فلسطینی صحافی بسان عودہ کا ٹک ٹاک اکاؤنٹ مستقل طور پر بند
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
ایمی ایوارڈ یافتہ فلسطینی صحافی بسان عودہ نے انکشاف کیا ہے کہ ان کا ٹک ٹاک اکاؤنٹ مستقل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ بسان عودہ کے ٹک ٹاک پر 14 لاکھ فالوورز تھے اور وہ گزشتہ 4 برسوں سے اس پلیٹ فارم پر غزہ کی صورتحال دنیا کے سامنے لا رہی تھیں۔
انسٹاگرام اور ایکس پر اعلانبسان عودہ، جو الجزیرہ کے ڈیجیٹل پلیٹ فارم AJ+ سے وابستہ ہیں، نے بدھ کے روز انسٹاگرام اور ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ویڈیو پیغام میں بتایا کہ ان کا ٹک ٹاک اکاؤنٹ اچانک ڈیلیٹ کر دیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ٹک ٹاک نے میرا اکاؤنٹ ڈیلیٹ کر دیا، میں سمجھ رہی تھی کہ شاید پابندی لگے گی، مگر مکمل طور پر بند کر دیا جائے گا، یہ توقع نہیں تھی۔
الجزیرہ کی جانب سے ٹک ٹاک سے بسان عودہ کے اکاؤنٹ سے متعلق وضاحت طلب کی گئی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ آسٹریلیا میں وہی صارف نام رکھنے والا اکاؤنٹ نظر آیا، تاہم مشرقِ وسطیٰ میں یہ اکاؤنٹ دستیاب نہیں تھا، جس سے علاقائی پابندیوں کے شبے کو تقویت ملی ہے۔
اسرائیلی قیادت اور امریکی ٹک ٹاک انتظامیہ پر سوالبسان عودہ نے اپنے ویڈیو پیغام میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے گزشتہ بیانات اور ٹک ٹاک امریکا کے نئے سی ای او ایڈم پریسر کے خیالات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ پابندی انہی عوامل کا نتیجہ ہو سکتی ہے۔
نیتن یاہو نے گزشتہ برس نیویارک میں پرو اسرائیلی انفلوئنسرز سے ملاقات کے دوران کہا تھا کہ سوشل میڈیا، خاص طور پر ٹک ٹاک ’جدید جنگ کا اہم ہتھیار‘ ہے۔
ٹک ٹاک میں تبدیلیاں اور مواد کی نگرانیایڈم پریسر کی ایک ویڈیو بھی سامنے آئی ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ ٹک ٹاک پر بعض اصطلاحات، جن میں ’صہیونیت‘ بھی شامل ہے، کو نفرت انگیز مواد کے زمرے میں شامل کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نفرت انگیز مواد کی نگرانی ایک مسلسل عمل ہے۔
بسان عودہ غزہ سے روزانہ ویڈیوز پوسٹ کرنے کے باعث عالمی سطح پر پہچانی جاتی ہیں، جن کا مشہور جملہ تھا:
’یہ بسان ہے، غزہ سے، اور میں اب بھی زندہ ہوں۔‘
اسی عنوان سے انہوں نے AJ+ کے ساتھ ایک دستاویزی فلم بھی بنائی، جسے 2024 میں ایمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔
صحافیوں کی سلامتی پر تشویشیہ واقعہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اسرائیلی عدالت نے ایک بار پھر غیر ملکی صحافیوں کو غزہ میں آزادانہ رپورٹنگ کی اجازت دینے کا فیصلہ مؤخر کر دیا ہے۔
کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کے مطابق اکتوبر 2023 سے اب تک 207 فلسطینی صحافی اور میڈیا ورکرز جاں بحق ہو چکے ہیں، جن کی اکثریت اسرائیلی حملوں کا نشانہ بنی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو الجزیرہ ٹک ٹاک فلسطینی صحافی بسان عودہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو الجزیرہ ٹک ٹاک فلسطینی صحافی بسان عودہ فلسطینی صحافی ٹک ٹاک کر دیا
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری
8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔
????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States
????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026
آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے
بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی