کراچی: ٹرک نے کمسن بچے کو کچل دیا، گاڑی کی ٹکر سے خاتون جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
کراچی:
شہر کے مختلت علاقوں میں ٹریفک حادثات میں کمسن بچے اور خاتون سمیت 2 افراد جاں بحق ہوگئے۔
کورنگی صنعتی ایریا تھانے کے علاقے کورنگی مہران ٹاؤن سیکٹر B6 سلیم تھلے والی گلی نمبر 2 چھپڑا ہوٹل کے قریب مزدا ٹرک کی ٹکر سے کمسن بچہ جاں بحق ہوگیا جس کی لاش قانونی کارروائی کے لیے جناح اسپتال منتقل کی گئی۔
متوفی بچے کی شناخت 6 سالہ ذیشان ولد جنسار احمد سولنگی کے نام سے کی گئی، پولیس کے مطابق حادثے کے بعد مزدا ٹرک کا ڈرائیور جاوید موقع پر سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔
جاں بحق ہونے والا بچہ ملزم کا ہی پڑوسی تھا، ملزم ڈرائیور مزدا ٹرک گھر سے لیکر نکلا تو پڑوسی کا بچہ گاڑی کے نیچے آ گیا، پولیس نے ٹرک اور ڈرائیور کے بھائی کو حراست میں لیکر تھانے منتقل کردیا، کمسن ذیشان پانچ بہن بھائیوں میں تیسرے نمبر پر تھا، متوفی بچے کے والد فیکٹری میں ملازمت کرتے ہیں۔
گلستان جوہر منور چورنگی کے قریب ٹریفک حادثے میں خاتون جاں بحق ہوگئی جس کی لاش قانونی کارروائی کے لیے جناح اسپتال منتقل کی گئی، خاتون کی شناخت 45 سالہ نذیراں بی بی زوجہ محمد حسین کے نام سے کی گئی، ریسکیو حکام کے مطابق متوفیہ خاتون نامعلوم گاڑی کی ٹکر سے جاں بحق ہوئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کی گئی
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک