میرپورخاص، پریم یونین کے وفد کی وفاقی وزیرریلوے سے ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
میرپورخاص (نمائندہ جسارت)پاکستان ریلوے ایمپلائز پریم یونین (سی بی اے، اوپن لائن) کے اعلیٰ سطحی وفد نے صدر شیخ محمد انور کی قیادت میں ریلوے ہیڈکوارٹرز لاہور میں وفاقی وزیر برائے ریلوے محمد حنیف عباسی سے ملاقات کی۔ وفد نے ریلوے ملازمین کو درپیش مختلف انتظامی، مالی اور فلاحی مسائل سے وزیر ریلوے کو تفصیلی طور پر آگاہ کیا وفد کی جانب سے پیش کیے گئے نکات پر وفاقی وزیر ریلوے نے نہایت مثبت ردِعمل دیتے ہوئے ریلوے ملازمین کے جائز مسائل مرحلہ وار حل کرنے کی یقین دہانی کروائی صدر پریم یونین شیخ محمد انور نے وزیر ریلوے کو ملازمین کے 15 نکاتی تحریری مطالبات پیش کیے، جس پر وفاقی وزیر ریلوے نے چیف ایگزیکٹو آفیسر عامر علی بلوچ کو موقع پر ہی ہدایت کی کہ ان مطالبات کے حل کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں وفاقی وزیر ریلوے نے اس موقع پر کہا کہ ان کی بھرپور کوشش ہے کہ دیگر وفاقی اداروں کی طرح ریلوے ملازمین کی پنشن کی ذمہ داری بھی وفاقی حکومت اپنے ذمے لے وفاقی وزیر ریلوے نے ریلوے کی کارکردگی مزید بہتر بنانے کے لیے پریم یونین کے مطالبے پر ٹرین آپریشن اسٹاف اور ٹیکنیکل اسٹاف کی فوری بھرتیوں کی منظوری دی انہوں نے محکمہ میں دو عملی کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے وزارت ریلوے اور پاکستان ریلوے کے لیے یکساں ورکنگ ڈیز کا شیڈول طے کرنے کا فیصلہ بھی کیا وزیر ریلوے نے لاہور اور راولپنڈی کے درمیان ریل کاروں میں ملازمین کے پاسز پر ایڈوانس بکنگ کے دوران کھانے کی مد میں کی جانے والی لازمی کٹوتی ختم کرنے، مستقل اور ٹی ایل اے ملازمین کی تنخواہوں کی بروقت ادائیگی، اور آر ٹی ایل، کیرج اور شیڈ سٹاف کی بہتر اکاموڈیشن کی یقین دہانی بھی کرائی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: وفاقی وزیر ریلوے نے پریم یونین
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔