لاہور:

پتنگ بازی کی اجازت کے خلاف درخواست کی سماعت کے دوران والڈ سٹی اتھارٹی نے اپنی رپورٹ لاہور ہائیکورٹ میں جمع کروا دی۔

رپورٹ کے مطابق بسنت سے قبل والڈ سٹی اتھارٹی نے لاہور میں خطرناک اور خستہ حال عمارتوں کا سروے مکمل کر لیا گیا ہے۔

والڈ سٹی اتھارٹی نے بتایا کہ علاقے میں مجموعی طور پر 346 عمارتیں خطرناک قرار دی گئی ہیں، جن میں سے 183 عمارتیں ناقابل مرمت جبکہ 163 قابل مرمت ہیں۔

رپورٹ کے مطابق انتہائی خستہ اور خطرناک 92 عمارتیں خالی کروا لی گئی ہیں، تاہم 254 خطرناک عمارتیں تاحال آباد ہیں جنہیں خطرے کے باوجود خالی نہیں کروایا جا سکا۔ آباد عمارتوں میں سے 103 ناقابل مرمت اور 151 قابل مرمت قرار دی گئی ہیں۔

مزید پڑھیں

بسنت پر اشتعال انگیزی روکنے کیلئے دفعہ 144 نافذ، بڑی پابندیاں عائد

پنجاب حکومت نے کن شرائط پر بسنت کی اجازت دی ہے؟

مریم نواز کا پنجاب میں تین روزہ بسنت فیسٹیول کا اعلان

اتھارٹی کے مطابق خالی کروائی گئی عمارتوں میں سے 80 عمارتیں قابل مسمار جبکہ 12 قابل مرمت ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خطرناک عمارتوں کی چھتیں بسنت کی سرگرمیوں کے لیے غیر محفوظ ہیں۔

والڈ سٹی اتھارٹی نے غیر محفوظ چھتوں کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ وارننگ نوٹسز اور آگاہی بینرز بھی آویزاں کیے جا رہے ہیں تاکہ بسنت کے دوران کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

رپورٹ میں ضلعی انتظامیہ سے درخواست کی گئی ہے کہ خطرناک چھتوں اور عمارتوں کے حصے سیل کیے جائیں جبکہ بسنت کے دوران پولیس اور پیرا فورس تعینات کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: والڈ سٹی اتھارٹی نے

پڑھیں:

لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی

لاہور میں نجی کوریئر کمپنی کی وین کے ڈرائیور سے بدتمیزی کرنے پر ٹریفک وارڈن کو معطل کر دیا گیا۔

سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے فوری ایکشن لیتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایس پی صدر کو انکوائری کا حکم دے دیا۔

ٹریفک پولیس افسر کا کہنا تھا کہ انکوائری رپورٹ کی روشنی میں مزید کارروائی ہوگی، شہریوں سے حسنِ سلوک پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

سی ٹی او لاہور نے ٹریفک پولیس میں نظم و ضبط اور عوامی احترام اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اختیارات کے ناجائز استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی، انکوائری مکمل ہونے پر حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔

شہری کے مطابق ٹریفک وارڈن نے رکنے کا اشارہ کیا لیکن اشارہ نظر نہیں آیا، تاہم آگے جا کر رکا جس پر ٹریفک وارڈن نے گاڑی کے اندر سوار ہو کر تشدد کا نشانہ بنایا اور گالم گلوچ کی۔ موقع پر وارڈن نے آن لائن چالان بھی جمع کروایا۔

متعلقہ مضامین

  • لاہور میں ہونیوالی ’’شہید اُمت کانفرنس‘‘ میں ایک اور نشست کا اضافہ
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے