Express News:
2026-07-24@10:33:26 GMT

پنجاب حکومت کا شعبہ کان کنی کو فروغ دینے کا فیصلہ

اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT

لاہور:

حکومت پنجاب نے شعبہ کان کنی کو فروغ دینے کے لیے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے محفوظ جنگلات اور پروٹیکٹڈ ایریاز میں بھی معدنی سرگرمیوں کی اجازت دینے کی تجویز پیش کر دی۔

اس مقصد کے لیے پنجاب اسمبلی میں ایک ہی نوعیت کے تین مختلف مسودہ قوانین پیش کیے گئے ہیں۔ تینوں مسودہ قوانین بروز پیر پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں پیش کیے گئے، جن کے تحت جنگلات، محفوظ علاقوں اور وائلڈ لائف سے متعلق پرانے قوانین میں ترامیم کی جائیں گی۔

پیش کیے گئے مسودہ قوانین میں جنگلات (ترمیم) ایکٹ 2026 کے تحت جنگلات ایکٹ 1927، پنجاب پروٹیکٹڈ ایریاز (ترمیم) ایکٹ 2026 کے تحت پنجاب پروٹیکٹڈ ایریاز ایکٹ 2020، جبکہ پنجاب وائلڈ لائف (ترمیم) ایکٹ 2026 کے تحت پنجاب وائلڈ لائف ایکٹ 1974 میں ترامیم شامل ہیں۔

مسودہ قانون کے متن کے مطابق جنگلاتی علاقوں میں موجود قیمتی معدنی وسائل قانونی رکاوٹوں کے باعث استعمال نہیں ہو پا رہے تھے، جبکہ غیر واضح قوانین کے سبب کان کنی کے منصوبے تعطل کا شکار تھے۔

بلز میں تجویز دی گئی ہے کہ قومی اہمیت کے ترقیاتی اور معدنی منصوبوں کو محفوظ اور جنگلاتی علاقوں میں معدنی سرگرمیوں کے اختیارات دیے جائیں گے اور جنگلاتی اراضی کو کان کنی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا قانونی فریم ورک تیار کیا جائے گا۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ قومی معدنی پالیسی سے ہم آہنگی اور معیشت، روزگار اور ریونیو میں اضافے کے لیے معدنی وسائل کا استعمال ضروری ہے۔ ساتھ ہی غیر قانونی کان کنی کی روک تھام کے لیے ریگولیٹڈ نظام متعارف کرانا لازم تھا۔

پنجاب اسمبلی نے تینوں مسودہ قوانین کو دو ماہ کے لیے متعلقہ کمیٹی کے حوالے کر دیا ہے۔ کمیٹی کی منظوری کے بعد انہیں دوبارہ اسمبلی سے منظور کروایا جائے گا، جبکہ حتمی منظوری گورنر پنجاب دیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: مسودہ قوانین کان کنی کے لیے کے تحت

پڑھیں:

حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کیلئےحاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔

سٹاک مارکیٹ میں مندی، انڈیکس ایک لاکھ 70 ہزار پوائنٹس کی حد کھو بیٹھا

دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔

سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔

دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔

ٹرمپ کو بغیر سوچے سمجھے جارحیت کی قیمت چکانا پڑے گی: عباس عراقچی

حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔

دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔

پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت کا اعلان

وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔ 
 

مزید :

متعلقہ مضامین

  • ایس سی او اجلاس: اسحاق ڈار کا علاقائی امن اور تعاون کے فروغ کے عزم کا اعادہ
  • سندھ حکومت کا مہنگے داموں پاسکو سے گندم خریدنے کا فیصلہ
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • رائل کمیشن کی مکہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم پیشرفت
  • حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن