وفاقی حکومت نے نئے مالی سال کے بجٹ کیلئے ترجیحات کا تعین کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
وفاقی حکومت نے نئے مالی سال کے بجٹ کیلئے ترجیحات کا تعین کر دیا WhatsAppFacebookTwitter 0 28 January, 2026 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس )نئے مالی سال کے بجٹ کی تیاریوں کا آغاز کر دیا گیا، وفاقی حکومت نے نئے بجٹ 27-2026 کیلئے ترجیحات کا تعین کر دیا۔وزارت خزانہ کے مطابق اگلے مالی سال کیلئے جی ڈی پی گروتھ کا تخمینہ 5 اعشاریہ1 فیصد ہے، نئے بجٹ میں مہنگائی کی شرح 6اعشاریہ5 فیصد تک محدود رہنے کی توقع ہے، نئے بجٹ میں گرین ٹیکس، نان ٹیکس ریونیو اورکلائمیٹ سبسڈیز پر خصوصی توجہ ہوگی۔
تمام وزارتوں کو بجٹ میں ماحولیاتی اور موسمیاتی اخراجات کی نشاندہی کی ہدایت کر دی گئی، موسمیاتی تبدیلی سے متعلق آمدن اور اخراجات کی الگ ٹیگنگ لازمی قرار دی گئی۔بجٹ میں آفات سے نمٹنے کیلئے ڈیزاسٹربجٹنگ فریم ورک مزید مضبوط کیا جائے گا، یہ اقدامات گرین گروتھ اور ماحولیاتی تحفظ میں مدد دیں گے۔دستاویز کے مطابق نان ٹیکس آمدن کو ماحولیاتی اثرات کے لحاظ سے جانچا جائے گا، آلودگی پھیلانے والی سرگرمیوں پر لیویز کو کلائمیٹ اہداف سے جوڑا جائے گا، گرین ریونیو کیلئے توانائی، ٹرانسپورٹ، آلودگی کے مسائل سے نمٹنا ترجیح ہوگا، پاکستان میں قدرتی آفات کے پیش نظر ڈیزاسٹر اخراجات کی الگ نگرانی ہوگی۔قدرتی وسائل کی کیٹیگریز، سبسڈیز کو کلائمیٹ ایڈاپٹیشن اور مٹیگیشن میں تقسیم کیا جائے گا، زرعی انشورنس اور موسمیاتی انفراسٹرکچر ایڈاپٹیشن، صاف توانائی اور الیکٹرک وہیکلز مٹیگیشن سبسڈیز میں شامل ہیں، بجٹ میں شفافیت اور ماحولیاتی اہداف کے حصول پر زوردیا جائے گا۔وزارتِ خزانہ نے بجٹ کال سرکلر جاری کرتے ہوئے بجٹ سازی کے شیڈول کی منظوری دے دی۔وزارتِ خزانہ کے مطابق بجٹ 27-2026 کیلئے بجٹ کال سرکلر جاری کر دیا گیا ہے جبکہ عبوری معاشی فریم ورک رواں ماہ کے دوران تیار کیا جائے گا، مڈ ایئر ریویو رپورٹ فروری 2026 میں قومی اسمبلی میں پیش کی جائے گی۔
وزارتوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ اہم بجٹ فارم، ریونیو اور اخراجات کے نظرثانی شدہ تخمینے اور ترقیاتی منصوبوں کی تفصیلات 20 فروری تک جمع کرائیں۔وزارتِ خزانہ کے مطابق بجٹ ریویو کمیٹی کے اجلاس 30 مارچ سے 12 اپریل 2026 تک ہوں گے جبکہ ایکسچینج ریٹ سے متعلق اطلاع 15 اپریل کو دی جائے گی، بجٹ اسٹریٹجی پیپر کی منظوری 20 اپریل تک لی جائے گی اور کرنٹ و ترقیاتی بجٹ کیلئے بجٹ سیلنگ 21 سے 25 اپریل کے دوران جاری کی جائے گی۔سالانہ پلان کوآرڈینیشن کمیٹی کا اجلاس مئی کے پہلے ہفتے اور قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس مئی کے دوسرے ہفتے میں ہوگا، تمام بجٹ دستاویزات مئی کے آخر تک مکمل کی جائیں گی جبکہ سہ ماہی بجٹ تخمینے 30 جون تک جمع کرائے جائیں گے۔پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)کے درمیان تیسرے اقتصادی جائزے کے مذاکرات کی تیاریوں کا آغاز ہوگیا، ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کا جائزہ مشن آئندہ ماہ پاکستان کا دورہ کرے گا، تیسرا اقتصادی جائزہ مکمل ہونے کی صورت میں پاکستان کو ایک ارب ڈالر کی اگلی قسط ملے گی۔حکام کے مطابق حکومت کی جانب سے عوام، تنخواہ دار طبقے اور صنعتی شعبے کو ریلیف دلانے کیلئے آئی ایم ایف سے بات چیت کی جائے گی، وزیراعظم کی ہدایت پر آئی ایم ایف سے مذاکرات کیلئے نئی ترجیحات طے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی سربراہی میں وفد نے ایم ڈی آئی ایم ایف سے بھی معاملے پر بات چیت کی، وزیراعظم نے آئی ایم ایف سے ریلیف لینے کیلئے آئندہ 2 ہفتوں میں تجاویز مانگ لیں، آئی ایم ایف کو ریلیف پر منانے کیلئے ٹھوس تجاویز اور سفارشات فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمجھ پر الزام لگانے والے اپنے جنازوں کو رو رہے ہیں،صدر اسلام آباد ہائیکورٹ بار کا ایمان مزاری کی گرفتاری سے متعلق الزامات پر ردعمل مجھ پر الزام لگانے والے اپنے جنازوں کو رو رہے ہیں،صدر اسلام آباد ہائیکورٹ بار کا ایمان مزاری کی گرفتاری سے متعلق الزامات پر... آئینی عدالت میں سائلین اور وکلا کیلئے ایس ایم ایس نوٹیفکیشن سروس متعارف روانڈا کے وزیر تجارت و صنعت، پروڈنس سیباہیزی دو روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے سابقہ وفاقی وزیر چوہدری شہباز حسین دورہ پاکستان مکمل کرنے کے بعد جدہ واپس پہنچ گئے الیکشن کمیشن کو کس نے اختیار دیا ہماری مخصوص نشست پر اجنبی خاتون کو لے آئے، ترجمان جے یو آئی ای سی سی اجلاس،تعلیم، توانائی سمیت دیگر شعبوں کیلئے 66ارب روپے فنڈز کی منظوری
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: آئی ایم ایف سے اسلام آباد مالی سال کے مطابق جائے گا جائے گی کر دیا بجٹ کی
پڑھیں:
معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔
کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔
بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال
اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔
ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔
گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔
349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم
کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔
کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔