Daily Mumtaz:
2026-06-02@22:40:56 GMT

بالی ووڈ اداکارہ مونا سنگھ نے صنفی امتیاز پر کھل کر بات کی

اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT

بالی ووڈ اداکارہ مونا سنگھ نے صنفی امتیاز پر کھل کر بات کی

اداکارہ مونا سنگھ نے ویب سیریز ’کوہرا‘ کے دوسرے سیزن کی ریلیز سے قبل بالی ووڈ میں عمر اور صنفی امتیاز کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
44 سالہ مونا سنگھ نے کہا کہ انہوں نے کبھی اپنی عمر کو اسکرین پر رکاوٹ نہیں بنایا، کیونکہ وہ خود پر پُراعتماد ہیں اور بخوبی جانتی ہیں کہ وہ کون ہیں۔
ایک انٹرویو میں اداکارہ نے بتایا کہ انہیں اپنی قابلیت ثابت کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی، اسی لیے وہ مختلف اور چیلنجنگ کردار ادا کرنے سے کبھی نہیں ہچکچاتی۔ انہوں نے کہا کہ لوگ اکثر پوچھتے ہیں کہ وہ عمر رسیدہ کردار کیوں کرتی ہیں، لیکن ان کے لیے کردار کی اہمیت سب سے زیادہ ہے، جو انہیں بطور اداکارہ جوش اور تسکین دیتا ہے۔
مونا سنگھ نے اعتراف کیا کہ بالی ووڈ میں خواتین کو عمر بڑھنے کے ساتھ معیاری اور اہم کردار کم ملتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے یہاں خواتین کے لیے ایک ‘ایکسپائری ڈیٹ’ طے کر دی جاتی ہے، جبکہ مرد اداکار 60 سال کی عمر میں بھی رومانوی اور اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
تاہم مونا سنگھ نے زور دیا کہ انہوں نے کبھی اس صنفی امتیاز کی سوچ کو خود پر حاوی نہیں ہونے دیا اور ہمیشہ اپنے فن اور کردار کی بنیاد پر کام کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: مونا سنگھ نے انہوں نے

پڑھیں:

امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔

دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔

دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔

دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • میرب علی سرجری کے بعد اسپتال منتقل، مداحوں سے صحت یابی کی دعاؤں کی اپیل
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا