جناح کنونشن سنٹر اسلام آباد میں پاک چین معدنی تعاون فورم کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
اسلام آباد(طارق محمود سمیر)جناح کنونشن سنٹر اسلام آباد میں پاک چین معدنی تعاون فورم کا شاندار انعقاد کیا گیا، جس کا اہتمام پاکستان میں قائم چائنا چیمبر آف کامرس نے کیا۔ فورم کا مقصد دونوں ممالک کی باہمی صلاحیتوں سے استفادہ کرتے ہوئے معدنیات اور کان کنی کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ دینا تھا۔
فورم میں 71 چینی اور 133 پاکستانی کمپنیوں کے 850 سے زائد نمائندگان نے شرکت کی، جس سے اس شعبے میں بڑھتی ہوئی دلچسپی اور سرمایہ کاری کے امکانات کا واضح اظہار ہوا۔
فورم کے مہمانِ خصوصی وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ڈویلپمنٹ اور خصوصی انیشی ایٹو احسن اقبال نے پاک چین دیرینہ سفارتی تعلقات کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کی شراکت داری خطے میں ترقی اور استحکام کی ضامن ہے۔
اس موقع پر چین کے سفیر عزت مآب جیانگ ژائڈانگ نے پاکستان کے معدنی شعبے میں چین کی گہری دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے مستقبل میں سرمایہ کاری اور تکنیکی تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
چائنا چیمبر آف کامرس پاکستان کے چیئرمین وانگ ہوئی ہوا نے کہا کہ معدنیات کا شعبہ پاک چین تعاون کا ایک نیا اور مضبوط ستون بن کر ابھر رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ چائنا چیمبر آف کامرس دونوں ممالک کے درمیان طویل المدتی اور باہمی مفادات پر مبنی شراکت داری کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔
وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے کہا کہ اہم معدنیات کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی طلب کے پیش نظر پاکستان عالمی معیار کے مطابق پائیدار کان کنی کے فروغ کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہا ہے۔
منیجنگ ڈائریکٹر جیولوجیکل سروے آف پاکستان نے بتایا کہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) معدنی شعبے کی ترقی کے لیے نمایاں سہولت کاری فراہم کر رہی ہے، جبکہ معدنیات اور کان کنی کا شعبہ ایس آئی ایف سی کے ترجیحی شعبوں میں شامل ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پاک چین
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔