پروازکارڈ، 50ہزار نوجوانوں کو بلاسود قرض فراہم کرینگے، مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
اوکاڑہ (نیوزڈیسک) وزیراعلیٰ مریم نوازنے کہاہے کہ نوجوانوں کو ہنر مند بنانے کیلئے اقدامات اٹھا رہے ہیں، نوجوانوں کو با اختیار بنانا ترجیح ہے، آبادی کا بہت بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، گلف میں سب سے مشکل جاب پاکستانی کرتے ہیں، پنجاب کی خواتین کیلئےہم نے پروگرام شروع کیا، اسکلز پروگرام سے 2 لاکھ سے زائد بچوں کو ٹریننگ ملی، بہت سارے بچے ٹریننگ کے بعد پرواز کرنے کو تیار ہیں، پرواز کارڈ سے 3 لاکھ فی بچہ جو ٹرین ہوا ہے، بہت سے بچے ای بزنس شروع کر کےکما رہے ہیں، شیخوپورہ میں ہم نے گارمنٹس سٹی بنائی ہے،ایک ہزاربچوں کو ٹرین کیا ہے۔
مریم نواز کا کہناتھا کہ سعودی عرب سے 45 ہزار جابز کی ڈیمانڈآئی ہے، جن بچوں کو ٹرین کر رہےہیں ان کو باہربھی بجھوا رہے ہیں، جن بچوں نے ٹریننگ حاصل کیں وہ آج کما رہے ہیں، ہم نے موبائلز لیب بنوائی تاکہ لوگوں کو ریاست کے پاس نہ آناپڑے، پنجاب میں لوگوں کا ان کے گھروں کی دہلیز پر علاج ہوتا ہے، واسا پنجاب میں گھروں کو فری پانی فراہم کر رہا ہے، خواتین کیلئے ہم نے موبائلز پولیس اسٹیشنز بنا دیے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہمارا مقصد تھا کہ ریاست خودچل کر عوام کے پاس جائے، پاکستان کی لیبر کو جوکام بھی ملتا ہے کرتے ہیں ، مجھے یہ سننے کا شوق ہے کہ پاکستان کی ورک فورس بہت زیادہ اسکلڈ ہے، میں نہیں چاہتی کہ کوئی کہے پاکستان کی لیبرسب سے سستی ہے، ان اسکلڈ ہونے کی بچوں کو بھاری قیمت چکانی پڑتی ہے، چاہتی ہوں بین الاقوامی اور ڈومیسٹک سطح پر ایک پہچان ہو، خواجہ سرا بہت بڑی کمیونٹی ہے،ان کاہاتھ پکڑنا پڑے گا، خواجہ سراوں کیلئے جو مجھ سے ہوا میں کروں گی، مزدور بھی محنتی ہیں مگران کی اجرت کم ہوتی ہے، ہم نےبرین ڈرین نہیں برین گرین کرنا ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ پرواز کارڈ سے ہم 3لاکھ روپے دیں گے، 3لاکھ روپے کا قرض سود فری ہو گا، ہم نے ایکسپورٹ بڑھانی ہے، سب سے بڑی ایکسپورٹ شاندار ذہن ہیں جو ہم ایکسپورٹ کر سکتے ہیں، پروازکارڈ،50ہزار نوجوانوں کو بلاسود قرض فراہم کریں گے، ریاست نوجوان کو مواقع تک لے کر جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں طالبان حکام نے خواتین اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن کے دفتر پر چھاپہ مار کر تنظیم کے 6 ملازمین کو حراست میں لے لیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، کارروائی کے دوران طالبان اہلکاروں نے تنظیم کے کمپیوٹرز، دستاویزات اور دیگر دفتری سامان بھی قبضے میں لے لیا۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان: طالبان حکومت کا ایک اور متنازع فیصلہ، خواتین کو صحت کی تعلیم سے روکنے کا حکم
تاہم اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ گرفتار کیے گئے ملازمین کو کہاں منتقل کیا گیا ہے اور ان کی موجودہ حالت کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں 2 افراد تنظیم کی سربراہ زرقا یفتلی کے قریبی رشتہ دار ہیں، جو اس وقت افغانستان سے باہر مقیم ہیں۔
Sources in Kabul told Afghanistan International on Wednesday that Taliban agents raided the office of the Women and Children Legal Research Foundation (WCLRF) earlier this week and detained six staff members.https://t.co/ly2WtJb202 pic.twitter.com/fQ8qbUdHiN
— Afghanistan International English (@AFIntl_En) July 23, 2026
زرقا یفتلی خواتین کے حقوق کی معروف کارکن ہیں اور گزشتہ سال انہیں متحدہ عرب امارات کی جانب سے 2026 زاید ایوارڈ فار ہیومن فریٹرنٹی سے نوازا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق زیرِ حراست افراد کے اہلِ خانہ نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے عزیزوں کی حراست کی جگہ، قانونی حیثیت اور صحت کے بارے میں فوری طور پر آگاہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں: کرکٹ اسٹارز سے ملاقاتوں اور لباس کے معاملے پر طالبان رہنماؤں میں اختلافات بڑھ گئے
ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن تعلیم، خواتین اور بچوں کے حقوق کی وکالت، تحقیقی سرگرمیوں اور تحقیقاتی رپورٹس کی تیاری کے شعبوں میں کام کرتی رہی ہے۔
طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں سول سوسائٹی کی متعدد تنظیموں، خصوصاً خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں، پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
اس عرصے کے دوران کئی سماجی کارکنوں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ متعدد تنظیمیں اپنی سرگرمیاں محدود کرنے یا مکمل طور پر بند کرنے پر مجبور ہو چکی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغانستان سول سوسائٹی طالبان فلاحی تنظیم کابل کمپیوٹرز متحدہ عرب امارات ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن