Jasarat News:
2026-07-24@11:05:12 GMT

گل پلازہ میں جاں بحق خاتون سمیت مزید 3 افراد کی شناخت

اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی( اسٹاف رپورٹر ) سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق افراد کی شناخت کا عمل تاحال جاری ہے، جس کے دوران ایک خاتون سمیت مزید 3 افراد کی شناخت ہو گئی ہے، جن میں سے2 افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے بتایا جا رہا ہے۔سانحہ گل پلازہ میںہلاکتوں کی مجموعی تعداد 74 ہو چکی ہے۔ ترجمان ایدھی فاؤنڈیشن نے بتایا کہ اب تک 7 لاشیں براہِ راست شناخت کے بعد لواحقین کے حوالے کی جا چکی تھیں، جبکہ بعد ازاںڈی این اے ٹیسٹ کی مدد سے 3 خواتین سمیت مزید 20 لاشوں کی شناخت مکمل کر کے انہیں بھی ورثا کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سانحے میں جاں بحق ہونے والوں میں سے 66 لاشیں ناقابل شناخت قرار دی گئی تھیں، جنہیں ایدھی سرد خانے میں امانتا ًرکھا گیا تھا۔ ان میں سے 46 لاشیں تاحال سرد خانے میں موجود ہیں، جبکہ باقی کی شناخت مکمل ہونے کے بعد تدفین کے لیے حوالے کی جا چکی ہیں۔ سانحے میںایک اور لاش کی شناخت حسام کے نام سے ہوئی ہے، جو لیاری کلاکوٹ کا رہائشی تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حسام کیدو کزنز حمزہ سرفراز اور عبد الصمد تاحال لاپتا ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ تینوں افرادگل پلازہ میں ملازمت کرتے تھے اور لاشوں کی مکمل شناخت کے بعد انہیںایک ساتھ لواحقین کے حوالے کیا جائے گا۔ اسی خاندان سے تعلق رکھنے والے مزید جاں بحق افراد کی بھی شناخت سامنے آئی ہے۔ جاں بحق خاتون کی شناخت کوثر پروین جبکہ مرد کی شناخت اشرف کے نام سے ہوئی ہے۔ ذرائع کے مطابق 25 جنوری کو اسی خاندان کے 4 افراد کی لاشیں شناخت کے بعد ورثا کے حوالے کی جا چکی تھیں۔

اسٹاف رپورٹر سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پلازہ میں افراد کی کی شناخت کے حوالے حوالے کی کے بعد

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • سانحہ گل پلازہ میں اہم پیش رفت؛ 5 اداروں کے افسران کے بیانات ریکارڈ
  • بلوچستان: رواں ماہ بارشوں سے 8 افراد جاں بحق، 41 گھروں کو نقصان
  • گل پلازہ انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر نہ لانے کا فیصلہ، شفافیت اور تفتیشی عمل پر نئی بحث
  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • کوہاٹ: ڈیرہ اسماعیل خان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ، بچے سمیت 3 افراد قتل 
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی