WE News:
2026-07-24@01:13:50 GMT

فلسطینی صحافی بسان عودہ کا ٹک ٹاک اکاؤنٹ مستقل طور پر بند

اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT

ایمی ایوارڈ یافتہ فلسطینی صحافی بسان عودہ نے انکشاف کیا ہے کہ ان کا ٹک ٹاک اکاؤنٹ مستقل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ بسان عودہ کے ٹک ٹاک پر 14 لاکھ فالوورز تھے اور وہ گزشتہ 4 برسوں سے اس پلیٹ فارم پر غزہ کی صورتحال دنیا کے سامنے لا رہی تھیں۔

انسٹاگرام اور ایکس پر اعلان

بسان عودہ، جو الجزیرہ کے ڈیجیٹل پلیٹ فارم AJ+ سے وابستہ ہیں، نے بدھ کے روز انسٹاگرام اور ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ویڈیو پیغام میں بتایا کہ ان کا ٹک ٹاک اکاؤنٹ اچانک ڈیلیٹ کر دیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ٹک ٹاک نے میرا اکاؤنٹ ڈیلیٹ کر دیا، میں سمجھ رہی تھی کہ شاید پابندی لگے گی، مگر مکمل طور پر بند کر دیا جائے گا، یہ توقع نہیں تھی۔

مختلف ممالک میں مختلف صورتحال

الجزیرہ کی جانب سے ٹک ٹاک سے بسان عودہ کے اکاؤنٹ سے متعلق وضاحت طلب کی گئی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ آسٹریلیا میں وہی صارف نام رکھنے والا اکاؤنٹ نظر آیا، تاہم مشرقِ وسطیٰ میں یہ اکاؤنٹ دستیاب نہیں تھا، جس سے علاقائی پابندیوں کے شبے کو تقویت ملی ہے۔

اسرائیلی قیادت اور امریکی ٹک ٹاک انتظامیہ پر سوال

بسان عودہ نے اپنے ویڈیو پیغام میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے گزشتہ بیانات اور ٹک ٹاک امریکا کے نئے سی ای او ایڈم پریسر کے خیالات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ پابندی انہی عوامل کا نتیجہ ہو سکتی ہے۔

نیتن یاہو نے گزشتہ برس نیویارک میں پرو اسرائیلی انفلوئنسرز سے ملاقات کے دوران کہا تھا کہ سوشل میڈیا، خاص طور پر ٹک ٹاک ’جدید جنگ کا اہم ہتھیار‘ ہے۔

ٹک ٹاک میں تبدیلیاں اور مواد کی نگرانی

ایڈم پریسر کی ایک ویڈیو بھی سامنے آئی ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ ٹک ٹاک پر بعض اصطلاحات، جن میں ’صہیونیت‘ بھی شامل ہے، کو نفرت انگیز مواد کے زمرے میں شامل کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نفرت انگیز مواد کی نگرانی ایک مسلسل عمل ہے۔

’میں اب بھی زندہ ہوں‘، غزہ سے رپورٹنگ کی علامت

بسان عودہ غزہ سے روزانہ ویڈیوز پوسٹ کرنے کے باعث عالمی سطح پر پہچانی جاتی ہیں، جن کا مشہور جملہ تھا:
’یہ بسان ہے، غزہ سے، اور میں اب بھی زندہ ہوں۔‘

اسی عنوان سے انہوں نے AJ+ کے ساتھ ایک دستاویزی فلم بھی بنائی، جسے 2024 میں ایمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔

صحافیوں کی سلامتی پر تشویش

یہ واقعہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اسرائیلی عدالت نے ایک بار پھر غیر ملکی صحافیوں کو غزہ میں آزادانہ رپورٹنگ کی اجازت دینے کا فیصلہ مؤخر کر دیا ہے۔

کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کے مطابق اکتوبر 2023 سے اب تک 207 فلسطینی صحافی اور میڈیا ورکرز جاں بحق ہو چکے ہیں، جن کی اکثریت اسرائیلی حملوں کا نشانہ بنی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو الجزیرہ ٹک ٹاک فلسطینی صحافی بسان عودہ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو الجزیرہ ٹک ٹاک فلسطینی صحافی بسان عودہ فلسطینی صحافی ٹک ٹاک کر دیا

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم