دبئی میں دنیا کی پہلی سونے سے تیارکی جانے والی سڑک کی تعمیر شروع
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
دبئی: دبئی میں دنیا کی پہلی سونے سے تیار کی جانے والی سڑک کی تعمیر شروع کردی گئی ہے۔
متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی میں اس نہایت منفرد اور عالمی سطح پر توجہ حاصل کرنے والے منصوبے نے پوری دنیا میں تہلکہ مچا دیا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق گولڈ اسٹرکٹ کی تعمیر سے یہ سونے اور زیورات کے کاروبار کے لیے ایک شاہکار اور نیا عالمی مرکز بنے گا۔
دبئی گولڈ ڈسٹرکٹ میں بننے والی گولڈ اسٹریٹ کو خصوصی طور پر سونے کے عناصر کے ساتھ ڈیزائن کیا جائے گا تاکہ اسے دنیا بھر سے آنے والے سیاحوں اور خریداروں کے لیے ایک یادگار جگہ بنایا جا سکے۔
امارات میں سونے کی سڑک کی تعمیر کا مقصد صرف آرائش یا دلکشی نہیں بلکہ دبئی کو سونے، چاندی کے زیورات کے عالمی تجارتی نقشے پر سب سے منفرد اور جدید مقام بنانا ہے۔
اس گولڈ ڈسٹرکٹ کو سونے کے گھر کے طور پر قائم کیا جا رہا ہے۔ جہاں ریٹیل، ہول سیل، سرمایہ کاری اور زیورات کی پوری ویلیو چین ایک ہی چھت کے نیچے دستیاب ہوں گی۔ جہاں عالمی شہرت یافتہ برانڈز سمیت ایک ہزار سے زائد ریٹیلرز کام کریں گے۔
گولڈ ڈسٹرکٹ نہ صرف سونے اور زیورات کے کاروبار کا مرکز ہوگا بلکہ بین الاقوامی سیاحوں، خریداروں اور سرمایہ کاروں کے لیے بھی ایک بڑا سیاحتی مقام بننے کی توقع ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کی تعمیر
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔