’اب بس‘: تھائی لینڈ نے ہاتھیوں کو مانع حمل ویکسین دینی شروع کردی
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
تھائی لینڈ نے جنگلی ہاتھیوں کی بڑھتی ہوئی آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک بے مثال اقدام کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت: ’سیریل کلر ہاتھی‘ نے ماہ رواں میں 20 افراد کو موت کے گھاٹ اتاردیا
ملک کے وائلڈ لائف کنزرویشن حکام نے بدھ کو بتایا کہ ملک میں پہلی بار جنگلی ہاتھیوں کو مانع حمل ویکسین دی گئی۔
وائلڈ لائف کنزرویشن آفس کی ڈائریکٹر سکھی بونسانگ کے مطابق سوموار کو جنوب مشرقی صوبہ ترات میں 3 مادہ ہاتھیوں کو ویکسین دی گئی۔
اس اقدام کی ضرورت اس لیے محسوس کی گئی کہ ملک کے 5 مشرقی صوبوں میں ہاتھیوں کی سالانہ پیدائش کی شرح تقریباً 8 فیصد ہے جبکہ دیگر علاقوں میں یہ شرح 3 فیصد ہے۔
ویٹرینری ڈاکٹرز اور حکام نے ہاتھیوں کو ڈارٹ گن کے ذریعے بغیر نشہ کے ویکسین دی اور مزید 15 خوراکیں ملک کے دیگر ہاتھیوں کو دی جائیں گی تاکہ اس سال کی بارشوں کے موسم شروع ہونے سے پہلے آبادی کو کنٹرول کیا جا سکے۔
مزید پڑھیے: بھارت میں جنگلی ہاتھیوں کی آبادی میں 25 فیصد کمی، وجوہات کیا ہیں؟
اعداد و شمار کے مطابق تھائی لینڈ میں جنگلی ہاتھیوں کی تعداد سنہ 2015 میں 334 تھی جو گزشتہ سال تقریباً 800 تک پہنچ گئی جبکہ کیپٹیوٹی میں اور ہزاروں ہاتھی موجود ہیں۔
ہاتھیوں کی بڑھتی ہوئی آبادی انسانوں کے لیے خطرہ بھی بن گئی ہے۔ سنہ 2012 کے بعد تقریباً 200 انسانی ہلاکتیں اور 100 ہاتھیوں کی اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔
مزید پڑھیں: سری لنکا میں ہاتھی تیزی سے مرنے لگے، سبب کیا ہے؟
تھائی لینڈ کے قومی جانور ایشین ہاتھی کو عالمی سطح پر خطرے سے دوچار قرار دیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
تھائی لینڈ تھائی لینڈ میں ہاتھیوں کی بڑھتی آبادی ہاتھیوں کو مانع حمل ادویات.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: تھائی لینڈ تھائی لینڈ ہاتھیوں کی ویکسین دی
پڑھیں:
پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
پشاور:خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور سمیت صوبے کے متعدد اضلاع میں بجلی کا طویل اور غیر معمولی بریک ڈاؤن شہریوں کے لیے عذاب بن گیا۔
شدید آندھی اور طوفان کے بعد شام تقریباً 6 بجے اچانک بجلی کی فراہمی معطل ہوئی جو کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود مکمل طور پر بحال نہ ہو سکی۔
بجلی کی بندش کے باعث پشاور، مردان، چارسدہ، نوشہرہ اور دیگر متاثرہ علاقوں میں شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
گرمی اور حبس کے باعث گھروں میں موجود بچوں، بزرگوں اور مریضوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔
مزید پڑھیںپشاور سے کراچی تک نئی عوام ایکپریس ٹرین سروس شروع
شہریوں کا کہنا ہے کہ آندھی شروع ہوتے ہی بجلی غائب ہوگئی تاہم طوفان کے خاتمے کے کئی گھنٹے بعد بھی بجلی بحال نہ ہونا متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ متعدد علاقوں میں لوگ رات گئے تک بجلی کی واپسی کے منتظر رہے۔
دوسری جانب پیسکو حکام کے مطابق طوفانی موسم کے باعث بجلی کے ترسیلی نظام میں فنی خرابی پیدا ہوئی ہے جس کے باعث مختلف فیڈرز متاثر ہوئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تکنیکی ٹیمیں بحالی کے لیے کام کر رہی ہیں اور مرحلہ وار بجلی کی فراہمی بحال کی جا رہی ہے۔