ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی: ممکنات، رکاوٹیں اور ریاستی سنجیدگی
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260129-03-7
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کا سوال محض ایک قیدی کی آزادی تک محدود نہیں رہا، یہ سوال اب ریاستی سنجیدگی، عالمی انصاف، انسانی حقوق، مسلم دنیا کی اخلاقی قوت اور طاقت و قانون کے باہمی تعلق کی علامت بن چکا ہے۔ موجودہ حالات میں اگر اس معاملے کا غیر جذباتی، مگر گہرا اور ہمہ جہتی جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت پوری شدت کے ساتھ سامنے آتی ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کی رہائی نہ تو محض نعروں سے ممکن ہے اور نہ ہی رسمی بیانات سے، بلکہ اس کے لیے بیک وقت سفارتی، قانونی، سیاسی اور اخلاقی محاذوں پر غیر معمولی اور مسلسل جدوجہد درکار ہے۔ امریکی عدالتی نظام میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو جن الزامات کے تحت سزا دی گئی، وہ الزامات اپنی نوعیت میں متنازع ضرور ہیں مگر قانونی طور پر امریکا کے اندر حتمی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہی وہ بنیادی حقیقت ہے جسے نظر انداز کر کے کوئی بھی سنجیدہ حکمت ِ عملی تشکیل نہیں دی جا سکتی۔ امریکا میں دہشت گردی سے متعلق مقدمات کو محض فوجداری کیس نہیں بلکہ قومی سلامتی کے مقدمات سمجھا جاتا ہے اور ان میں سیاسی یا عوامی دباؤ عموماً فیصلہ کن کردار ادا نہیں کر پاتا۔ اس تناظر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کا سب سے مؤثر راستہ امریکی داخلی قانونی فریم ورک کے اندر ہی تلاش کرنا ہوگا۔ یہاں حکومت ِ پاکستان کا کردار فیصلہ کن ہونا چاہیے تھا، مگر بدقسمتی سے گزشتہ برسوں میں ریاستی سطح پر جو کوششیں ہوئیں، وہ زیادہ تر علامتی رہیں۔ کبھی کمیٹی بنا دی گئی، کبھی عدالتی سماعت میں ’’کوششیں جاری ہیں‘‘ کا بیان دے دیا گیا، مگر کوئی ٹھوس، جارحانہ اور نتیجہ خیز سفارتی یا قانونی حکمت ِ عملی اب تک سامنے نہیں آ سکی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہونے والی کارروائیاں اس حقیقت کی نشاندہی ضرور کرتی ہیں کہ عدلیہ معاملے کو زندہ رکھنا چاہتی ہے، مگر یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستانی عدالتیں امریکی عدالتی فیصلوں کو تبدیل کروانے کی طاقت نہیں رکھتیں۔ چنانچہ یہ کیس محض عدالتی ہمدردی سے آگے نہیں بڑھ سکتا جب تک ریاستی سطح پر مکمل سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا جائے۔
سفارتی محاذ پر اگر دیکھا جائے تو ڈاکٹر عافیہ کا معاملہ پاکستان اور امریکا کے دوطرفہ تعلقات میں کبھی بھی ترجیح نہیں بن سکا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ، معاشی انحصار، عسکری تعاون اور خطے کی اسٹرٹیجک سیاست نے ہمیشہ اس انسانی مسئلے کو پس منظر میں دھکیل دیا۔ یہ سوال بہرحال اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر ایک مغربی ملک کا شہری کسی مسلم ملک میں قید ہوتا تو کیا اس کی ریاست اسی طرح خاموش رہتی؟ تاریخ بتاتی ہے کہ نہیں۔ طاقتور ریاستیں اپنے شہریوں کے لیے آخری حد تک جاتی ہیں، جبکہ کمزور ریاستیں اخلاقی بیانات پر اکتفا کرتی ہیں۔ قیدیوں کے تبادلے کا امکان بظاہر غیر حقیقت پسندانہ دکھائی دیتا ہے، اور خود حکومت ِ پاکستان اس امکان کو عدالتی فورم پر ناقابل ِ عمل قرار دے چکی ہے۔ تاہم عالمی سیاست میں ’’ناممکن‘‘ اکثر ’’ممکن‘‘ اس وقت ہو جاتا ہے جب ریاستیں اسے اپنی ترجیح بنا لیں۔ سوال یہ نہیں کہ قیدی تبادلہ ممکن ہے یا نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان نے کبھی سنجیدگی سے اسے ممکن بنانے کی کوشش کی؟ اس سوال کا جواب اب تک حوصلہ افزا نہیں۔ امریکی صدر کی جانب سے رحم یا سزا میں تخفیف کی درخواست ایک ایسا راستہ تھا جس پر امیدیں باندھی گئیں، مگر وہ بھی مسترد ہو چکا۔ اس انکار نے یہ پیغام واضح کر دیا کہ محض اخلاقی اپیلیں اور ہمدردی پر مبنی دلائل امریکی ریاستی ڈھانچے کو قائل کرنے کے لیے کافی نہیں۔ یہاں ایک مضبوط قانونی بیانیہ درکار ہے، ایسا بیانیہ جو مقدمے کے دوران پیش کیے گئے شواہد، گواہیوں اور عدالتی عمل میں ممکنہ قانونی سقم کو بنیاد بنا کر نئی سماعت یا سزا میں کمی کی راہ ہموار کرے۔
انسانی حقوق کے عالمی ادارے اکثر ڈاکٹر عافیہ کے معاملے میں محتاط رویہ اختیار کرتے آئے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مقدمہ دہشت گردی سے جوڑا گیا ہے، اور ایسی صورت میں عالمی ادارے کھل کر کسی ریاستی عدالتی فیصلے کو چیلنج کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ تاہم یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ طویل تنہائی، ذہنی صحت کے مسائل اور قید کے غیر انسانی حالات ایسے نکات ہیں جنہیں عالمی انسانی حقوق کے دائرے میں مؤثر طور پر اٹھایا جا سکتا ہے، بشرطیکہ ریاست خود اس معاملے کو پوری تیاری کے ساتھ عالمی فورمز پر لے کر جائے۔ عوامی سطح پر پاکستان میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی ایک علامت بن چکی ہیں۔ احتجاج، تقاریر اور قراردادیں اس علامت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ علامت ریاستی پالیسی میں ڈھل سکی؟ بدقسمتی سے جواب نفی میں ہے۔ عوامی جذبات اس وقت نتیجہ خیز بنتے ہیں جب ریاست انہیں سفارتی زبان میں ڈھال کر طاقتور ممالک کے سامنے رکھے، محض داخلی جذباتی دباؤ سے عالمی فیصلے تبدیل نہیں ہوتے۔
اس پورے منظرنامے میں سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کا مقدمہ رفتہ رفتہ ’’وقت کے حوالے‘‘ ہوتا جا رہا ہے۔ قید کے ہر گزرتے سال کے ساتھ رہائی کے امکانات کمزور ہوتے جاتے ہیں، جبکہ عالمی سیاست نئے بحرانوں میں الجھتی چلی جاتی ہے۔ اگر آج بھی یہ معاملہ ترجیح نہ بنا تو آنے والے برسوں میں یہ صرف تاریخ کا ایک دردناک باب بن کر رہ جائے گا۔ نتیجتاً، اگر تمام پہلوؤں کو یکجا کر کے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی موجودہ حالات میں آسان نہیں، مگر ناممکن بھی نہیں۔ اس کے لیے محض بیانات نہیں بلکہ ایک ہمہ جہتی، مسلسل اور جارحانہ حکمت ِ عملی درکار ہے۔ ایسی حکمت ِ عملی جو امریکی قانونی نظام کے اندر مضبوط دلائل کے ساتھ پیش ہو، سفارتی سطح پر سنجیدگی سے اٹھائی جائے، عالمی انسانی حقوق کے فورمز پر مدلل انداز میں رکھی جائے، اور جس کے پیچھے ریاست کی مکمل اخلاقی اور سیاسی قوت موجود ہو۔ یہ معاملہ دراصل پاکستان کے ریاستی شعور کا امتحان ہے۔ سوال یہ نہیں کہ ڈاکٹر عافیہ قصوروار ہیں یا بے قصور، اصل سوال یہ ہے کہ کیا ایک ریاست اپنے شہری کے لیے آخری حد تک کھڑی ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے یا نہیں۔ تاریخ انہی ریاستوں کو یاد رکھتی ہے جو اپنے کمزور شہریوں کے لیے بھی مضبوط مؤقف اختیار کرتی ہیں۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی اسی اصول کا کڑا امتحان ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی یہ ہے کہ سوال یہ کے لیے ا نہیں
پڑھیں:
جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ترقی اور بقا کے درمیان فاصلہ تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ ہم نے صدیوں تک یہ سمجھا کہ فطرت ہمارے لیے ایک لامحدود خزانہ ہے جس سے ہم جتنا چاہیں لے سکتے ہیں مگر اب زمین ہمیں بتا رہی ہے کہ ہر نعمت کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ بڑھتی ہوئی گرمی، بے موسم کی بارشیں، خشک سالی، سیلاب اور آلودگی محض موسمی واقعات نہیں رہے بلکہ ایک بڑے ماحولیاتی بحران کی نشانیاں بن چکے ہیں۔
آج جب یورپ میں گرمی کی نئی لہر ریکارڈ توڑ رہی ہے۔ پرتگال اپنے مئی کے مہینے کا سب سے زیادہ درجہ حرارت دیکھ رہا ہے۔ اسپین، فرانس اور اٹلی میں خطرے کے الارم بج رہے ہیں،یہ انسانی تہذیب کے لیے ایک تنبیہ ہے۔ جنگلات میں آگ لگنے کے خطرات بڑھ رہے ہیں اور دنیا بھر کے ماہرین ماحولیات مسلسل خبردار کر رہے ہیں تو یہ صرف موسم کی تبدیلی کی خبر نہیں بلکہ انسانی طرز زندگی پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اب بھی ان انتباہات کو معمول کی خبروں کی طرح نظرانداز کرتے رہیں گے یا اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کریں گے؟
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ کہیں دور قطب شمالی کے پگھلتے ہوئے گلیشیئرز یا بحرالکاہل کے ڈوبتے ہوئے جزیروں کا مسئلہ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ اب ہمارے گھروں، ہماری گلیوں اور ہمارے شہروں تک آ پہنچا ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں حالانکہ دنیا میں کاربن کے اخراج میں ہمارا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔
کراچی اس کی ایک زندہ مثال ہے۔ اس شہر میں گرمی صرف ایک موسم نہیں ،ایک آزمائش ہے۔ مئی اور جون کی دوپہر میں جب سورج آگ برساتا ہے تو سڑکوں پر چلنے والا عام آدمی کسی پناہ گاہ کی تلاش میں ہوتا ہے، لیکن اسے سایہ کہاں ملے؟ ہمارے شہر کی بڑی شاہراہوں پر درخت کم ہوتے جا رہے ہیں۔
نئی سڑکیں بنتی ہیں، فلائی اوور بنتے ہیں، کنکریٹ کے جنگل پھیلتے جاتے ہیں مگر درختوں کی تعداد گھٹتی جاتی ہے۔ میں اکثر سوچتی ہوں کہ ایک مزدور جو صبح سے شام تک دھوپ میں محنت کرتا ہے، ایک خاتون جو بس اسٹاپ پر کھڑی ہے،ایک طالب علم جو پیدل گھر جا رہا ہے، ایک ٹریفک پولیس اہلکار جو گھنٹوں دھوپ میں کھڑا رہتا ہے ان کے لیے شہر نے کیا انتظام کیا ہے؟ ان کے لیے سایہ کہاں ہے؟ کون سا درخت لگایا گیا ہے۔
یورپ میں جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو حکومتیں عوام کو خبردار کرتی ہیں۔ شہریوں کے لیے حفاظتی ہدایات جاری کی جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں گرمی کا سامنا زیادہ تر فرد کی اپنی ذمے داری سمجھ لیا جاتا ہے، گویا سورج سے بچنا بھی ایک ذاتی مسئلہ ہے اجتماعی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ درخت صرف خوبصورت منظر کے لیے نہیں ہوتے۔ وہ زندگی ہوتے ہیں ،وہ فضا کو صاف کرتے ہیں ،زمین کو ٹھنڈا رکھتے ہیں ،پرندوں کو گھر دیتے ہیں اور انسانوں کو سانس لینے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ایک درخت کاٹنا صرف ایک درخت کاٹنا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے حصے کی ٹھنڈک چھین لینا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ صرف درجہ حرارت کا مسئلہ بھی نہیں، یہ انصاف کا مسئلہ ہے دنیا کے امیر ممالک نے دو صدیوں تک صنعت کاری کے نام پر فضا میں کاربن بھرا اور آج اس کی قیمت وہ ممالک ادا کر رہے ہیں جو پہلے ہی غربت بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں۔ اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ پریشان کن چیز شاید ہماری بے حسی ہے۔ ہم ہر سال گرمی کے نئے ریکارڈ بنتے دیکھتے ہیں سیلاب آتے دیکھتے ہیں خشک سالی بڑھتی دیکھتے ہیں مگر پھر بھی اسے ایک عارضی خبر سمجھ کر بھول جاتے ہیں۔
زمین کی تاریخ ہمیں ایک عجیب سبق دیتی ہے۔ سائنس دان بتاتے ہیں کہ اربوں سال پہلے جب زمین کے ماحول میں آکسیجن کی مقدار اچانک بڑھی تھی تو اس وقت موجود بے شمار جاندار اس تبدیلی کو برداشت نہ کر سکے۔ اس واقعے کو بعض اوقات عظیم آکسیجنی تباہی کہا جاتا ہے اور اسے زمین کی اولین عظیم حیاتیاتی تبدیلیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ زندگی ختم نہیں ہوئی تھی لیکن زندگی کی بہت سی اشکال ختم ہو گئی تھیں۔ کچھ نئی انواع نے جنم لیا اور ارتقا کا سفر آگے بڑھتا رہا۔یہ بات ہمیں یاد رکھنی چاہیے کہ فطرت انسان کے بغیر بھی زندہ رہ سکتی ہے لیکن انسان فطرت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔
آج ہم خود اپنے ہاتھوں سے فضا میں کاربن بھر رہے ہیں۔ کارخانوں کا دھواں، بے ہنگم شہری پھیلاؤ، جنگلات کی کٹائی، فضائی آلودگی اور لامحدود منافع کی دوڑ ہمیں ایک ایسے راستے پر لے جا رہی ہے جہاں ایک نئی ماحولیاتی تباہی کا خطرہ موجود ہے۔ شاید زمین باقی رہے گی، سمندر باقی رہیں گے، پہاڑ باقی رہیں گے اور شاید زندگی کی کوئی نئی شکل بھی باقی رہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس دنیا میں انسان اسی طرح موجود رہیں جیسے آج ہیں۔ ارتقا کا عمل رکتا نہیں زندگی کسی نہ کسی صورت اپنا راستہ نکال لیتی ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم اپنی جگہ برقرار رکھ سکیں گے؟
یہ بات کسی خوف پھیلانے کے لیے نہیں کہی جا رہی بلکہ اس لیے کہ ہم حقیقت کو سمجھ سکیں۔ جو زہر ہم ماحول میں بو رہے ہیں وہ آخرکار ہماری اپنی سانسوں میں شامل ہو رہا ہے۔ جو درخت ہم کاٹ رہے ہیں ان کی کمی ہمارے اپنے جسموں پر گرمی کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ جو دریا ہم آلودہ کر رہے ہیں وہی آلودگی ہماری اپنی زندگیوں میں واپس آ رہی ہے۔اس لیے شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم ترقی کے معنی پر دوبارہ غور کریں۔ کیا ترقی صرف اونچی عمارتوں کا نام ہے؟ کیا ترقی صرف نئی شاہراہوں اور بڑے منصوبوں کا نام ہے؟ یا پھر ترقی کا مطلب یہ بھی ہے کہ ایک شہر میں چلنے والا انسان سایہ پا سکے صاف ہوا میں سانس لے سکے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک قابلِ رہائش دنیا چھوڑ سکے؟
دنیا کی یہ بدلتی حالت شاید ہمیں ایک آخری موقع دے رہی ہے۔ ایک موقع کہ ہم اپنے رویوں پر نظرثانی کریں اپنی ترجیحات بدلیں اور زمین کے ساتھ اپنے رشتے کو دوبارہ سمجھیں، کیونکہ فطرت انتقام نہیں لیتی وہ صرف اپنا توازن بحال کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب وہ توازن بحال ہوگا تو کیا ہم اس کا حصہ ہوں گے یا تاریخ کی کسی معدوم نسل کی طرح صرف ایک یاد بن کر رہ جائیں گے۔