’عمران خان کی تصاویر والی پتنگیں سامنے آگئیں‘ حکومت نے پابندی عائد کردی
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
بسنت پر اشتعال انگیزی روکنے کیلئے دفعہ 144 نافذ کر دی گئی جب کہ پتنگوں پرمقدس کتب، مذہبی مقامات یا کسی شخصیت کی تصویر لگانے پر مکمل پابندی ہوگی،کسی ملک یا سیاسی جماعت کے جھنڈے کی تصویر والی پتنگوں پر بھی پابندی ہو گی۔
30 روزکے لیے مذہبی و سیاسی نقش ونگار والی پتنگوں کی تیاری،خرید و فروخت اوراستعمال پر پابندی ہوگی،بسنت کے دوران بغیر تصویر یک رنگی یا کثیر رنگی پتنگ استعمال کرنے کی اجازت ہو گی۔
خلافِ قانون پتنگوں کی تیاری،نقل وحمل،ذخیرہ، فروخت اور استعمال قابلِ تعزیر جرم قراردیاگیا،اشتعال انگیز عناصرکی جانب سے بسنت کےدوران مذہبی یا سیاسی علامات استعمال کرنےکا اندیشہ تھا۔
اس وقت پنجاب حکومت کو یہ خوف لاحق ہے کہ کہیں عوام بسنت کے دنوں میں پتنگوں پر 804 اور عمران خان کی تصویر نہ لگا دیں۔
عوام اپنی امنگوں اور پسند کا اظہار ہر ممکن طریقے سے کرتے ہیں۔ جعلی اور مسلط حکومتیں عوام کے جذبات سے نہیں لڑ سکتیں۔
عمران کو روکو گے؟ عمران تو ہو کر رہے گا۔ pic.
— Hammad Azhar (@Hammad_Azhar) January 26, 2026
دفعہ 144 کے تحت احکامات فوری نافذ العمل؛ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سخت کارروائی کی ہدایت کی گئی ہے،حکومتِ پنجاب نے لاہور میں 6 تا 8 فروری کو محفوظ بسنت کی مشروط اجازت دی ہےڈپٹی کمشنر لاہور نے پنجاب کائٹ فلائنگ ایکٹ 2025 کے تحت بسنت 2026 کا نوٹیفیکیشن جاری کیا۔
ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق حکومت پنجاب نے محفوظ بسنت کی اجازت ایک تفریحی تہوار کے طور پر دی،بسنت کے موقع پر کسی قسم کی قانون شکنی کی اجازت نہیں دی جائے گی،حکومت پنجاب نے بسنت کے دوران امنِ عامہ کو برقرار رکھنے اور عوام کے مذہبی جذبات کے احترام کیلئے پابندیاں عائد کیں۔
پنجاب کائٹ فلائنگ ایکٹ 2025 کے تحت دھاتی تار، نائلون یا شیشے سے لیپ شدہ ڈور کے استعمال پر مکمل پابندی ہے،حکومت پنجاب نے خطرناک ڈور اور پتنگوں کی تیاری، نقل و حمل، ذخیرہ، فروخت اور استعمال ممنوع قرار دی ہے۔
مقررہ تواریخ سےقبل پتنگ بازی پر 5 سال قید اور 20 لاکھ روپےتک جرمانےکی سزا ہوسکتی ہے،ممنوعہ مواد کی تیاری یا فروخت میں ملوث افراد کو 7 سال قید اور 50 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔
Tagsپاکستان
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل کی تیاری بسنت کے
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔