data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی:ڈائریکٹوریٹ آف انسپکشن اینڈ رجسٹریشن آف پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز نے سندھ بھر کے نجی اسکولوں کو سختی سے ہدایت جاری کی ہے کہ اسکول کی عمارتیں صرف اور صرف تعلیمی مقاصد کے لیے استعمال کی جائیں جبکہ انہیں رہائشی یا تجارتی سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنے کی کسی صورت اجازت نہیں ہوگی۔

ڈائریکٹوریٹ کے مطابق تمام نجی اسکولوں کے لیے لازمی قرار دیا گیا ہے کہ وہ اپنی عمارت کا باقاعدہ معائنہ کروائیں اور عمارت کے محفوظ، مستحکم اور قابلِ استعمال ہونے کا درست اسٹرکچرل فٹنس سرٹیفکیٹ جمع کروائیں۔

جاری کردہ ہدایات میں کہا گیا ہے کہ یہ مشاہدے میں آیا ہے اور متعدد رپورٹس موصول ہوئی ہیں کہ بعض نجی اسکول رجسٹریشن یا تجدیدِ رجسٹریشن کے لیے درخواست دیتے وقت معائنے یا سرکاری کمیٹیوں کے دوروں کے دوران عارضی طور پر ایک موزوں تعلیمی ماحول قائم کر دیتے ہیں، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ اسکول کی حدود میں صرف تدریسی اور تعلیمی سرگرمیاں ہی جاری ہیں۔

 رجسٹریشن یا تجدید کے بعد بعض اسکول انتظامیہ خاموشی سے اسکول کے احاطے کے کچھ حصے غیر تعلیمی مقاصد کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیتی ہے۔

ڈائریکٹوریٹ کے مطابق ان غیر قانونی سرگرمیوں میں اسکول کی عمارت کے گراؤنڈ فلور یا بالائی منزلوں پر ذاتی رہائش منتقل کرنا اور اسکول کے سامنے یا احاطے میں تعمیر شدہ دکانیں کرایہ پر دے کر انہیں تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کروانا شامل ہے۔

 حکام کا کہنا ہے کہ اس قسم کے اقدامات قابلِ اطلاق قوانین و ضوابط کی کھلی اور سنگین خلاف ورزی ہیں، کیونکہ اسکولوں کو رجسٹریشن صرف تعلیمی سرگرمیوں کے انعقاد کے لیے دی جاتی ہے۔

اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ اسکول کی عمارت کو رہائشی یا تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کرنا نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ یہ طلبہ کی جان و مال کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتا ہے، جسے بچوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف سمجھا جائے گا۔ اس پس منظر میں تمام اسکول انتظامیہ کو سختی سے متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر اسکول کے احاطے سے تمام رہائشی انتظامات اور تجارتی سرگرمیاں بلا تاخیر ختم کریں۔

ڈائریکٹوریٹ نے اعلان کیا ہے کہ اس کی انسپکشن کمیٹیاں تعمیل کو یقینی بنانے کے لیے مختلف اسکولوں کے دورے کریں گی۔ اگر اسکول کی حدود میں تعلیمی استعمال کے علاوہ کسی بھی قسم کی رہائشی یا تجارتی سرگرمی پائی گئی تو سندھ پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز (ریگولیشن اینڈ کنٹرول) آرڈیننس، 2001 کے سیکشن 8 کے تحت رجسٹریشن کی منسوخی یا معطلی سمیت سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جبکہ متعلقہ ضلعی انتظامیہ کو اسکول کی عمارت سیل کرنے کے لیے بھی مطلع کیا جائے گا۔

اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ عمارت کی خراب حالت کے باعث کسی بھی حادثے، ساختی خرابی یا ناخوشگوار واقعے کی صورت میں اس کی مکمل قانونی اور انتظامی ذمہ داری اسکول انتظامیہ پر عائد ہوگی، اور طلبہ، عملے یا عوام کو پہنچنے والے کسی بھی جانی یا مالی نقصان کی مکمل ذمہ داری بھی اسکول انتظامیہ ہی برداشت کرے گی۔

حماد حسین وہاج فاروقی

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: مقاصد کے لیے استعمال اسکول انتظامیہ اسکول کی عمارت گیا ہے کہ کہ اسکول ہے کہ اس

پڑھیں:

سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت

ممبئی: سلمان خان بیان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے بھارت میں طلباء کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر تعلیمی نظام کے لیے نوجوانوں کی آواز سنی جانی چاہیے اور اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے۔

سلمان خان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدا میں یہ ایک پرامن تحریک تھی، تاہم بعد میں اس کا پرتشدد رخ اختیار کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران متاثر ہونے والے طلباء اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔

اداکار نے کہا کہ پیپر لیک جیسے معاملات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور انہیں فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ خوش آئند بات ہے کہ طلباء بہتر تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے متحد ہوئے، جبکہ والدین نے بھی ان کی جدوجہد میں بھرپور ساتھ دیا۔

سلمان خان بیان میں مزید کہا گیا کہ طلباء نے اپنے عزم، محنت اور خلوص سے ثابت کیا ہے کہ وہ تعلیم حاصل کر کے ملک کے روشن مستقبل میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے جذبے، ہمت اور تعلیم سے وابستگی کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی نسل مستقبل میں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔

بالی ووڈ اسٹار نے زور دیا کہ طلباء کے مطالبات کو سیاسی تنازع نہ بنایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست تعلیمی نظام اور طلباء کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بھی اس معاملے کا مثبت حل نکالے گی اور تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔

سلمان خان نے اپنے پیغام کے اختتام پر دعا کی کہ علم حاصل کرنے والے تمام طلباء اپنی منزل حاصل کریں اور ملک میں ایسا تعلیمی ماحول قائم ہو جہاں میرٹ، شفافیت اور انصاف کو اولین ترجیح دی جائے۔

متعلقہ مضامین

  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت