منشیات اسمگلنگ کے اصل مالکان اکثر پکڑے نہیں جاتے، جسٹس جمال کے اہم ریمارکس
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
سپریم کورٹ نے ایک کلو ہیروئن اسمگلنگ کے ملزم عبدالودود کی درخواست ضمانت مسترد کر دی اور ٹرائل کورٹ کو ہدایت کی کہ مقدمے کا فیصلہ 60 روز کے اندر سنایا جائے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگر 60 دن کے اندر فیصلہ نہ ہوا تو ملزم دوبارہ ضمانت کے لیے درخواست دے سکتا ہے۔
جمال مندوخیل کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ ملزم کے وکیل نے دلائل دیے کہ مقدمے میں ضمانت کا معاملہ واضح ہے کیونکہ نہ ویڈیو ریکارڈنگ موجود ہے، نہ ٹھوس شواہد اور نہ ہی گواہ۔ وکیل نے یہ بھی کہا کہ اے این ایف ملک کی سپیریئر ایجنسی ہونے کا دعویٰ کرتی ہے، لیکن حقیقت مختلف ہے۔
جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ اصل سپیریئر ایجنسی کون ہے، یہ بھی طے ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اے این ایف کا طریقہ کار پہلے بہتر تھا، لیکن اب اس میں خامیاں ہیں۔ اکثر منشیات کے اصل مالکان پکڑے نہیں جاتے، اور مخبر صرف اسمگلنگ کی اطلاع دیتا ہے، مگر مالکان کا پتہ نہیں بتاتا۔ علاوہ ازیں، مخبر عام طور پر گاڑی لوڈ ہونے کے وقت اطلاع نہیں دیتا۔
جسٹس جمال نے مزید کہا کہ عدالت جذبات سے فیصلے نہیں کرتی، اور ایک کلو ہیروئن بھی ایک سنگین جرم ہے۔
آخرکار عدالت نے تمام دلائل سننے کے بعد عبدالودود کی درخواست ضمانت مسترد کر دی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔