بھارت میں نیپاہ وائرس کا پھیلاؤ: پاکستان آنے والوں کی سخت اسکریننگ کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: وفاقی وزارتِ صحت نے بھارت میں نیپا وائرس کے پھیلاؤ کے پیشِ نظر ملک بھر میں ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے، پاکستان آنے والے تمام مسافروں کی 100 فیصد اسکریننگ اور سخت نگرانی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
بدھ کو وفاقی وزارت صحت کی جانب سے بھارت میں جان لیوا نیپا وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ پر انتباہ اور ایڈوائزری جاری کردی گئی ہے۔ایڈوائزری کے مطابق ملک بھر کے ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور زمینی سرحدوں پر سخت اسکریننگ کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔
ایڈوائزری میں پاکستان آنے والے اور ٹرانزٹ مسافروں کی 100 فیصد اسکریننگ لازمی قرار دی گئی ہے، تمام مسافروں کی تھرمل اسکریننگ اور طبی معائنہ لازمی ہوگا۔جبکہ مسافروں کی گزشتہ 21 دن کی مکمل سفری تاریخ کی تصدیق کی بھی ہدایت جاری کی گئی ہے۔
ایڈوائزری کے مطابق نیپاہ وائرس سے متاثرہ یا ہائی رسک علاقوں سے آنے والے مسافروں کی خصوصی نگرانی کا حکم دیتے ہوئے نیپا وائرس کی مشتبہ علامات کی صورت میں مسافر کو فوری آئسولیٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ کلیئرنس کے بغیر کسی مسافر کو پاکستان میں داخلے کی اجازت نہیں ہو گی۔
حکام کے مطابق پاکستان میں تاحال نیپا وائرس کا کوئی تصدیق شدہ کیس رپورٹ نہیں ہوا جب کہ بھارتی ریاست مغربی بنگال میں نیپا وائرس کے 5 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مسافروں کی نیپا وائرس گئی ہے
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک