عمران خان کے ویڈیو لنک ٹرائل نوٹیفیکیشن کے خلاف درخوات سماعت کیلئے منظور
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بنچ نے جی ایچ کیو حملہ سمیت 9 مئی تمام کیسز میں بانی پی ٹی آئی کے وڈیو لنک ٹرائل نوٹیفیکیشن کے خلاف دائر پٹیشن سماعت کیلئے منظور کر لی.
تفصیلات کے مطابق عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کر لیا ہے اور خود بھی پیش ہونے کا حکم دے دیا ہے جبکہ سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ کے جسٹس صداقت علی خان اور جسٹس طاہر محمود باجوہ نے پٹیشن کی سماعت کی۔ بانی پی ٹی آئی کی جانب سے سردار لطیف کھوسہ اور فیصل ملک ایڈووکیٹس پیش ہوئے۔
وکلاء نے مؤقف اپنایا کہ وڈیو لنک کے ذریعے اتنے اہم کیس کا فیئر ٹرائل ممکن نہیں، وکلاء کے مطابق دیگر ملزمان عدالت میں پیش ہوتے ہیں جبکہ عمران خان کو صرف وڈیو لنک پر پیش کیا جا رہا ہے، یہ نوٹیفیکیشن شفاف ٹرائل کا حق دینے والے آئین کے آرٹیکل 10 اے کے خلاف ورزی اور اس سے متصادم ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب کوئی وکیل اپنے کلائنٹ سے مشاورت نہیں کرے گا تو کیس کی پیروی کیسے کر سکتا ہے۔ قانون کے مطابق کلائنٹ کا اپنے وکلاء سے ملاقات مشاورت ضروری ہے۔ یہ سیاسی انتقامی کارروائی ہے اور استدعا کی وڈیو لنک ٹرائل نوٹیفیکیشن کالعدم قرار دیا جائے۔
ہائی کورٹ نے پٹیشن سماعت کیلئے منظور کر لی اور پٹیشن کی فوری سماعت کی تاریخ مقرر کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آفس بروقت اسے سماعت کے لئے مقرر کر دے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ ایف آئی اے امیگریشن نے دبئی جانے والے مسافر سید ظل اللہ احسان الزمان کو جعلی یو اے ای ریزیڈنس، ورک ویزا پر سفر کی کوشش کے دوران آف لوڈ کر دیا۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق دورانِ بورڈنگ عملے کو ٹکٹ کی تفصیلات ایئرلائن سسٹم میں نہ ملنے پر مسافر کو مزید جانچ کیلئے روکا گیا، تفصیلی جانچ کے دوران پیش کردہ یو اے ای ورک ویزا جعلی اور بوگس پایا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں مسافر نے انکشاف کیا کہ اس نے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ کرنے والے ایجنٹ ملک شہباز اعوان سے بیرون ملک ملازمت کے انتظامات کروائے تھے، مذکورہ ایجنٹ مبینہ طور پر ’’مَلک اوورسیز‘‘ کے نام سے جوہرآباد، خوشاب میں کام کر رہا ہے۔
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ ادائیگیاں مختلف جاز کیش اور بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی گئیں۔ مسافر نے مؤقف اختیار کیا کہ اسے ویزا کے جعلی ہونے کا علم نہیں تھا اور وہ خود بھی ویزا فراڈ کا شکار ہوا ہے۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق مسافر کو تمام متعلقہ دستاویزات سمیت مزید قانونی کارروائی اور تحقیقات کیلئے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا گیا ہے۔