data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں فائر سیفٹی کے انتظامات سے متعلق تشویشناک انکشافات سامنے آئے ہیں، جنہوں نے شہریوں کی جان و مال کے تحفظ پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

نجی ٹی وکی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کیپٹل ایمرجنسی سروسز کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر عبدالرحمٰن کے مطابق اگرچہ بلیو ایریا کی اکثر تجارتی عمارتوں میں فائر سیفٹی کے انتظامات نسبتاً بہتر ہیں، تاہم کراچی کمپنی اور جی نائن کے علاقوں میں قائم کئی عمارتوں میں فائر سیفٹی کے تقاضے مکمل نہیں کیے گئے۔

ڈاکٹر عبدالرحمٰن نے بتایا کہ قواعد کے مطابق کسی بھی عمارت کی تعمیر سے قبل کیپٹل ایمرجنسی سروسز کی جانب سے فائر سیفٹی کا این او سی جاری کیا جاتا ہے جب کہ تعمیر مکمل ہونے کے بعد کمپلیشن این او سی کا حصول بھی لازم ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمارت کے مالکان پر یہ بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ فائر سیفٹی آلات کی دیکھ بھال کے لیے کسی مستند کمپنی سے معاہدہ کریں اور ہر 6 ماہ بعد متعلقہ ادارے کو رپورٹ فراہم کریں، تاہم کئی مقامات پر ان ضوابط پر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔

دوسری جانب ڈائریکٹر ڈسٹرکٹ مینجمنٹ اتھارٹی ڈاکٹر انعم نے کہا ہے کہ شہر کے بازاروں میں فائر سیفٹی کی بنیادی ذمہ داری ڈسٹرکٹ میونسپل ایڈمنسٹریشن پر عائد ہوتی ہے، جسے قواعد کے مطابق تمام حفاظتی انتظامات یقینی بنانے ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مختلف اداروں کے درمیان رابطے اور ذمہ داریوں کے تعین میں خامیوں کے باعث مسائل جنم لے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ حالیہ دنوں کراچی میں ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں ہونے والی خوفناک آتشزدگی نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ اس سانحے کے نتیجے میں جہاں پوری عمارت منہدم ہو گئی، وہیں درجنوں افراد جان کی بازی ہار گئے جب کہ کئی افراد تاحال لاپتا ہیں۔ تحقیقاتی اداروں کے مطابق جائے حادثہ سے ملنے والی متعدد باقیات ناقابل شناخت ہو چکی ہیں، جس نے سانحے کی سنگینی کو مزید اجاگر کیا ہے۔

دریں اثنا کمشنر کراچی کی جانب سے گل پلازہ سانحے کی حتمی تحقیقاتی رپورٹ تیار کر لی گئی ہے، جو وزیراعلیٰ سندھ کو پیش کی جائے گی۔ نجی ٹی وی کے مطابق یہ رپورٹ کمشنر کراچی اور ایڈیشنل آئی جی پر مشتمل کمیٹی نے مرتب کی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ رپورٹ میں آگ لگنے کی وجوہات، آگ بجھانے کے اقدامات اور ریسکیو آپریشن سے متعلق تفصیلات شامل ہیں، جن کے لیے فائر بریگیڈ، ایس بی سی اے، ریسکیو 1122 اور واٹر کارپوریشن سمیت مختلف اداروں سے معلومات حاصل کی گئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق رپورٹ میں متاثرین، عینی شاہدین اور ریسکیو حکام کے بیانات بھی شامل کیے گئے ہیں، تاہم تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ سانحے کی اصل ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسلام آباد سمیت ملک بھر میں فائر سیفٹی قوانین پر سختی سے عملدرآمد ناگزیر ہو چکا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے المناک حادثات سے بچا جا سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: میں فائر سیفٹی کے مطابق

پڑھیں:

امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان

نیویارک(نیوز ڈیسک)امریکہ نے “جبری مشقت سے متعلق خدشات کے پیش نظر” پاکستان، بھارت، چین اور یورپی یونین سمیت 60 تجارتی شراکت دار ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر کے مطابق ان برآمدی محصولات (ٹیرف) کی شرح 10 فیصد سے لے کر 12.5 فیصد تک ہوگی اور یہ جمعہ یعنی آج سے نافذ العمل ہوں گے۔

Today, Ambassador Greer is taking action, at President Trump’s direction, under Section 301 of the Trade Act of 1974 by imposing tariffs on 60 trading partners for their failure to adopt and effectively enforce a prohibition on the importation of goods produced with forced labor.…

— United States Trade Representative (@USTradeRep) July 23, 2026

انہوں نے کہا کہ امریکہ میں جبری مشقت کے خلاف قوانین طویل عرصے سے نافذ ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ دیگر ممالک بھی اسی طرز کے اقدامات کریں۔

یہ نئے محصولات اس عالمی ڈیوٹی کی جگہ لیں گے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں سال کے آغاز میں عائد کی گئی تھی اور جس کی مدت اب ختم ہو رہی ہے۔ امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے فروری میں بعض ٹیرف مسترد کیے جانے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے متبادل قانونی راستوں کے ذریعے نئے اقدامات متعارف کروائے ہیں۔

امریکہ کے تجارتی نمائندوں کے دفتر کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا اور ملائیشیا سمیت کئی ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ چین سمیت دیگر 38 ممالک پر 12.5 فیصد ڈیوٹی لاگو ہوگی۔

یورپی یونین، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کے لیے ٹیرف کی مجموعی شرح 10 سے 12.5 فیصد کے درمیان رکھی گئی ہے۔

دوسری جانب متاثرہ ممالک نے ان اقدامات پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ جاپان اور آسٹریلیا نے ان ٹیرف کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آزاد تجارتی معاہدوں کے منافی ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق اسٹیل اور ایلومینیم جیسے شعبہ جاتی ٹیرف پہلے سے نافذ ہیں اور ان پر نئے اقدامات کا اطلاق نہیں ہوگا، جبکہ توانائی اور کھاد سمیت بعض اشیا کو استثنا دیا گیا ہے۔

اسلام آباد نے بھی جبری مشقت سے متعلق تحقیقات پر امریکی حکام کو تفصیلی جوابات جمع کرائے ہیں، بلکہ حالیہ تجارتی مذاکرات سے ایک روز قبل بھی مزید وضاحتیں فراہم کی تھیں۔

مزید پڑھیں۔ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے

متعلقہ مضامین

  • گل پلازہ انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر نہ لانے کا فیصلہ، شفافیت اور تفتیشی عمل پر نئی بحث
  • سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • چین کا ایک اور کامیاب خلائی مشن، 5 سیٹلائٹس مقررہ مدار میں داخل
  • کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق