کسانوں کی مشکلات حقیقی ہیں، حکومت راستہ نکالے گی: سپیکر پنجاب اسمبلی
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
لاہور (خصوصی نامہ نگار) پنجاب اسمبلی پارلیمانی رپورٹرز پریس گیلری کے نو منتخب عہدیداران کی حلف برداری کی تقریب پنجاب اسمبلی میں منعقد ہوئی، سپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خاں نے نو منتخب عہدیداران سے حلف لیا۔ تقریب میں پریس کلب کے نو منتخب صدر ارشد انصاری سمیت عہدیداروںاور صحافیوں کی کثیر تعداد موجود تھی۔ سپیکر ملک احمد خاں نے نو منتخب عہدیداران کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب اسمبلی پارلیمانی رپورٹرز پریس گیلری پنجاب اسمبلی کے اس ایوان کا اہم حصہ ہیں اور ہم صحافیوں کے مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن کردار ادا کریں گے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سپیکر پنجاب نے کہا کہ سیاست ایک انتہائی معتبر اور ذمہ دارانہ عمل ہے، سیاست میں یہ دیکھا جانا چاہیے کہ قومی مفاد کیا ہے اور کہاں اس پر سمجھوتہ کیا جا رہا ہے۔ سپیکر ملک محمد احمد خاں نے کہا کہ اخبارات نے ان کی سیاسی تربیت میں اہم کردار ادا کیا اور وہ چاہتے ہیں کہ نئی نسل بھی پرنٹ میڈیا کے ذریعے آگاہی حاصل کرے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اخبارات کے ملازمین کے لیے قانون سازی کی جائے گی اور اگر ضرورت پڑی تو پرائیویٹ ممبر ڈے پر بل بھی پیش کیا جائے گا تاکہ پریس گیلری کے ممبران کے حقوق کو قانون کی شکل دی جا سکے اور آئندہ آنے والے بھی ان کا خیال رکھیں۔ جدید اے آئی کے دور میں غلط پروپیگنڈا پھیلانا آسان ہو گیا ہے، تاہم فیکٹ چیکنگ ایک مثبت عمل ہے۔ انہوں نے کسانوں کے مسائل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ کسانوں کی مشکلات حقیقی ہیں، گندم کی قیمت وہ نہیں جو ملنی چاہیے، تاہم انہیں امید ہے کہ حکومت کسانوں کے لیے بھی بہتر راستہ نکالے گی۔ انہوں نے وفاقی حکومت کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ وفاق نے ملک کو بڑے بحرانوں سے بچایا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پنجاب اسمبلی کہا کہ
پڑھیں:
پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
لاہور: پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع کردی گئی۔محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق صوبہ بھر میں کھلی فضا میں ڈرون اُڑانے پر مکمل پابندی برقرار ہے، دفعہ 144 کے تحت آؤٹ ڈور ڈرون اڑانے پر عائد پابندی میں 30 روز کی توسیع کر دی گئی ہے۔حکومت پنجاب نے یہ فیصلہ سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر کیا ہے۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ہالز اور مارکیز کے اندر تقریبات کے دوران چھوٹے ڈرون کے محدود استعمال کی اجازت ہے، جبکہ اندرونی تقریبات میں ڈرون کے محفوظ استعمال کی ذمہ داری منتظمین پر عائد ہوگی۔حکومتی ہدایت کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انٹیلیجنس ایجنسیاں اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی اور وہ اپنے فرائض کے مطابق ڈرون سمیت دیگر ٹیکنالوجی استعمال کر سکیں گی۔