اسکول کی عمارتوں کے غیر تعلیمی استعمال پر پابندی، خلاف ورزی پر سخت کارروائی کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی:ڈائریکٹوریٹ آف انسپکشن اینڈ رجسٹریشن آف پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز نے سندھ بھر کے نجی اسکولوں کو سختی سے ہدایت جاری کی ہے کہ اسکول کی عمارتیں صرف اور صرف تعلیمی مقاصد کے لیے استعمال کی جائیں جبکہ انہیں رہائشی یا تجارتی سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنے کی کسی صورت اجازت نہیں ہوگی۔
ڈائریکٹوریٹ کے مطابق تمام نجی اسکولوں کے لیے لازمی قرار دیا گیا ہے کہ وہ اپنی عمارت کا باقاعدہ معائنہ کروائیں اور عمارت کے محفوظ، مستحکم اور قابلِ استعمال ہونے کا درست اسٹرکچرل فٹنس سرٹیفکیٹ جمع کروائیں۔
جاری کردہ ہدایات میں کہا گیا ہے کہ یہ مشاہدے میں آیا ہے اور متعدد رپورٹس موصول ہوئی ہیں کہ بعض نجی اسکول رجسٹریشن یا تجدیدِ رجسٹریشن کے لیے درخواست دیتے وقت معائنے یا سرکاری کمیٹیوں کے دوروں کے دوران عارضی طور پر ایک موزوں تعلیمی ماحول قائم کر دیتے ہیں، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ اسکول کی حدود میں صرف تدریسی اور تعلیمی سرگرمیاں ہی جاری ہیں۔
رجسٹریشن یا تجدید کے بعد بعض اسکول انتظامیہ خاموشی سے اسکول کے احاطے کے کچھ حصے غیر تعلیمی مقاصد کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیتی ہے۔
ڈائریکٹوریٹ کے مطابق ان غیر قانونی سرگرمیوں میں اسکول کی عمارت کے گراؤنڈ فلور یا بالائی منزلوں پر ذاتی رہائش منتقل کرنا اور اسکول کے سامنے یا احاطے میں تعمیر شدہ دکانیں کرایہ پر دے کر انہیں تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کروانا شامل ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس قسم کے اقدامات قابلِ اطلاق قوانین و ضوابط کی کھلی اور سنگین خلاف ورزی ہیں، کیونکہ اسکولوں کو رجسٹریشن صرف تعلیمی سرگرمیوں کے انعقاد کے لیے دی جاتی ہے۔
اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ اسکول کی عمارت کو رہائشی یا تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کرنا نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ یہ طلبہ کی جان و مال کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتا ہے، جسے بچوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف سمجھا جائے گا۔ اس پس منظر میں تمام اسکول انتظامیہ کو سختی سے متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر اسکول کے احاطے سے تمام رہائشی انتظامات اور تجارتی سرگرمیاں بلا تاخیر ختم کریں۔
ڈائریکٹوریٹ نے اعلان کیا ہے کہ اس کی انسپکشن کمیٹیاں تعمیل کو یقینی بنانے کے لیے مختلف اسکولوں کے دورے کریں گی۔ اگر اسکول کی حدود میں تعلیمی استعمال کے علاوہ کسی بھی قسم کی رہائشی یا تجارتی سرگرمی پائی گئی تو سندھ پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز (ریگولیشن اینڈ کنٹرول) آرڈیننس، 2001 کے سیکشن 8 کے تحت رجسٹریشن کی منسوخی یا معطلی سمیت سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جبکہ متعلقہ ضلعی انتظامیہ کو اسکول کی عمارت سیل کرنے کے لیے بھی مطلع کیا جائے گا۔
اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ عمارت کی خراب حالت کے باعث کسی بھی حادثے، ساختی خرابی یا ناخوشگوار واقعے کی صورت میں اس کی مکمل قانونی اور انتظامی ذمہ داری اسکول انتظامیہ پر عائد ہوگی، اور طلبہ، عملے یا عوام کو پہنچنے والے کسی بھی جانی یا مالی نقصان کی مکمل ذمہ داری بھی اسکول انتظامیہ ہی برداشت کرے گی۔
حماد حسین
وہاج فاروقی
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مقاصد کے لیے استعمال اسکول انتظامیہ اسکول کی عمارت گیا ہے کہ کہ اسکول ہے کہ اس
پڑھیں:
پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی اور علمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کو نئے کمپیوٹر عطیہ کر دیے، جبکہ پاکستانی ہائی کمیشن کے تعاون سے قائم جدید کمپیوٹر لیبارٹری اور تزئین و آرائش شدہ کلاس رومز کا بھی افتتاح کر دیا گیا۔
تقریب میں بنگلہ دیش میں پاکستان کے ہائی کمشنر عمران حیدر اور ڈھاکہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام نے مشترکہ طور پر کمپیوٹر لیب کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے تعلیم، تحقیق، ثقافتی روابط اور انسانی وسائل کی ترقی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔
ہائی کمشنر عمران حیدر نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کمپیوٹر لیب کا قیام صرف نئی سہولیات کی فراہمی نہیں بلکہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلیم، ثقافتی ہم آہنگی اور نئی نسل کے روشن مستقبل کے لیے مشترکہ عزم کی علامت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جدید لیبارٹری طلبہ اور اساتذہ کی صلاحیتوں میں اضافے، تحقیق کے فروغ اور معیاری تعلیم کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ تعلیم باہمی اعتماد، تعاون اور عوامی روابط کو فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ ہے، اسی مقصد کے تحت پاکستانی ہائی کمیشن مختلف تعلیمی اور علمی تعاون کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کی جامعات کے درمیان مشترکہ تحقیقی منصوبوں، اساتذہ اور طلبہ کے تبادلہ پروگرام، سمسٹر ایکسچینج، مشترکہ ڈگری پروگرامز اور قلیل مدتی تربیتی کورسز شروع کرنے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
اس سے قبل ہائی کمشنر عمران حیدر نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام سے ملاقات کی، جس میں ڈھاکہ یونیورسٹی اور پاکستان کی مختلف جامعات کے درمیان تعلیمی روابط بڑھانے اور مشترکہ تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش میں طارق رحمان کی وزراتِ عظمیٰ: پاک بنگلہ دیش تعلقات میں تاریخی پیشرفت کے مواقع
وائس چانسلر نے پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے شعبہ اردو کی ترقی کے لیے فراہم کیے گئے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ 1921 میں قائم ہونے والا شعبہ اردو یونیورسٹی کے قدیم اور ممتاز شعبوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں اس وقت بی ایس (آنرز)، ماسٹرز، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر تعلیم دی جا رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کا تعاون مستقبل میں بھی جاری رہے گا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور تعلیمی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔
تقریب میں فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار، شعبہ اردو کے چیئرمین ایسوسی ایٹ پروفیسر محمد غلام مولا، پروفیسر ڈاکٹر محمد غلام ربانی، پاکستانی ہائی کمیشن کے ڈپٹی ہائی کمشنر محمد واصف سمیت اساتذہ، طلبہ اور دونوں ممالک کے حکام نے بھی شرکت کی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک بنگلہ دیش پاکستان پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار ڈھاکہ یونیورسٹی کمپیوٹر لیب