عمران خان کو طبیعت خرابی کے سبب اسپتال لایا گیا اور اہل خانہ کو بتایا تک نہیں‘اپوزیشن اتحاد
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260129-01-21
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پی ٹی آئی اور اپوزیشن اتحاد نے عمران خان کی صحت کے حوالے سے تشویش کا اظہار کردیا، بیرسٹر گوہر اور راجا ناصر عباس نے کہا ہے کہ عمران خان کو اسپتال لایا گیا اور پارٹی و اہل خانہ کو بتایا تک نہیں۔یہ بات اپوزیشن اتحاد اور پی ٹی آئی رہنماؤں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ پریس کانفرنس میں بیرسٹر گوہر، راجا ناصر عباس اور سلمان اکرم راجا موجود تھے۔ چیئر پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ عمران خان سے ہماری آخری ملاقات 20 دسمبر کو ہوئی تھی، آج تک ہمیں ملاقات کرنے کیلیے نہیں کہا گیا، ہم نے پٹیشن بھی دائر کی لیکن ملاقات کی اجازت نہ مل سکی، ایک نیوز پیپر میں رپورٹ ہوا کہ عمران خان کو اسپتال لایا گیا اور پھر جیل واپس لایا گیا، اس بات سے پارٹی اور فیملی میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے کیوں کہ آج تک یہ نہیں بتایا جارہا کہ کس بیماری کی وجہ سے لایا گیا؟ اس عمل کی ہم شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ آپ لوگ اپنی پاور کے لیے آئین میں تبدیلی کر رہے ہیں، اس سے آپ لوگوں کی عوام کی نظر میں عزت گھٹ رہی ہے، 8 فروری تک ملاقات نہ روکیں، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ آج نہیں تو کل ملاقات کروائی جائے۔سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجا ناصر عباس نے کہا کہ یہ خبریں چل رہی ہیں کہ عمران خان کو اسپتال لایا گیا اور پارٹی کو نہیں پتا ،ساتھ ہی ان کی فیملی کو بھی نہیں پتا، یہ لوگ دن بدن عوام کی نظروں میں گر رہے ہیں، اس سب کا انہیں جواب دینا پڑے گا، ایسا نہیں ہوگا کہ آپ ظلم کریں اور جواب نہ دینا پڑے، 8 فروری کو عوام نے آپ کو بری طرح ٹھکرایا تھا، عوام نے ہر رکاوٹ کو گرا دیا، عمران خان اگر آج باہر ہوتے ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بورڈ ہی نہ بنتا، جب غزہ کی عوام چیخ رہی تھی تب آپ ان کی مدد کے لیے نہیں گئے۔ان کا کہنا تھا کہ آپ سمجھتے تھے کہ نشان چھین لیں گے اور کارنر میٹنگ نہیں کرنے دیں گے، عوام نے جو آپ کے ساتھ کیا وہ آپ نے دیکھا؟ سیاسی بحران 8 فروری کے الیکشن سے پیدا ہوا، بے روزگاری بڑھی ہے، کسانوں کا نقصان ہوا ہے، اسی لیے ہم نے 8 فروری کو یوم سیاہ کا اعلان کیا ہے۔سلمان اکرم راجانے کہا کہ عمران خان اور بشری بی بی سے ملاقاتیں نہیں ہو رہی، یہ کسی طرح بھی قابل قبول نہیں ہے، ان کے ذاتی معالج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے، ہم نے پٹیشن دائر کی ہے ملاقاتوں کے لیے، آج ہمیں پتا چلا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے پٹیشن کو سائیڈ پر کر دیا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ عمران خان کو ذاتی معالج اور فیملی ممبرز کو ان سے ملنے دیا جائے، یہ ایک ایسا عمل ہے جو ظلم پر مبنی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس ملک میں ہو سکتا ہے کہ سیاست کو بھی دفن کر دیا جائے، ہم نے کوئی ایسا کام نہیں کرنا جو آئین اور قانون کے خلاف ہو، ہم یہی کہہ رہے ہیں کہ اپنی بے زاری کا اظہار کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسپتال لایا گیا اور کہ عمران خان کو ہیں کہ نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
ملاقات میں امتِ مسلمہ کے اتحاد، موجودہ حالات میں قومی و ملی ذمہ داریوں اور پروگرام کی تیاری و اہداف پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مزید برآں علامہ سید جواد نقوی نے 13 جون مینارِ پاکستان ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ میں شرکت اور تعاون کی دعوت بھی پیش کی اور اس پروگرام کو ملتِ اسلامیہ کے اتحاد، بیداری اور استقامت کا اہم ذریعہ قرار دیا۔ اسلام ٹائمز۔ تحریک بیداری امت مصطفیٰ کے سربراہ اور اتحاد امت فورم کے رہنما علامہ سید جواد نقوی نے شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی صاحب سے ملاقات کی اور ان کی اہلیہ کے انتقال پر تعزیت و تسلیت، فاتحہ خوانی اور دعائے مغفرت کی۔ علامہ سید جواد نقوی نے علامہ سید ساجد علی نقوی کیساتھ 13 جون کو مینارِ پاکستان لاہور میں منعقد ہونے والی ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ کے حوالے سے بھی گفتگو کی۔ ملاقات میں امتِ مسلمہ کے اتحاد، موجودہ حالات میں قومی و ملی ذمہ داریوں اور پروگرام کی تیاری و اہداف پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مزید برآں علامہ سید جواد نقوی نے 13 جون مینارِ پاکستان ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ میں شرکت اور تعاون کی دعوت بھی پیش کی اور اس پروگرام کو ملتِ اسلامیہ کے اتحاد، بیداری اور استقامت کا اہم ذریعہ قرار دیا۔