کراچی کے ذریعے پاکستان کے سارے قرض اتار سکتے ہیں، چیئرمین نیب
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)چیئرمین قومی احتساب بیورو (نیب) لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے کہا ہے کہ کراچی کے ذریعے پاکستان کے سارے قرض اتار سکتے ہیں۔
کراچی کے مقامی ہوٹل میں شہر کے کارروباری طبقے سے خطاب میں چیئرمین نیب نے کہا کہ کراچی کے کاروباری طبقے کا بڑا حوصلہ ہے، جو ناانصافیوں کے باوجود یہاں کام کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس شہر کے ساتھ بہت دھوکہ بازی ہوئی ہے، شہر کے کاروباری طبقے کی مشاورت سے بہت کام کرنے ہیں، کراچی سے پاکستان کا سارا قرض اتار سکتے ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے مزید کہا کہ آپ کی پریشانیوں اور چیلنجز کا ادراک ہے، کاروباری اعتماد اچھا نہیں ہے، ٹیکسز اور سیکیورٹی کے معاملات ہیں، لیکن عین وقت پر روزہ نہ توڑیں، پاکستان کے اچھے دن آنے والے ہیں۔اُن کا کہنا تھا کہ آپ سے وعدہ ہے کہ کراچی کے لیے ہم وسائل مہیا کریں گے، معزز لوگوں سے 30، 30 ارب کی زمینیں واپس لی ہیں۔ پورے صوبے کی زمینوں کا ریکارڈ ڈیجیٹلائز کر رہے ہیں۔چیئرمین نیب نے یہ بھی کہا کہ آئندہ 3 مہینوں میں 11 ہزار ارب روپے مزید لوں گا، ساری تیاریاں کرلی ہیں، کراچی میں ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔
ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم سرد اور خشک رہنے کا امکان
انہوں نے کہا کہ کراچی کے ذریعے پاکستان کے سارے قرض اتار سکتے ہیں، بہت سے نئے آئیڈیاز پر کام کر رہے ہیں، اگلے 2 سال بہت اہم ہیں، لوگوں کو نوکریوں سے نہ نکالیں، بہت کچھ آنے والا ہے۔لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے کہا کہ 25 کروڑ آبادی میں 65 فیصد نوجوان ہے، پاکستان خوراک پیدا کرنے والا امیر ملک ہے، زراعت ہماری ضرورت پوری کرلیتا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ دنیا ڈالر سے دوسری کرنسیوں پر منتقل ہو رہی ہے، اگلے 2 سال بہت اہم ہیں، مئی کے بعد پاکستان کی دنیا میں نئی شناخت سامنے آئی ہے، قرضوں کی وجہ سے پوری دنیا کے برے حالات ہیں۔چیئرمین نیب نے کہا کہ یہ معاملات میرے نہیں لیکن یہ اعتماد پر اثرانداز ہوتے ہیں، اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ آپکے معاملات حل کرائیں گے، حکومت کا ظرف ہے کہ آئی ایم ایف سے مذکرات کی مشکل بتاتی نہیں۔
صدر مملکت آصف زرداری اور اماراتی نائب صدر شیخ محمد بن راشد المکتوم کی ملاقات
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: قرض اتار سکتے ہیں چیئرمین نیب کہ کراچی کے پاکستان کے نے کہا کہ
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔