق خالی کروائی گئی عمارتوں میں سے 80 عمارتیں قابل مسمار جبکہ 12 قابل مرمت ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خطرناک عمارتوں کی چھتیں بسنت کی سرگرمیوں کے لیے غیر محفوظ ہیں۔
والڈ سٹی اتھارٹی نے غیر محفوظ چھتوں کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ وارننگ نوٹسز اور آگاہی بینرز بھی آویزاں کیے جا رہے ہیں تاکہ بسنت کے دوران کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
رپورٹ میں ضلعی انتظامیہ سے درخواست کی گئی ہے کہ خطرناک چھتوں اور عمارتوں کے حصے سیل کیے جائیں جبکہ بسنت کے دوران پولیس اور پیرا فورس تعینات کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: والڈ سٹی اتھارٹی نے
پڑھیں:
لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
لاہور میں مون سون کی شدید بارشوں نے معمولات زندگی متاثر کر دیے، کئی علاقوں میں سڑکیں، چوراہے اور انڈر پاسز پانی میں ڈوب گئے جبکہ ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران شہر میں 343 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث متعدد نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا۔
لاہور کے مختلف علاقوں میں بارش کا پانی جمع ہونے سے شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض سڑکوں اور گلیوں میں 3 سے 4 فٹ تک پانی کھڑا رہا، جبکہ کئی مقامات پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں بارش کے بعد کئی علاقے زیر آب، ’اب آفس جانےکے لیے کشتی کی ضرورت ہوگی‘
ڈیفنس کے فیز ون سے فیز فائیو تک مختلف مقامات پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک متاثر ہوئی، جبکہ غازی انڈر پاس اور مسجد چوک انڈر پاس کو پانی بھرنے کے باعث بند کرنا پڑا اور ٹریفک کو متبادل راستوں پر منتقل کیا گیا۔
حربنس پورہ، مال روڈ، کوپر روڈ، لکشمی چوک اور چوبرجی چوک سمیت متعدد علاقوں میں بھی پانی جمع ہونے کی اطلاعات ملیں، جہاں واسا کی ٹیمیں نکاسی آب میں مصروف رہیں۔
شدید بارش کے باعث شہر کی کئی سڑکوں پر گڑھے بھی پڑ گئے۔ کینال روڈ، جوہر ٹاؤن مین بلیوارڈ اور بھیکے والا موڑ سمیت مختلف مقامات پر سڑکیں متاثر ہوئیں، جس کے بعد ٹریفک پولیس نے متاثرہ علاقوں کو بند کرکے متبادل راستے فراہم کیے۔
یہ بھی پڑھیں: مون سون سیزن: لاہور سے ایک گھنٹے میں بارش کا پانی نکالنا ہدف ہے، ڈی ایم ڈی واسا
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق پنجاب میں حالیہ مون سون بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں اب تک 21 افراد جاں بحق اور 154 زخمی ہو چکے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں 15 افراد مکانات گرنے، 2 آسمانی بجلی گرنے، 3 کرنٹ لگنے جبکہ ایک شخص ڈوبنے سے جاں بحق ہوا۔
واسا لاہور کے مطابق شہر میں ہنگامی بنیادوں پر نکاسی آب کا عمل جاری ہے، تمام ڈسپوزل اسٹیشن مکمل استعداد کے ساتھ کام کر رہے ہیں جبکہ متاثرہ مقامات پر اضافی مشینری اور عملہ تعینات کیا گیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ اور واسا نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے، نشیبی علاقوں اور بجلی کے کھمبوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔ شہریوں نے تاہم ہر سال بارشوں کے دوران پانی جمع ہونے کے مسئلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بارش پانی زیر آب لاہور