ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ سے قبل امریکا کو بڑا دھچکا، اہم کھلاڑی پر پابندی عائد
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ سے قبل امریکی ٹیم کو اپنے تجربہ کار بلے باز سے ہاتھ دھونا پڑگیا۔
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے امریکا کے ایرون جونز پر اینٹی کرپشن کوڈ کی پانچ خلاف ورزیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر ہر قسم کی کرکٹ کھیلنے سے معطل کر دیا ہے۔
آئی سی سی کی جانب سے جونز کو الزامات کا جواب دینے کے لیے 14 دن کی مہلت دی گئی ہے۔
31 سالہ ایرون جونز اس وقت امریکا کے ان 18 کھلاڑیوں میں شامل تھے جو 2026 ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی تیاری کے لیے سری لنکا میں ٹریننگ کیمپ میں موجود ہیں۔
امریکا نے تاحال ورلڈ کپ کے لیے اسکواڈ کا اعلان نہیں کیا، تاہم امکان تھا کہ کیمپ میں موجود کھلاڑیوں میں سے 15 کا انتخاب کیا جائے گا، لیکن معطلی کے بعد جونز اب انتخاب کے لیے نااہل ہو گئے ہیں۔
آئی سی سی کے مطابق زیادہ تر الزامات 2023-24 کے ’بیم 10‘ ٹورنامنٹ سے متعلق ہیں جو بارباڈوس میں کھیلا گیا اور کرکٹ ویسٹ انڈیز کے دائرہ اختیار میں آتا ہے، جبکہ دو الزامات بین الاقوامی میچز سے جڑے ہوئے ہیں۔
ان الزامات میں میچ فکسنگ، مشکوک رابطوں کی اطلاع نہ دینا، تحقیقات میں تعاون سے انکار اور شواہد چھپانے جیسے سنگین امور شامل ہیں۔
آئی سی سی نے واضح کیا ہے کہ یہ کیس ایک وسیع تحقیقات کا حصہ ہے جس کے نتیجے میں مزید افراد پر بھی الزامات عائد کیے جا سکتے ہیں۔
USA batter Aaron Jones has been charged by the ICC with five breaches of the Anti-Corruption Code and suspended from playing all cricket with immediate effect
More details: https://t.
واضح رہے کہ ایرون جونز نے 2019 میں ڈیبیو کے بعد امریکا کی جانب سے 52 ون ڈے اور 48 ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے ہیں۔
2024 ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں انہوں نے کینیڈا کے خلاف 94 رنز کی شاندار اننگز کھیلنے کے علاوہ پاکستان کے خلاف تاریخی فتح میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔