data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

حیدرآباد (نمائندہ جسارت) حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کے صدر محمد سلیم میمن نے شہر میں فائر سیفٹی اور ایمرجنسی رسپانس سسٹم کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تیزی سے بڑھتی آبادی کے تناسب سے فائر بریگیڈ کے وسائل ناکافی ہیں۔ حیدرآباد کی آبادی تقریباً 40 لاکھ ہے، جبکہ بین الاقوامی معیار کے مطابق ہر ایک لاکھ آبادی پر کم از کم 40 تربیت یافتہ فائر فائٹرز ہونے چاہئیں۔ اس حساب سے شہر کو تقریباً 1,600 فائر فائٹرز اور 40 فعال فائر اسٹیشنز کی فوری ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ جدید فائر فائٹنگ صرف پانی پر منحصر نہیں رہی بلکہ کیمیکل فائٹنگ، جدید ڈیٹیکشن سسٹمز، اسمارٹ الارمز، ڈرونز اور مانیٹرنگ ٹیکنالوجی استعمال ہو رہی ہے۔ حکومت سندھ کے ساتھ نجی شعبے کو بھی جدید فائر سیفٹی اپنانے کی ترغیب دی جائے اور اس کے لیے مناسب سہولیات فراہم کی جائیں۔صدر چیمبر سلیم میمن نے نشاندہی کی کہ شہر میں جب بھی آتشزدگی کا واقعہ پیش آتا ہے تو متعدد علاقوں میں فائر ٹینڈرز کو قریبی ہائیڈرنٹس سے پانی فراہم نہیں کیا جاتا، خاص طور پر ڈیولپمنٹ اتھارٹیز اور کنٹونمنٹ ایریاز میں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام شہری اداروں، ترقیاتی اتھارٹیز اور کنٹونمنٹ بورڈز کو قانونی طور پر پابند کیا جائے کہ وہ ہر وقت فعال ہائیڈرنٹس مہیا کریں، بجلی کی بندش کی صورت میں متبادل پانی کا انتظام رکھیں اور ایمرجنسی کے دوران بغیر کسی رکاوٹ کے فائر بریگیڈ اور ریسکیو 1122 کو پانی فراہم کریں۔ انہوں نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد مقامی اداروں کو وسیع اختیارات حاصل ہیں، اس لیے ہر ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور کنٹونمنٹ کو اپنے علاقوں میں فائر بریگیڈ یونٹس قائم کرنے چاہئیں اور بلدیاتی اداروں کے ساتھ مربوط طور پر کام کرنا چاہیے۔سلیم میمن نے سندھ حکومت کی جانب سے فائر بریگیڈ ڈیپارٹمنٹ اور ریسکیو 1122 کے ضم کرنے کی تجویز پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فائر سروسز ضلعی لوکل گورنمنٹ کے ماتحت رہیں جبکہ ریسکیو 1122 ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے تحت ہو۔ انہوں نے کہا کہ فائر بریگیڈ کی بنیادی ذمے داری ہی آگ بجھانے اور ایمرجنسی ریسکیو ہونی چاہیے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ فائر بریگیڈ کو جدید گاڑیاں، آلات، کیمیکل اور صنعتی فائر تربیت، ہائی رائز ریسکیو اور خطرناک مواد کے لیے خصوصی تربیت فراہم کی جائے اور گنجان آباد و تجارتی علاقوں میں نئے اسٹیشنز قائم کیے جائیں۔صدر میمن نے بھرتیوں میں مقامی افراد کو ترجیح دینے پر زور دیا تاکہ وہ اپنے علاقوں کے راستوں اور انفراسٹرکچر سے واقف ہوں اور ریسپانس وقت بہتر ہو۔انہوں نے کہا کہ حیدرآباد فائر بریگیڈ رہائشی، تجارتی، صنعتی، دیہی اور جنگلاتی علاقوں میں آگ بجھانے، کچرے کے ڈمپ سائٹس کی آگ بجھانے اور دیگر ایمرجنسی ریسپانس کے فرائض انجام دے رہی ہے، تاہم شہر کے ہائیڈرنٹس کا نظام شدید متاثر ہے اور کئی اہم ہائیڈرنٹس بند یا غیر فعال ہیں، جن میں مانا ڈوری فلٹر پلانٹ نزد HDA بلڈنگ (بند)، جام شورو فلٹر پلانٹ (بجلی کی بندش کے دوران غیر فعال)، HDA واٹر سپلائی یونٹ نمبر 06 (صرف سپلائی اوقات میں پانی دستیاب)، HDA پھلیلی واٹر سپلائی چینل نزد موری پھاٹک (بند)، چانگ گوٹھ HDA ہائیڈرنٹ (پانی صرف پیشگی اجازت سے دستیاب) اور HDA بلڈنگ اسٹیشن روڈ نزد مولا علی قدم گاہ (ہائیڈرنٹ ہٹا دیا گیا) شامل ہیں۔ صدر چیمبر سلیم میمن نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سندھ سے فوری ہائیڈرنٹس کی بحالی، مرمت اور جدید کاری کا مطالبہ کیا تاکہ ایمرجنسی کے دوران فائر بریگیڈ کو پانی کی بلا رکاوٹ فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

نمائندہ جسارت سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ سلیم میمن نے فائر بریگیڈ علاقوں میں

پڑھیں:

عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران

پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی جبکہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سحر کامران نے دعویٰ کیوں کیا؟

وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے وزارت اور متعلقہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً 12 ارب روپے مالیت کے 14 منصوبوں کی منظوری لی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بجٹ میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 17 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کا صرف یہ سوال تھا کہ وہ 3 اضافی منصوبے کون سے تھے جو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے متعلق بھی ایجنڈے کے مطابق چند سوالات کیے لیکن اسی دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اونچی آواز میں گفتگو کرنے لگے جس سے انہیں شدید تضحیک کا احساس ہوا۔

سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دوبارہ بلند آواز میں کہا کہ ’یہ ممبر کمیٹی کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں‘، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔

مزید پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟

رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے رویے پر انہیں اعتراض ہوا ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے ان کے سوال کا متعلقہ جواب نہیں دیا تھا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اس معاملے کی نشاندہی کی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میرا یہی کام ہے کہ سوال جیسا بھی ہو جواب میں اپنی مرضی کا دیتا ہوں۔

سحر کامران نے سپیکر قومی اسمبلی کے رویے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں جانبداری محسوس ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا۔

سحر کامران نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزرا کے رویے کا نوٹس لیں اور پارلیمانی روایات کے مطابق ارکان کے ساتھ احترام پر مبنی طرز عمل یقینی بنائیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول پارٹی آج بھی جمہوریت کے استحکام کی خاطر وفاقی حکومت کی اتحادی ہے تاہم اسی وجہ سے کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔

مزید پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک کے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

رکن قومی اسمبلی سحر کامران سحر کامران کو عطا تارڑ سے شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ

متعلقہ مضامین

  • ایس سی او اجلاس: اسحاق ڈار کا علاقائی امن اور تعاون کے فروغ کے عزم کا اعادہ
  • میں نے اپنی قبر تیار کروا رکھی ہے، لیجنڈ گلوکار عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کا انکشاف
  • میسی ارجنٹائن کے صدر بنیں گے؟ نئی پیشگوئی نے سب کو حیران کردیا
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن