ریاست کو طاقت اور وحشت کا کھیل نہیں کھیلنا چاہیے، ایمل ولی خان
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260129-08-8
حیدرآباد (نمائندہ جسارت)عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ آج ریاست خود ان کو فتنہ الفساد اور فتنہ الخوراج کہتی ہے جبکہ 40 سال پہلے جب ولی خان نے یہ بات کہی تو انہیں اسلام دشمن کہا گیا،باچا خان کا نظریہ آج بھی مثبت راستہ ہے، ہم ریاست کو کہتے ہیں کہ وہ طاقت اور وحشت کا کھیل نہ کھیلے۔ ہمیں یہ بات تسلیم کرنی ہوگی کہ پاکستان ایک قوم نہیں یہ ایک ملک ہے جو قوموں کا مجموعہ ہے، جہاں ظلم ہوگا وہاں کھڑے ہوں گے ، لڑنا میری قوم اور ریاست دونوں کیلیے خطرناک ہوگا وہ حیدرآباد کے مقامی ہوٹل میں منعقدہ تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ کانفرنس سے پیپلزپارٹی کے رہنما و سابق چیئرمین سینٹ رضا ربانی، عوامی نیشنل پارٹی کے شاہی سید، سندھ ترقی پسندپارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر قادر مگسی، سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے زین شاہ، قومی عوامی تحریک کے ایاز لطیف پلیجو، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے زونل آرگنائزر ظفر صدیقی، مرکزی مسلم لیگ سندھ کے صدر فیصل ندیم، جئے سندھ محاذ کے ریاض چانڈیواور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر مقررین کا کہناتھا کہ پاکستان اسی وقت مضبوط ہوگا جب سندھی، بلوچ، پشتون، پنجابی سب کہیں گے یہ میرا پاکستان ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم یہ نہیں کہتے کہ آپ کی جو بی ٹیم ہے اس کو کھلا چھوڑ دو بلکہ ہم کہتے ہیں کہ اس کیخلاف بھی کارروائی کرو۔ جہاں ظلم ہوگا ہم وہاں کھڑے ہوں گے ہم سندھ میں آئیں گے اور جی ایم سید کی سالگرہ بھی منائیں گے۔ کانفرنس سے رضا ربانی نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہم امن، برابری اور صوبوں کے حقوق کی بات کرتے ہیں، پاکستان کے ادارے اور سول سپرمیسی کو اس بات کو سمجھنا ہوگا، آئین کے تحت صوبوں کو صوبائی خودمختاری دینی ہوگی، انہوں نے کہاکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان ایک وفاق اور اس وفاق کی چار اکائی ہیں، ماضی میں جو ریاست کی روش تھی آج انہیں پھر ہوا دی جارہی ہے، کوئی وزیر 12اور کوئی 16 صوبوں کی بات کرتا ہے ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ پاکستان میں جو چار اکائی ہیں وہیں رہیں گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کہ پاکستان ہیں کہ
پڑھیں:
سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
پشاور: سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کے حوالے سے خیبرپختونخوا حکومت نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے صوبے کے پنشنرز کی نیٹ پنشن میں 7 فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا، جبکہ اس حوالے سے محکمہ خزانہ نے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔
جاری کردہ اعلامیے کے مطابق یہ اضافہ 30 جون 2026 تک وصول کی جانے والی نیٹ پنشن کی بنیاد پر دیا جائے گا۔ حکومت کے اس اقدام سے لاکھوں ریٹائرڈ سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو مہنگائی کے موجودہ دور میں مالی سہارا ملنے کی امید ہے۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یکم جولائی 2026 یا اس کے بعد ریٹائر ہونے والے سرکاری ملازمین بھی اس 7 فیصد اضافے سے مستفید ہوں گے۔ اسی طرح فیملی پنشن حاصل کرنے والے افراد اور کمپیشنٹ الاؤنس لینے والے مستحقین پر بھی یہ اضافہ یکساں طور پر لاگو ہوگا۔
محکمہ خزانہ کے مطابق بیرون ملک مقیم وہ پنشنرز بھی، جو خیبرپختونخوا حکومت کی پنشن کے اہل ہیں، مقررہ قواعد و ضوابط کے تحت اس اضافے سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ یہ اضافہ پہلے سے دی جانے والی کسی بھی خصوصی اضافی پنشن پر لاگو نہیں ہوگا، بلکہ صرف بنیادی نیٹ پنشن کی بنیاد پر ادا کیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کا یہ فیصلہ بڑھتی مہنگائی کے پیش نظر ریٹائرڈ ملازمین کے لیے اہم ریلیف ثابت ہوگا اور ان کے ماہانہ اخراجات پورے کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔