سٹی42:  پنجاب پولیس نے اینٹی کائٹ فلائنگ ایکٹ کی خلاف ورزی پر زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کرتے ہوئے صوبہ بھر میں بھرپور کریک ڈاؤن جاری رکھا ہوا ہے۔ آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کا کہنا ہے کہ صوبے میں کسی بھی جگہ پتنگ بازی ہرگز قابل برداشت نہیں، تاہم لاہور میں صرف مخصوص دنوں میں بسنت منانے کی اجازت دی گئی ہے۔

ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق رواں سال صوبہ بھر میں پتنگ بازی میں ملوث 2621 ملزمان کو گرفتار کیا گیا جبکہ 2550 مقدمات درج کیے گئے۔ کارروائیوں کے دوران ایک لاکھ 86 ہزار 944 پتنگیں اور 4184 ڈور چرخیاں برآمد کی گئیں۔

پشاوربورڈ نے میٹرک امتحانات کے شیڈول کا اعلان کردیا

لاہور میں بھی پولیس نے مؤثر کارروائیاں کرتے ہوئے 1181 ملزمان کو گرفتار کیا اور مقدمات درج کیے۔ شہر سے 53 ہزار سے زائد پتنگیں اور 1073 ڈور چرخیاں برآمد کی گئیں۔

ترجمان کے مطابق لاہور میں دھاتی ڈور سے بچاؤ کے لیے ایک لاکھ 38 ہزار 893 حفاظتی راڈز تقسیم کیے گئے جبکہ 53 ہزار 752 افراد سے شورٹی بانڈز بھی حاصل کیے گئے تاکہ پتنگ بازی کی روک تھام کو یقینی بنایا جا سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: سٹی42

پڑھیں:

لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق

لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔

(جاری ہے)

پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی