کیا سیاسی ڈیڈ لاک ٹوٹ سکے گا؟
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260129-03-2
پاکستان کے سیاسی حالات میں ایک بنیادی نوعیت کا یہ سوال ہمیشہ سے زیر بحث رہتا ہے کہ کیا ہم اپنے موجودہ سیاسی ڈیڈ لاک کو توڑ سکیں گے اور کیا پاکستان سیاسی استحکام کی طرف بڑھ سکے گا۔ اگرچہ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ اس وقت کوئی سیاسی ڈیڈ لاک نہیں ہے اور ملک بہتر انداز میں آگے بڑھ رہا ہے۔ لیکن سیاست کی سمجھ بوجھ رکھنے والا ہر فرد ہر ادارہ اچھی طرح سمجھتا ہے کہ اگر ہم نے سیاسی ڈیڈ لاک کو ختم نہ کیا تو نہ صرف سیاسی استحکام ممکن نہیں ہے بلکہ معاشی اور سیکورٹی استحکام بھی ممکن نہیں ہو سکے گا۔ کچھ سیاسی پنڈتوں کا خیال ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کے تقریر سے جو بریک تھرو ہوا ہے اس کے نتیجے میں مفاہمت کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ اس لیے اگر قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اب اپوزیشن لیڈروں کا تقرر ہوا ہے تو اس میں جہاں حکومت کی مرضی اور منشا شامل تھی وہاں وہ یہ فیصلہ کسی بھی صورت میں اسٹیبلشمنٹ کی مرضی کے بغیر کرنے کی پوزیشن میں بھی نہیں تھے۔ اس لیے اپوزیشن لیڈروں کے تقرر کو حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی حمایت کے پس منظر میں دیکھا جا رہا ہے اور منطق یہ دی جا رہی ہے کہ پی ٹی آئی نے اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ سڑکوں کی سیاست کے بجائے پارلیمان کی سیاست کرے گی اور حکومت اس کے پارلیمانی کردار کو ہر صورت میں تسلیم کرے گی۔ اسی طرح پی ٹی آئی موجودہ سیاسی سیٹ اپ کو بھی فوری تبدیل کرنے کا مطالبہ یا کوئی بڑی تحریک چلانے کی کوشش نہیں کرے گی تو ان کو مستقبل کی سیاست میں آسانیاں دی جا سکتی ہیں۔ یہ جو سارا نقشہ کھینچا جا رہا ہے اس سے تو ظاہر ہوتا ہے کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کا تقرر ایک بڑی مفاہمت کا نتیجہ ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا عمران خان اس طرز کے فیصلے کی حمایت کریں گے؟ اور کیا آٹھ فروری کو ہونے والا پی ٹی آئی کا احتجاج کسی بڑی تحریک کا نقطہ ٔ آغاز بن سکتا ہے؟ اس کا عملی مظاہرہ ہمیں آٹھ فروری کے احتجاج کی صورت میں دیکھنے کو ملے گا۔ اگر عمران خان کو کسی بھی سطح پر یہ سمجھ میں آیا کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیش لیڈر کا تقرر کسی مفاہمت کا نتیجہ ہے اور پی ٹی آئی نے حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ پس پردہ کوئی ساز باز کی ہے تو اس سے یقینی طور پر جہاں پی ٹی آئی کی قیادت کو جواب دہ ہونا ہوگا وہیں محمود خان اچکزئی اور علامہ راجا ناصر عباس کو بھی سبکی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ آٹھ فروری کا احتجاج جہاں پی ٹی آئی کی سیاست کا امتحان ہے وہیں قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اپوزیشن لیڈروں کی قیادت کا بھی امتحان ہے کہ وہ کس حد تک ایک بڑا احتجاج منظم کرتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں مفاہمت کی جو کوششیں پی ٹی آئی کے پارلیمانی گروپس، تحفظ آئین پاکستان کی قیادت اور پی ٹی آئی چھوڑ کر جانے والے نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے ارکان نے کی ہیں وہ قابل قدر ہیں۔ لیکن ان سب کی کوششوں سے پی ٹی آئی کو کسی بھی سطح پر کوئی بڑا ریلیف نہیں مل سکا۔ بانی پی ٹی آئی کو مسلسل قید تنہائی میں رکھا جا رہا ہے اور کہا جاتا ہے کہ ان کی ملاقات آٹھ فروری سے پہلے کسی کے ساتھ بھی ممکن نہیں ہوگی۔ کیونکہ حکومت کو ڈر ہے کہ اگر عمران خان کی ملاقات ان کے خاندان یا وکلا سے کروائی جاتی ہے تو وہ احتجاجی تحریک کے حوالے سے کوئی بڑی کال دے سکتے ہیں جس کے لیے حکومت رضامند نہیں ہے۔ اگرچہ حکومت الزام لگاتی ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت اور بالخصوص عمران خان مفاہمت کی سیاست میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں لیکن مفاہمت کو آگے بڑھانے میں ہمیں حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کا بھی کوئی بڑا کردار دیکھنے کو نہیں ملتا۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت چاہتی ہے کہ پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ٹکراؤ برقرار رہے تاکہ ان کی سیاسی اہمیت اسٹیبلشمنٹ کے سامنے قائم رہ سکے۔ پی ٹی آئی کا مسئلہ یہ ہے کہ اس کے سارے سیاسی فیصلوں کا ریموٹ کنٹرول عمران خان کے ہاتھ میں ہے اور عملی طور پر وہی پارٹی چلا رہے ہیں۔ باہر بیٹھی ہوئی قیادت میں داخلی تقسیم بہت زیادہ ہے اور ایک دوسرے کو کوئی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ البتہ سہیل آفریدی نے آنے کے بعد پارٹی میں ایک نئی جان ڈالی ہے۔ لاہور اور سندھ کے دوروں میں ان کو کافی پزیرائی ملی ہے جو یقینی طور پر حکومت کے لیے بھی ایک بڑا سیاسی دھچکا ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر حکومت اور اسٹیبلشمنٹ پی ٹی آئی کے ساتھ مفاہمت کرنا چاہتے ہیں تو اس کا ایجنڈا کیا ہوگا؟ کیونکہ پی ٹی آئی کی قیادت میں تو جو پانچ نکاتی ایجنڈا پیش کیا ہے جس میں آٹھ فروری کے انتخابات کا پوسٹ مارٹم، نو مئی کے واقعات کی جوڈیشل تحقیقات، 26 نومبر کے واقعات کی عدالتی تحقیقات، پی ٹی آئی کے رہنماؤں پر دہشت گردی کے مقدمات کا خاتمہ اور ان کی رہائی، 26 ویں اور 27 ویں ترمیم کا خاتمہ، نئے چیف الیکشن کمیشن کا انتخاب سمیت نئے انتخابات کے مطالبات شامل ہیں۔ جبکہ اس کے مقابلے میں ابھی تک حکومت کی جانب سے کوئی ایسا ایجنڈا سامنے نہیں آیا جو ظاہر کر سکے کہ حکومت کن نکات پر بات چیت کرنا چاہتی ہے۔ مفاہمت کے نام پر حکومت اور اسٹیبلشمنٹ اپوزیشن پر ایک سیاسی ڈکٹیشن مسلط کرنا چاہتی ہے۔ پی ٹی آئی کو پیغام دیا جا رہا ہے کہ اگر وہ مفاہمت چاہتے ہیں تو ان کو کچھ شرائط تسلیم کرنا ہوںگی۔ ان شرائط میں سب سے بڑی شرط یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت خود کو بانی پی ٹی آئی سے علٰیحدہ کرے اور مائنس ون فارمولے کے تحت سیاسی معاملات کو آگے بڑھائے۔ لیکن یہ بات پی ٹی آئی کی قیادت کو اچھی طرح معلوم ہے کہ مائنس عمران خان کے بعد ان کی کوئی سیاست نہیں اور اگر انہوں نے ایسا کوئی فیصلہ کیا جو عمران خان کے خلاف ہوگا تو ان کی حیثیت بھی صفر بٹا صفر رہ جائے گی۔ مزاحمت نے خود عمران خان کو ایک ایسی منزل پر پہنچا دیا ہے جس سے وہ آسانی سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ دوسر عمران خان کو اس بات کا اندازہ ہے کہ موجودہ سیاسی بندوبست اپنی افادیت قائم نہیں کر سکا اور جو ملک کے حالات ہیں اس میں موجودہ حکمران نہ صرف عوام پر بوجھ بن گئے ہیں بلکہ جو لوگ ان کو لے کر آئے ہیں ان کے لیے بھی یہ بوجھ بنے ہوئے ہیں۔ اس لیے عمران خان کو اندازہ ہے کہ ان کی سیاسی ضرورت باقی رہے گی۔ اس لیے حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان سیاسی ڈیڈ لاک کا برقرار رہنا فطری بات نظر آتی ہے۔ یہ بات بھی سمجھنے کی ہے کہ پچھلے تین برسوں میں جتنی بھی کوششیں عمران خان کو دبانے کی ہوئی ہیں ان میں کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو سکی۔ اس کی بڑی وجہ ان کی مقبولیت ہے۔ اس لیے اگر ڈیڈ لاک کو توڑنا ہے تو مفاہمت کے علاوہ اور کوئی آپشن موجود نہیں۔ لیکن سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ مفاہمت کی سیاست میں بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا۔ کیونکہ جن کے پاس اختیارات ہیں اور فیصلوں کی طاقت ہے وہ تو ڈکٹیشن کی بنیاد پر آگے چلنا چاہتے ہیں جو بانی پی ٹی آئی کو قبول نہیں۔ اس ساری لڑائی میں جو اسلام آباد میں لڑی جا رہی ہے اصل نقصان تو پاکستان کا ہو رہا ہے یا پاکستانی عوام کو اس لڑائی کی بھاری کی قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: قومی اسمبلی اور سینیٹ میں حکومت اور اسٹیبلشمنٹ پی ٹی ا ئی کی قیادت ہے کہ پی ٹی ا ئی سیاسی ڈیڈ لاک پی ٹی ا ئی کو پی ٹی ا ئی کے عمران خان کو ا ٹھ فروری ہے کہ اگر جا رہا ہے کہ حکومت کی سیاست نہیں ہے اس لیے کے لیے ہے اور
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔