لاہور ہائیکورٹ میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کی درخواست پر سماعت
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
لاہور ہائیکورٹ میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔
چیف جسٹس مس عالیہ نیلم نے آٹھویں جماعت کی طالبہ علایا سلیم کی درخواست پر سماعت کی، جسے انہوں نے اپنی وکیل شیزا قریشی کے ذریعے دائر کیا تھا۔
عدالت نے وفاقی حکومت، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) اور دیگر متعلقہ اداروں سے ایک ہفتے کے اندر جواب طلب کر لیا ہے۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ یہ معاملہ بہت اہم ہے اور اس پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ سوشل میڈیا بچوں کی ذہنی، اخلاقی اور تعلیمی نشوونما پر منفی اثر ڈال رہا ہے اور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے۔
درخواست گزار نے یہ بھی کہا کہ ٹک ٹاک سمیت دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا استعمال کم عمر بچوں کی نفسیات پر منفی اثر ڈال رہا ہے۔ درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کی جائے تاکہ ان کی ذہنی اور اخلاقی نشوونما متاثر نہ ہو۔
یہ سماعت اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ عدالت بچوں کی سلامتی اور ان کے حقوق کے تحفظ کے معاملے کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کم عمر بچوں سوشل میڈیا بچوں کے
پڑھیں:
سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
حکومتِ پنجاب نے سیکیورٹی خدشات(security risk) کے پیشِ نظر دفعہ 144 کے تحت پنجاب بھر میں کھلی فضا میں ڈرون اڑانے پر عائد پابندی میں مزید 30 دن کی توسیع کر دی۔
اس حوالے سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق کھلے مقامات پر ڈرون کے استعمال پر پابندی برقرار رہے گی۔
مزید پڑھیں:واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ ہالز اور مارکیز کے اندر تقریبات کے دوران چھوٹے ڈرونز کے محدود استعمال کی اجازت ہو گی تاہم اندرونی تقریبات میں ڈرون کے محفوظ استعمال کی ذمے داری منتظمین پر عائد ہو گی۔