نوجوانوں کے لیے ڈیجیٹل معیشت پر لیکچر سیریز کا آغاز، امریکی سفارتخانہ کا اقدام
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
امریکی سفارتخانے نےفریڈم 250پروگرام کے تحت لیکچر سیریز باضابطہ طور پر شروع کر دی ہے۔ اس کا مقصد پاکستانی نوجوانوں کو انٹرپرینیورشپ اور ڈیجیٹل معیشت کے مواقع سے آگاہ کرنا ہے۔
سلسلے کے پہلے سیشن میں امریکی اسنو بورڈ ماہر ڈونا کارپینٹر شریک ہوئیں، جو برٹن اسنو بورڈز کی بانی اور بورڈ آف ڈائریکٹرز کی صدر ہیں۔ اس کے علاوہ، امریکی اسپورٹس ایکسچینج پروگرام کی ایلومنائی اور پاکستانی کھلاڑی ثمر خان نے بھی تقریب میں حصہ لیا۔ یہ تقریب 28 جنوری کو یو ایس ایجوکیشنل فاؤنڈیشن پاکستان کی نئی عمارت میں منعقد ہوئی۔
تقریب میں مقررین نے نوجوانوں کی ترقی میں کھیل اور اسپورٹس انٹرپرینیورشپ کے کردار پر زور دیا۔ اُنہوں نے کہا کہ کھیل نوجوانوں میں قیادت، ٹیم ورک اور استقامت جیسی مہارتیں فروغ دینے کا بہترین ذریعہ ہیں۔
امریکی سفارتخانے کے منسٹر قونصلر اینڈی ہاس نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی نوجوان آبادی بے پناہ صلاحیتوں کی حامل ہے اور کھیل و انٹرپرینیورشپ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
فریڈم 250 سیریز کے تحت آئندہ بھی امریکی ماہرین کے لیکچرز منعقد کیے جائیں گے تاکہ نوجوانوں کو جدید کاروباری اور ڈیجیٹل مواقع سے روشناس کروایا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔