سندھ ہائیکورٹ نے کراچی یونیورسٹی میں اسٹوڈنٹ یونین انتخابات کی اجازت دینے کی درخواست خارج کر دی اور درخواست گزاروں پر فریولس لٹیگیشن کے الزام میں  10 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کردیا۔

بدھ کے روز سندھ ہائیکورٹ جسٹس عدنان الحق کریم میمن اور جسٹس ذوالفقار علی سانگی پر مشتمل 2 رکنی بنچ نے کراچی یونیورسٹی میں اسٹوڈنٹ یونین انتخابات کے لیے دائر درخواست پر سماعت کی، دوران جسٹس میمن نے اسٹوڈنٹ یونینز پر پابندی ہٹانے کی ضرورت پر سوال اٹھایا اور کہا کہ تعلیمی نظام پہلے ہی مشکلات کا شکار ہے، اسے مزید خراب کیوں کرنا چاہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری منسوخ، جامعہ کراچی نے نوٹیفکیشن جاری کردیا

جسٹس میمن نے وکیل عثمان فاروق سے استفسار کیا کہ اسٹوڈنٹ یونین کا مقصد اور فائدہ کیا ہے۔ وکیل نے جواب دیا کہ یونین کا مقصد طلبہ کو پالیسی سازی میں نمائندگی فراہم کرنا ہے۔ جسٹس میمن نے کہا، “جیسے فیکٹریوں میں لیبر یونینز ہیں، کیا طلبہ اب وائس چانسلرز کو دھمکانا چاہتے ہیں؟”

عدالت نے نوٹ کیا کہ درخواست کے فائل میں 2021 کے دستاویزات شامل ہیں اور استفسار کیا کہ آیا درخواست گزار اب بھی طلبہ ہیں۔ بعد ازاں بنچ نے مختصر حکم جاری کرتے ہوئے درخواست کو خارج کر دیا اور طلبہ پر 10 ہزار روپے جرمانہ عائد کرنے کا حکم دیا۔

درخواست کراچی کے رہائشی تیمور احمد، محمد باسق بن ندیم اور حسن احمد نے آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت دائر کی تھی۔ سندھ حکومت، یونیورسٹی کے رجسٹرار اور وائس چانسلر، اور سندھ اسمبلی کے اسپیکر کو اس کیس میں فریق بنایا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی طلبہ بھارتیوں پر سبقت لے گئے

درخواست میں عدالت سے کہا گیا تھا کہ وہ فریقین کو ہدایت دے کہ وہ سندھ اسٹوڈنٹ یونین ایکٹ 2019، یونیورسٹی آف کراچی ایکٹ 1972 اور آئین کے مطابق فوری طور پر اسٹوڈنٹ یونین انتخابات کا آغاز کریں۔

اس کے ساتھ ہی عدالت سے درخواست کی گئی تھی کہ کراچی یونیورسٹی انتخابات کے لیے قواعد و ضوابط مرتب کرے تاکہ الیکشن شفاف اور منصفانہ ہوں۔

یاد رہے کہ سندھ میں اسٹوڈنٹ یونینز پر پابندی 1979 میں عائد کی گئی تھی اور اسے 1984 میں سابق مارشل لا حکمران جنرل ضیا الحق نے پورے ملک میں بڑھا دیا تھا۔

یہ پابندیاں 1988 میں سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کی پہلی حکومت نے ختم کیں، لیکن 1993 میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بنچ نے سیاسی نوعیت کی اسٹوڈنٹ یونینز پر پابندی عائد کردی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: اسٹوڈنٹس یونین بحالی سے متعلق درخواست پر اٹارنی جنرل کونوٹس جاری

یہ پابندی آج تک طلبہ کو یونیورسٹی کے پالیسی سازی کے عمل میں حصہ لینے سے روک رہی ہے۔ دسمبر 2024 میں سپریم کورٹ کے آئینی بنچ نے تعلیمی اداروں میں اسٹوڈنٹ یونینز پر دہائیوں پرانی پابندی کو چیلنج کرنے والی درخواستیں سماعت کے لیے منظور کر لیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news انتخابات درخواست مسترد سندھ ہائیکورٹ طلبہ یونین کراچی یونیورسٹی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: انتخابات درخواست مسترد سندھ ہائیکورٹ طلبہ یونین کراچی یونیورسٹی میں اسٹوڈنٹ یونین اسٹوڈنٹ یونینز پر کراچی یونیورسٹی سندھ ہائیکورٹ کے لیے

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری