وفاقی دارالحکومت میں فائر سیفٹی ناقص، کئی تجارتی عمارتیں خطرے کی زد میں
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں فائر سیفٹی کے انتظامات سے متعلق تشویشناک انکشافات سامنے آئے ہیں، جنہوں نے شہریوں کی جان و مال کے تحفظ پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
نجی ٹی وکی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کیپٹل ایمرجنسی سروسز کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر عبدالرحمٰن کے مطابق اگرچہ بلیو ایریا کی اکثر تجارتی عمارتوں میں فائر سیفٹی کے انتظامات نسبتاً بہتر ہیں، تاہم کراچی کمپنی اور جی نائن کے علاقوں میں قائم کئی عمارتوں میں فائر سیفٹی کے تقاضے مکمل نہیں کیے گئے۔
ڈاکٹر عبدالرحمٰن نے بتایا کہ قواعد کے مطابق کسی بھی عمارت کی تعمیر سے قبل کیپٹل ایمرجنسی سروسز کی جانب سے فائر سیفٹی کا این او سی جاری کیا جاتا ہے جب کہ تعمیر مکمل ہونے کے بعد کمپلیشن این او سی کا حصول بھی لازم ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمارت کے مالکان پر یہ بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ فائر سیفٹی آلات کی دیکھ بھال کے لیے کسی مستند کمپنی سے معاہدہ کریں اور ہر 6 ماہ بعد متعلقہ ادارے کو رپورٹ فراہم کریں، تاہم کئی مقامات پر ان ضوابط پر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔
دوسری جانب ڈائریکٹر ڈسٹرکٹ مینجمنٹ اتھارٹی ڈاکٹر انعم نے کہا ہے کہ شہر کے بازاروں میں فائر سیفٹی کی بنیادی ذمہ داری ڈسٹرکٹ میونسپل ایڈمنسٹریشن پر عائد ہوتی ہے، جسے قواعد کے مطابق تمام حفاظتی انتظامات یقینی بنانے ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مختلف اداروں کے درمیان رابطے اور ذمہ داریوں کے تعین میں خامیوں کے باعث مسائل جنم لے رہے ہیں۔
واضح رہے کہ حالیہ دنوں کراچی میں ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں ہونے والی خوفناک آتشزدگی نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ اس سانحے کے نتیجے میں جہاں پوری عمارت منہدم ہو گئی، وہیں درجنوں افراد جان کی بازی ہار گئے جب کہ کئی افراد تاحال لاپتا ہیں۔ تحقیقاتی اداروں کے مطابق جائے حادثہ سے ملنے والی متعدد باقیات ناقابل شناخت ہو چکی ہیں، جس نے سانحے کی سنگینی کو مزید اجاگر کیا ہے۔
دریں اثنا کمشنر کراچی کی جانب سے گل پلازہ سانحے کی حتمی تحقیقاتی رپورٹ تیار کر لی گئی ہے، جو وزیراعلیٰ سندھ کو پیش کی جائے گی۔ نجی ٹی وی کے مطابق یہ رپورٹ کمشنر کراچی اور ایڈیشنل آئی جی پر مشتمل کمیٹی نے مرتب کی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ رپورٹ میں آگ لگنے کی وجوہات، آگ بجھانے کے اقدامات اور ریسکیو آپریشن سے متعلق تفصیلات شامل ہیں، جن کے لیے فائر بریگیڈ، ایس بی سی اے، ریسکیو 1122 اور واٹر کارپوریشن سمیت مختلف اداروں سے معلومات حاصل کی گئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق رپورٹ میں متاثرین، عینی شاہدین اور ریسکیو حکام کے بیانات بھی شامل کیے گئے ہیں، تاہم تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ سانحے کی اصل ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسلام آباد سمیت ملک بھر میں فائر سیفٹی قوانین پر سختی سے عملدرآمد ناگزیر ہو چکا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے المناک حادثات سے بچا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: میں فائر سیفٹی کے مطابق
پڑھیں:
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ جمعہ سے پاکستان، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات (ٹیرف) نافذ کر رہی ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔
نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا۔ یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت جمعہ کو ختم ہو رہی ہے۔
امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے۔ ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے ٹرمپ ٹیرف: عالمی مارکیٹ میں کس ملک کو کتنا نقصان ہوا؟
امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے (USMCA) کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے۔ ان کے بقول اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔
پاکستان سمیت کن ممالک پر 10 فیصد ٹیرف؟حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔
عالمی ردعملآسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔
کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔
کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔
قانونی ماہرین کی رائےتجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔
یہ بھی پڑھیے ٹرمپ ٹیرف اسٹاک مارکیٹ لے بیٹھا، کملا ہیرس کی پیشگوئی سچ ثابت
ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی اس وسیع تجارتی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد امریکی صنعت کو تحفظ فراہم کرنا، سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے لیے دباؤ بڑھانا اور درآمدی تجارت پر سخت نگرانی برقرار رکھنا ہے، تاہم ناقدین خبردار کر رہے ہیں کہ اس سے عالمی تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ اور امریکی صارفین کے لیے درآمدی اشیا مہنگی ہونے کا خدشہ بھی بڑھ سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ٹرمپ ٹیرف