قائم مقام چیئرمین سینیٹ کی آر آئی یو جے کے نومنتخب اراکین کے لیے نیک خواہشات
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
قائم مقام چیئرمین سینیٹ کی آر آئی یو جے کے نومنتخب اراکین کے لیے نیک خواہشات WhatsAppFacebookTwitter 0 29 January, 2026 سب نیوز
اسلام آباد ((آئی پی ایس)
قائم مقام چیئرمین سینیٹ، سیدال خان نے راولپنڈی/اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس (آر آئی یو جے) کے سالانہ انتخابات 2026 کے کامیاب اور خوش اسلوبی سے انعقاد پر نومنتخب عہدیداران کو دلی مبارکباد پیش کی ہے۔ انہوں نے تمام عہدیداران کے بلا مقابلہ منتخب ہونے کو صحافتی برادری کے اعتماد اور اتحاد کا مظہر قرار دیا۔
قائم مقام چیئرمین سینیٹ نے صدر منتخب ہونے پر آصف بشیر چوہدری، نائب صدور توصیف عباسی اور رشید ملک، جنرل سیکریٹری بشیر عثمانی، فنانس سیکریٹری اظہار خان نیازی، جوائنٹ سیکریٹریز راجہ عمران جنجوعہ اور رانا فرحان اسلم کو خصوصی طور پر مبارکباد دیتے ہوئے ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
انہوں نے ایگزیکٹو کونسل کے نومنتخب اراکین عائشہ ناز، علی اختر، نوابزادہ شاہ علی، شہزاد راجپوت، حمید عباسی، اسد شرر، غفران چشتی، نور ایمن زہرا، اعجاز احمد فکری اور دوست محمد کو بھی مبارکباد پیش کی اور امید ظاہر کی کہ وہ صحافی برادری کی فلاح و بہبود کے لیے فعال کردار ادا کریں گے۔
سیدال خان نے کہا کہ صحافی معاشرے میں جمہوری اقدار کے استحکام، آزادیِ اظہار کے فروغ اور عوام کو باخبر رکھنے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ نومنتخب قیادت صحافیوں کے درپیش مسائل کے حل، ان کے حقوق کے تحفظ اور صحافتی معیار کی بہتری کے لیے بھرپور جدوجہد جاری رکھے گی۔
قائم مقام چیئرمین سینیٹ نے آر آئی یو جے کی نومنتخب قیادت کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتخاب یونین کے اراکین کے اعتماد اور یکجہتی کی واضح علامت ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرفیض حمید کے بھائی کیخلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات کی انکوائری شروع فیض حمید کے بھائی کیخلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات کی انکوائری شروع کھیلوں میں جدت اور نوجوانوں کی شمولیت کے لیے امریکی اسنوبورڈ ماہر کی پاکستان آمد نیٹ میٹرنگ سولر صارفین کے یونٹس غائب، لاکھوں کے اضافی بل موصول ایرانی فوج کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے تیار ہے: عباس عراقچی پاکستان میں نیپا وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ کا خدشہ، الرٹ جاری حماس کا غزہ کی حکومت فلسطینی کمیٹی کے حوالے کرنے کا اعلان، رفح بارڈر فوری کھولنے کا مطالبہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: قائم مقام چیئرمین سینیٹ آر آئی یو جے کے لیے نیک
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔