لاہور ہائیکورٹ میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔
چیف جسٹس مس عالیہ نیلم نے آٹھویں جماعت کی طالبہ علایا سلیم کی درخواست پر سماعت کی، جسے انہوں نے اپنی وکیل شیزا قریشی کے ذریعے دائر کیا تھا۔
عدالت نے وفاقی حکومت، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) اور دیگر متعلقہ اداروں سے ایک ہفتے کے اندر جواب طلب کر لیا ہے۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ یہ معاملہ بہت اہم ہے اور اس پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ سوشل میڈیا بچوں کی ذہنی، اخلاقی اور تعلیمی نشوونما پر منفی اثر ڈال رہا ہے اور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے۔
درخواست گزار نے یہ بھی کہا کہ ٹک ٹاک سمیت دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا استعمال کم عمر بچوں کی نفسیات پر منفی اثر ڈال رہا ہے۔ درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کی جائے تاکہ ان کی ذہنی اور اخلاقی نشوونما متاثر نہ ہو۔
یہ سماعت اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ عدالت بچوں کی سلامتی اور ان کے حقوق کے تحفظ کے معاملے کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کم عمر بچوں سوشل میڈیا بچوں کے

پڑھیں:

آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری

الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔

الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔

اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔

کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری