بنگلا دیش میں مقامی سطح پر ڈرونز کی تیاری کا آغاز، ایئر فورس اور چینی کمپنی کے درمیان اہم معاہدہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ڈھاکا:بنگلا دیش نے دفاعی شعبے میں خود انحصاری کی جانب ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے مقامی سطح پر ڈرونز کی تیاری کے لیے بنگلا دیش ایئر فورس اور چائنا الیکٹرانکس ٹیکنالوجی گروپ کارپوریشن (سی ای ٹی سی) انٹرنیشنل کے درمیان باقاعدہ معاہدہ طے کر لیا ہے۔ اس معاہدے کو بنگلا دیش کے دفاعی اور تکنیکی شعبے میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
بنگلا دیش کے انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے مطابق یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ فریم ورک کے تحت طے پایا ہے۔ معاہدے کے تحت بنگلا دیش میں جدید ڈرونز کی پیداوار، اسمبلنگ سہولیات کے قیام اور ٹیکنالوجی کی منتقلی شامل ہے، جس سے ملکی دفاعی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق اس معاہدے کے تحت بنگلا دیش ایئر فورس اور سی ای ٹی سی انٹرنیشنل مشترکہ طور پر بنگلا دیش میں جدید ترین ڈرونز کی تیاری اور اسمبلنگ کے مراکز قائم کریں گے، ان مراکز میں نہ صرف ڈرونز کی اسمبلنگ کی جائے گی بلکہ مستقبل میں مکمل پیداوار کی صلاحیت بھی حاصل کی جائے گی، جس سے بنگلا دیش کو ڈرون ٹیکنالوجی کے شعبے میں طویل مدتی خود کفالت حاصل ہو سکے گی۔
اس منصوبے میں ٹیکنالوجی کی منتقلی، مقامی افرادی قوت کی تربیت، استعداد کار میں اضافہ اور صنعتی و تکنیکی مہارتوں میں بہتری شامل ہوگی، اس تعاون کا مقصد بنگلا دیش کو ڈرونز کی تیاری کے میدان میں ایک مضبوط اور خود انحصار ملک بنانا ہے تاکہ مستقبل میں دفاعی ضروریات کے لیے بیرونی انحصار کم سے کم ہو۔
ابتدائی مرحلے میں بنگلا دیش ایئر فورس کو مختلف اقسام کے میڈیم آلٹی ٹیوڈ لو اینڈیورینس (MALE) ڈرونز اور ورٹیکل ٹیک آف اینڈ لینڈنگ (VTOL) ڈرونز تیار اور اسمبل کرنے کی صلاحیت حاصل ہوگی۔ یہ ڈرونز نگرانی، انٹیلی جنس، ریکی اور دیگر دفاعی مقاصد کے لیے استعمال کیے جا سکیں گے جو بنگلا دیش کی فضائی دفاعی صلاحیتوں میں اہم اضافہ ثابت ہوں گے۔
مزید برآں اس منصوبے کے ذریعے بنگلا دیش ایئر فورس کو مقامی سطح پر اپنے ڈیزائن کردہ ڈرونز تیار کرنے کا موقع بھی ملے گا یہ ڈرونز نہ صرف عسکری کارروائیوں میں بلکہ امدادی سرگرمیوں، قدرتی آفات سے نمٹنے، سرچ اینڈ ریسکیو آپریشنز اور دیگر شہری مقاصد کے لیے بھی استعمال کیے جا سکیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بنگلا دیش ایئر فورس ڈرونز کی تیاری کے لیے
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔