data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (رپورٹ:منیر عقیل انصاری)سندھ حکومت اور میئر کراچی کی ناقص منصوبہ بندی اور غیر معیاری میٹریل کے استعمال سے 3 سال میں 3 مرتبہ تعمیر کی جانے والی کراچی کی اہم شاہراہ جہانگیر روڈ سنگین مسائل کا شکار ہے۔ جہانگیر روڈ کو 2023 سے لیکر 2026 تک مسلسل بنائی جارہی ہے، گزشتہ تین برس میں جہانگیر روڈ پر تقریباً 52 کروڑ روپے خرچ ہو چکے ہیں ناقص تعمیراتی سامان کے باعث جہانگیر روڈ کچھ ماہ میں ہی تباہ ہوجاتی ہے۔ جہانگیر روڈ کراچی کی اہم شاہراہ ہے، مگر علاقے کے مکین سمیت لاکھوں شہری کئی برس سے سڑک اور سیوریج کے سنگین مسائل کا شکار ہیں۔دو اضلاع کو ملانے والی اس سڑک کی مجموعی لمبائی 1.
4 کلومیٹر ہے جہانگیر روڈ کوگزشتہ 3 سال میں 3 مرتبہ تعمیر کی جا چکی ہے۔ 2022–23 میں اس سڑک پر تقریباً 22 کروڑ روپے خرچ کیے گئے اور دعویٰ کیا گیا تھاکہ یہ سڑک بین الاقوامی معیار کے مطابق تعمیر کی گئی ہے، مگر یہ معیاری سڑک چند ہی مہینوں میں بارشوں، سیوریج کے پانی اور ٹریفک کے دباو ¿ کے سامنے بے نقاب ہو گیا۔ سڑک جگہ جگہ سے ٹوٹ گئی، کھڈے بن گئے اور شہری ایک بار پھر عذاب میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ جہانگیر روڈ اچوتھی بار یک بار پھر تعمیر ات کے مراحل میں ہے، 14 جنوری 2026 کو میئر کراچی نے جہانگیر روڈ ،نورانی چورنگی تاتین ہٹی کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھ دیا ہے ،ایک بار پھر تقریباً 30 کروڑ روپے کے نئے منصوبے کے تحت جہانگیر روڈ کو ازسرنو تعمیر کیا جا رہا ہے وہ بھی صرف2 سال بعد۔ اس بار دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ڈرینج، سیوریج، اسٹریٹ لائٹس اور فٹ پاتھ سب بہتر ہوں گے، اور یہ سڑک دیرپا ثابت ہوگی۔لیکن سچ یہ ہے کہ ماضی کا ریکارڈ شہریوں کو بلکل بھی پ ±رامید ہونے نہیں دیتا۔کراچی کے عوام نے بہت سے ‘‘وعدے’’ دیکھے ہیں اور بہت سی ‘‘سڑکیں’’ چند مہینوں میں اکھڑتے دیکھی ہیں۔ اس لیے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اگر اس بار بھی ایمانداری نہ ہوئی تو یہ 30 کروڑ بھی پچھلے کروڑوں کی طرح نالیوں میں بہہ جائیں گے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ تعمیراتی کام کی آزاد اور شفاف نگرانی کی جائے، واضح رہے کہ 24 ستمبر 2022 کو موجودہ میئر جو اس وقت ایڈمنسٹریٹر کراچی تھے اس وقت بھی اسی طرح کا دعوی کیا تھا کہ جہانگیر روڈ ماضی کی طرح تعمیر نہیں کیا جائے گا بلکہ اس سڑک پر پہلے سیوریج کا نظام ٹھیک کیا جائے گا، اس کے بعد سڑک تعمیر ہوگی۔مگر چند ماہ پوری سڑک ٹوٹ پھوٹ کا شکا ر ہوگئی،شہریوں کا کہنا ہے کہ ناقص تعمیراتی سامان کے باعث جہانگیر روڈ کچھ ماہ میں ہی تباہ ہوجاتی ہے۔کراچی کے شہری میئر کراچی سے سوال کررہے ہیں کہ آخر یہ سڑک بار بار کیوں بنتی اور ٹوٹتی ہے؟یہ غفلت تھی، ناقص منصوبہ بندی تھی، یا پھر کرپشن یا یہ سب کچھ اکٹھا تھا۔اگرماضی میں 22 کروڑ کی سڑک چند ماہ میں برباد ہو جائے تو یہ سوال اٹھانا شہریوں کا حق نہیں بلکہ فرض بن جاتا ہے کہ کیا تعمیرات میں معیاری میٹیریل استعمال ہوا؟کیا ڈرینج اور سیوریج کو سنجیدگی سے شامل کیا گیا؟کیا کام کی نگرانی ایمانداری سے ہوئی یا پھر سڑک صرف کاغذوں میں ‘‘انٹرنیشنل اسٹینڈرڈ’’ بنی ہے؟۔

منیر عقیل انصاری

گلزار
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ:
تعمیر کی
کیا جا
پڑھیں:
دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
کراچی : دیو ہیکل بحری جہاز ‘ایم ایس سی ڈیلیٹا ‘ کراچی پورٹ پر لنگر انداز ہوگیا ، جو بندرگاہ کے عالمی معیار کے انفراسٹرکچر اور آپریشنل صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔تفصیلات کے مطابق دنیا کا دیو ہیکل کنٹینر بحری جہاز "ایم ایس سی ڈینلیٹا” کامیابی کے ساتھ کراچی پورٹ پہنچ گیا ہے اور کے پی ٹی کے مخصوص ٹرمینل پر لنگر انداز ہوگیا۔کراچی پورٹ ٹرسٹ نے بتایا کہ یہ بحری جہاز اپنی نوعیت اور حجم کے اعتبار سے انتہائی وسیع ہے، جو بندرگاہ کے عالمی معیار کے انفراسٹرکچر اور آپریشنل صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔کے پی ٹی کا کہنا تھا کہ 400 میٹر طویل اور 67 میٹر چوڑا یہ بحری جہاز 255,288 ڈیڈ ویٹ ٹن گنجائش رکھتا ہے، جو اسے دنیا کے بڑے تجارتی جہازوں میں شامل کرتا ہے۔ترجمان نے کہا کہ اتنے بڑے جہاز کی آمد اس بات کا مظہر ہے کہ کراچی پورٹ جدید سہولیات اور بڑے بحری جہازوں کو سنبھالنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ادارے کے مطابق ایسے بڑے جہازوں کی آمد سے بندرگاہ کی استعداد میں مزید اضافہ ہوگا، عالمی شپنگ کمپنیوں کا اعتماد مضبوط ہوگا اور پاکستان کی تجارتی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔