سندھ ہائیکورٹ نے کراچی یونیورسٹی میں اسٹوڈنٹ یونین انتخابات کی درخواست جرمانے کے ساتھ خارج
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
سندھ ہائیکورٹ نے کراچی یونیورسٹی میں اسٹوڈنٹ یونین انتخابات کی اجازت دینے کی درخواست خارج کر دی اور درخواست گزاروں پر فریولس لٹیگیشن کے الزام میں 10 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کردیا۔
بدھ کے روز سندھ ہائیکورٹ جسٹس عدنان الحق کریم میمن اور جسٹس ذوالفقار علی سانگی پر مشتمل 2 رکنی بنچ نے کراچی یونیورسٹی میں اسٹوڈنٹ یونین انتخابات کے لیے دائر درخواست پر سماعت کی، دوران جسٹس میمن نے اسٹوڈنٹ یونینز پر پابندی ہٹانے کی ضرورت پر سوال اٹھایا اور کہا کہ تعلیمی نظام پہلے ہی مشکلات کا شکار ہے، اسے مزید خراب کیوں کرنا چاہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری منسوخ، جامعہ کراچی نے نوٹیفکیشن جاری کردیا
جسٹس میمن نے وکیل عثمان فاروق سے استفسار کیا کہ اسٹوڈنٹ یونین کا مقصد اور فائدہ کیا ہے۔ وکیل نے جواب دیا کہ یونین کا مقصد طلبہ کو پالیسی سازی میں نمائندگی فراہم کرنا ہے۔ جسٹس میمن نے کہا، “جیسے فیکٹریوں میں لیبر یونینز ہیں، کیا طلبہ اب وائس چانسلرز کو دھمکانا چاہتے ہیں؟”
عدالت نے نوٹ کیا کہ درخواست کے فائل میں 2021 کے دستاویزات شامل ہیں اور استفسار کیا کہ آیا درخواست گزار اب بھی طلبہ ہیں۔ بعد ازاں بنچ نے مختصر حکم جاری کرتے ہوئے درخواست کو خارج کر دیا اور طلبہ پر 10 ہزار روپے جرمانہ عائد کرنے کا حکم دیا۔
درخواست کراچی کے رہائشی تیمور احمد، محمد باسق بن ندیم اور حسن احمد نے آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت دائر کی تھی۔ سندھ حکومت، یونیورسٹی کے رجسٹرار اور وائس چانسلر، اور سندھ اسمبلی کے اسپیکر کو اس کیس میں فریق بنایا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی طلبہ بھارتیوں پر سبقت لے گئے
درخواست میں عدالت سے کہا گیا تھا کہ وہ فریقین کو ہدایت دے کہ وہ سندھ اسٹوڈنٹ یونین ایکٹ 2019، یونیورسٹی آف کراچی ایکٹ 1972 اور آئین کے مطابق فوری طور پر اسٹوڈنٹ یونین انتخابات کا آغاز کریں۔
اس کے ساتھ ہی عدالت سے درخواست کی گئی تھی کہ کراچی یونیورسٹی انتخابات کے لیے قواعد و ضوابط مرتب کرے تاکہ الیکشن شفاف اور منصفانہ ہوں۔
یاد رہے کہ سندھ میں اسٹوڈنٹ یونینز پر پابندی 1979 میں عائد کی گئی تھی اور اسے 1984 میں سابق مارشل لا حکمران جنرل ضیا الحق نے پورے ملک میں بڑھا دیا تھا۔
یہ پابندیاں 1988 میں سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کی پہلی حکومت نے ختم کیں، لیکن 1993 میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بنچ نے سیاسی نوعیت کی اسٹوڈنٹ یونینز پر پابندی عائد کردی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹوڈنٹس یونین بحالی سے متعلق درخواست پر اٹارنی جنرل کونوٹس جاری
یہ پابندی آج تک طلبہ کو یونیورسٹی کے پالیسی سازی کے عمل میں حصہ لینے سے روک رہی ہے۔ دسمبر 2024 میں سپریم کورٹ کے آئینی بنچ نے تعلیمی اداروں میں اسٹوڈنٹ یونینز پر دہائیوں پرانی پابندی کو چیلنج کرنے والی درخواستیں سماعت کے لیے منظور کر لیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news انتخابات درخواست مسترد سندھ ہائیکورٹ طلبہ یونین کراچی یونیورسٹی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انتخابات درخواست مسترد سندھ ہائیکورٹ طلبہ یونین کراچی یونیورسٹی میں اسٹوڈنٹ یونین اسٹوڈنٹ یونینز پر کراچی یونیورسٹی سندھ ہائیکورٹ کے لیے
پڑھیں:
طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کے لیے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے آئندہ مالی سال میں 50ہزار الیکٹرک بائیکس اور 5 ہزار الیکٹرک ٹیکسیاں بلاسود فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق الیکٹرک بائیکس اور ای ٹیکسیوں کی بلاسود فراہمی کی تجویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو سستی اور ماحول دوست سفری سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب بلال اکبر خان کے مطابق ای ٹیکسی اسکیم کے تحت مستحق افراد کو آسان اقساط اور بلاسود فنانسنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی جبکہ رجسٹریشن سمیت مختلف مراعات بھی دی جائیں گی۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور انہیں معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
بلال اکبر خان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔حکومت کی جانب سے اس اسکیم کی مزید تفصیلات اور اہلیت کے معیار آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں جاری کیے جانے کا امکان ہے۔