نیب نے 4 لاکھ 61 ہزار ایکڑ زمین واپس لے لی، چیئرمین نے دستاویز وزیراعلیٰ سندھ کے حوالے کردیں
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
تصویر: وزیراعلیٰ ہاوس، فیس بک
چیئرمین قومی احتساب بیورو (نیب ) لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو سرکاری زمین کی بازیابی کی دستاویز دے دیں۔
وزیراعلیٰ سندھ سے چیئرمین نیب نے کراچی میں ملاقات کی، اس موقع پر سرکاری زمین کی واپسی کے لیے مشترکہ کارروائی کا اعادہ کیا گیا۔
چیئرمین قومی احتساب بیورو (نیب) لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے کہا ہے کہ کراچی کے ذریعے پاکستان کے سارے قرض اتارسکتے ہیں۔
ترجمان وزیراعلیٰ ہاؤس کے مطابق ملاقات میں وزیراعلیٰ سندھ کو چیئرمین نیب نے سرکاری زمین کی بازیابی سے متعلق رپورٹ اور سندھ حکومت کو زمین کی واپسی سے متعلق دستاویزات پیش کیں۔
اپنی بریفنگ میں بتایا کہ نیب نے سرکاری زمین سے متعلق 188 مقدمات کی تحقیقات مکمل کی ہے، تفتیش کے بعد قبضہ مافیا سے مجموعی طور پر 4 لاکھ 61 ہزار ایکڑ سے زائد زمین واپس لے لی۔
چیئرمین نیب کی بریفنگ میں بتایا گیا کہ واپس لی گئی زمین میں ایویکیو لینڈ 635 ایکڑ، کلفٹن بلاک ون اور ٹو کی 350 ایکڑ سمندری زمین، سجاول اور ٹھٹہ میں 4 لاکھ ایکڑ جنگلات کی زمین شامل ہے۔
چیئرمین نیب کی بریفنگ میں بتایا گیا کہ جامشورو میں 83 جعلی ریونیو اندراجات منسوخ کروانے کے بعد 1 ہزار 40 ایکڑ زمین واگزار کروائی گئی۔
وزیراعلیٰ نے عوامی اثاثوں کی واپسی پر نیب کا شکریہ ادا کیا اور جنگلات اور مینگرووز کی زمین سے متعلق سمریوں کی فوری منظوری کی ہدایت کردی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سرکاری زمین چیئرمین نیب زمین کی
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔