عمران خان ملاقات: بتایانہیں جارہاکہ کس بیماری کی وجہ سےاسپتال لایا گیا، بیرسٹرگوہر
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
اسلام آباد :چیئرمین تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ان کی آخری ملاقات 20 دسمبر کو ہوئی تھی، جس کے بعد آج تک پارٹی قیادت کو ملاقات کے لیے نہیں بلایا گیا۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ملاقات کے لیے باقاعدہ طور پر پٹیشن بھی دائر کی گئی، اس کے باوجود اجازت نہیں دی گئی، جو انتہائی تشویشناک امر ہے۔
بیرسٹر گوہر نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی کا مطالبہ ہے کہ اگر آج ملاقات ممکن نہیں تو کم از کم کل بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروائی جائے، ملاقات نہ ہونے کی وجہ سے نہ صرف پارٹی قیادت بلکہ عمران خان کے اہلِ خانہ میں بھی بے چینی پائی جا رہی ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے اس دوران میڈیا میں گردش کرنے والی ان خبروں پر بھی سخت ردِعمل دیا جن میں دعویٰ کیا گیا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو جیل سے اسپتال منتقل کیا گیا اور بعد ازاں دوبارہ جیل واپس لے جایا گیا، ان خبروں نے پارٹی اور خاندان میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے کیونکہ یہ واضح نہیں کیا جا رہا کہ عمران خان کو کس بیماری یا طبی مسئلے کے باعث اسپتال لے جایا گیا تھا، اس طرح کی غیر واضح اور نامکمل معلومات پر مبنی خبروں کی وہ شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔
اس سے قبل جاری کیے گئے ایک بیان میں بیرسٹر گوہر نے ملاقاتوں کے حوالے سے اپنی پوزیشن مزید واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہر منگل کو اڈیالہ جیل جاتے ہیں اور اس وقت تک وہاں موجود رہتے ہیں جب تک پولیس انہیں آگے جانے سے روک نہ دے، ملاقات کا وقت ختم ہونے پر وہ واپس آ جاتے ہیں اور گزشتہ روز بھی انہوں نے یہی طریقہ اختیار کیا تھا۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے سوشل میڈیا ایکٹوسٹس، ویلاگرز، یوٹیوبرز اور مین اسٹریم میڈیا سے بھی اپیل کی کہ بانی پی ٹی آئی سے متعلق ملاقاتوں کے حوالے سے کسی بھی خبر کو نشر یا شائع کرنے سے قبل پارٹی کے سیکریٹری اطلاعات سے تصدیق ضرور کی جائے، انہیں نہ حکومت کی جانب سے اور نہ ہی جیل حکام کی طرف سے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی کوئی پیشکش کی گئی، اس لیے کسی کے ساتھ جانے یا نہ جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی سے متعلق خبریں، خاص طور پر ملاقاتوں سے جڑی اطلاعات، انتہائی سنجیدہ نوعیت کی ہوتی ہیں اور انہیں نام نہاد یا غیر مصدقہ ذرائع کی بنیاد پر زیر بحث لانا غیر ذمہ دارانہ عمل ہے، ایسی خبروں سے نہ صرف کنفیوژن پھیلتا ہے بلکہ عوام میں بے یقینی بھی پیدا ہوتی ہے۔
پی ٹی آئی قیادت کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی صحت، قانونی حقوق اور ملاقاتوں کا معاملہ پارٹی کے لیے اولین ترجیح ہے اور اس حوالے سے ہر قانونی اور آئینی راستہ اختیار کیا جائے گا، شفافیت اور واضح معلومات کی فراہمی نہ صرف سیاسی ماحول کے لیے ضروری ہے بلکہ یہ عوام کے اعتماد کی بحالی کے لیے بھی ناگزیر ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل بانی پی ٹی آئی سے کہ بانی پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کے لیے
پڑھیں:
سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ اگر اس مرتبہ بھی انہیں دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو 10 جون کو ملک بھر سے پارلیمنٹیرین اسلام آباد پہنچ کر قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے اور وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے۔اڈیالہ روڈ سے روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو میں سہیل آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا حکومت بانی پی ٹی آئی کی جماعت کی حکومت ہے اور صوبے کے عوام نے بانی پی ٹی آئی کو ووٹ دیا ہے، اس لیے عوام کی خواہش ہے کہ صوبائی بجٹ ان کی ہدایات اور ترجیحات کے مطابق مرتب کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ بجٹ کے حوالے سے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کر کے ان کی منظوری حاصل کی جائے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی سے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، امن عامہ کی صورتحال اور اہم امور پر تبادلۂ خیال
سہیل آفریدی نے اعلان کیا کہ وہ کل اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک درخواست دائر کریں گے اور امید ہے کہ اس مرتبہ ملاقات کی اجازت مل جائے گی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ آج بھی بانی پی ٹی آئی کے اہل خانہ کو ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے کوئی جرم نہیں کیا بلکہ انہیں ناحق قید رکھا گیا ہے۔ ان کے بقول پنجاب حکومت اور جیل انتظامیہ کی غفلت کے باعث بانی پی ٹی آئی کی آنکھ میں مسئلہ پیدا ہوا جبکہ عوام میں اس بات پر تشویش پائی جاتی ہے کہ ملاقاتوں پر پابندی کیوں عائد کی جا رہی۔
مایوسی کا دور ختم ، ہم ایک ماہ میں پوسٹ حج آپریشن کامیابی سے مکمل کریں گے: کنٹری منیجر ظہیرالدین آغا
سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے بانی پی ٹی آئی کو مینڈیٹ دیا ہے اور صرف وہی وزیراعلیٰ کو تبدیل کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ان کی ملاقات بیرسٹر گوہر کی درخواست پر ہوئی تھی، علاقائی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان پاکستان کا برادر اسلامی ملک ہے اور کسی کی خوشنودی کے لیے دونوں ممالک کے تعلقات خراب نہیں ہونے چاہئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی ہمیشہ یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں اور پاکستان کو خطے میں ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہیے، خیبرپختونخوا کے آئندہ بجٹ میں سماجی بہبود، تعلیم اور صحت کے شعبوں کو ترجیح دی گئی ہے۔کرپشن کے الزامات کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کے دفتر کے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں اور اگر کسی کے پاس کرپشن کے ثبوت ہیں تو وہ سامنے لائے۔
بری طرح تھکا ہوا تھا، خستہ حال بے خوابی سے بوجھل سوجی آنکھوں میں نیند کی شدت کا درد، آتے ہی چارپائی پر ایسا گرا کہ شام تک ہوش ہی نہیں آیا
مزید :