وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر بسنت فیسٹیول کے لیے جامع حفاظتی اقدامات
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
طاہر جمیل: وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر بسنت فیسٹیول کے دوران حفاظتی انتظامات کو یقینی بنانے کے لیے ڈپٹی کمشنر لاہور نے 6 تا 8 فروری کو ہونے والے پتنگ بازی فیسٹیول کا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ، پولیس اور متعلقہ محکموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ حفاظتی گائیڈ لائنز پر مکمل عملدرآمد کریں۔ ضابطہ اخلاق لاہور بھر کے تمام مقامات بشمول عمارتوں اور چھتوں پر لاگو ہوگا اور پتنگ بازی ایکٹ اور سیفٹی رولز کی خلاف ورزی پر سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
پشاوربورڈ نے میٹرک امتحانات کے شیڈول کا اعلان کردیا
ضلعی افسران اور پولیس کو چھتوں اور مقامات کے معائنے کا اختیار تفویض کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی غیر محفوظ مقام پر پتنگ بازی پر پابندی لگائی جا سکے۔ شہریوں کے تحفظ کے لیے 12 نکاتی سخت ضابطہ اخلاق جاری کیا گیا ہے جس میں خطرناک ڈور اور ہوائی فائرنگ کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ شہریوں کی حفاظت کے لیے دھاتی، کیمیائی اور نیلون ڈور کے استعمال پر سختی سے پابندی ہوگی جبکہ لاہور میں موٹر سائیکلوں پر سیفٹی راڈز کی تنصیب کو لازمی یقینی بنایا جائے گا۔ ہوائی فائرنگ اور عوامی سکون میں خلل ڈالنے والے ساؤنڈ سسٹم پر پابندی ہوگی اور ایئرپورٹ اور حساس تنصیبات کے قریب پتنگ بازی کی ہرگز اجازت نہیں ہوگی۔
پاکستان اسٹیل ملز کے اثاثے چوری ہونے لگے، چوری سے بچانےکیلئے بعض اثاثوں کی نیلامی کا فیصلہ
چھتوں کے مالکان کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ حفاظتی انتظامات کریں اور کسی بھی حادثے کی صورت میں وہ ذاتی ذمہ دار ہوں گے۔ غیر محفوظ چھتوں کے استعمال پر سخت پابندی عائد کی گئی ہے۔ ڈپٹی کمشنر لاہور نے کہا ہے کہ ثقافتی تہوار کو محفوظ بنانے کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں گے اور خطرناک ڈور کی خرید و فروخت پر پابندی پر سختی سے عمل کرایا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: پتنگ بازی کے لیے گئی ہے
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔