بحری بیڑہ ایران کی طرف بڑھ رہا ہے،امیدہے خامنہ ای ڈیل کر لیں گے‘ ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260129-01-25
واشنگٹن /نیویارک /تہران /برلن /پیرس / برسلز(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ بحری بیڑہ ایران کی طرف بڑھ رہا ہے‘ امید ہے خامنہ ای ڈیل کر لیں گے‘ ایران نے پہلے بھی میرے انتباہ کو نظرانداز کیا تھا جس کا خمیازہ آپریشن مڈنائٹ ہیمر کی صورت میں بھگتنا پڑا تھا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے پھر ان کی وارننگ کو نظرانداز کیا تو مڈنائٹ ہیمر سے بھی بڑے اور خطرناک حملے کے لیے تیار رہے‘ ایران کے لیے وقت تیزی سے نکل رہا ہے اور اب ختم ہونے کے قریب ہے‘ وہ فوری طور پر جوہری معاہدے کے لیے مذاکرات کی میز پر واپس آئے‘ اس بار ایسا معاہدہ کرے جس میں جوہری ہتھیار نہ ہوں۔با خبر ذرائع کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو متعدد ایسی انٹیلی جنس رپورٹس موصول ہوئی ہیں جو ایرانی حکومت کے موقف میں کمزوری اور گراوٹ کی نشان دہی کرتی ہیں۔اسی کے ساتھ امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے شام، عراق اور اسرائیل کا دورہ کیا، جس میں شمال مشرقی شام میں داعش کے جنگجوؤں کے حراستی مراکز کا دورہ بھی شامل تھا۔ امریکی حکام نے عراقی حکام کو ایک دوٹوک پیغام پہنچایا ہے کہ “اگر ایران کے ساتھ کشیدگی بڑھتی ہے اور اگر عراق میں موجود شیعہ ملیشیاؤں نے امریکی اڈوں یا افواج پر فائرنگ کی، تو امریکا اس کا براہ راست جواب دے گا”۔ڈونلڈ ٹرمپ کو پیش کی گئی انٹیلی جنس رپورٹس ظاہر کرتی ہیں کہ اقتدار پر ایرانی حکومت کی گرفت 1979ء میں شاہ کی معزولی کے بعد سے اب تک کے کمزور ترین نقطے پر پہنچ چکی ہے۔ “نیویارک ٹائمز” کے مطابق گزشتہ سال کے آخر میں شروع ہونے والے مظاہروں نے حکومت کے ستونوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے، خاص طور پر جب یہ احتجاج ان علاقوں تک پہنچ گئے جنہیں رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کی حمایت کے روایتی گڑھ سمجھا جاتا تھا۔اقتصادی مشکلات اور اندرونی جبر مظاہروں کی شدت میں کمی کے باوجود حکومت اب بھی مشکل صورتحال میں ہے۔ انٹیلی جنس رپورٹس میں بارہا ایرانی معیشت کی تاریخی کمزوری پر روشنی ڈالی گئی ہے، جو دسمبر میں ہونے والے متفرق مظاہروں کی چنگاری بنی تھی۔ جنوری میں احتجاج میں وسعت کے ساتھ، تہران کے پاس معاشی بوجھ کم کرنے کے لیے محدود اختیارات رہ گئے، جس نے حکام کو پرتشدد کریک ڈاؤن پر مجبور کیا، اس سے نظام عوام کے بڑے طبقات سے مزید کٹ کر رہ گیا۔ خطے میں الرٹ امریکی فوج اپنی پوزیشن کو مضبوط بنانا جاری رکھے ہوئے ہے، اگرچہ یہ واضح نہیں ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کیا اقدامات اٹھا سکتی ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے ایک بیان میں کہا “صدر ٹرمپ دنیا بھر کے انٹیلی جنس معاملات پر مسلسل بریفنگ لے رہے ہیں اور جہاں تک ایران کا تعلق ہے، وہ صورتحال کی کڑی نگرانی جاری رکھے ہوئے ہیں”۔مظاہرین کے خلاف خونی جبر میں اضافے کے ساتھ ٹرمپ نے ایران پر حملے کے امکان سے خبردار کیا تھا، تاہم ان کے مشیر حملوں کی افادیت پر منقسم ہیں، خاص طور پر اگر وہ صرف علامتی ہوں۔ ایک سینئر امریکی عہدے دار کے مطابق، ایسا لگتا ہے کہ تہران کی جانب سے ایک احتجاجی کی سزائے موت منسوخ کرنے کے بعد صدر فوری حملے کے خیال سے پیچھے ہٹ گئے ہیں۔ نظام کی تبدیلی” کا آپشن ٹرمپ انتظامیہ میں شامل بعض “عقابوں اور ان کے اتحادیوں کے لیے ایک وسیع مہم کا خیال اب بھی پرکشش ہے، جو اسے ایرانی قیادت کا تختہ الٹنے کا ایک موقع سمجھتے ہیں۔ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم نے کہا کہ انہوں نے حال ہی میں ٹرمپ سے بات کی ہے اور انہیں توقع ہے کہ صدر ایرانی مظاہرین کی مدد کا اپنا وعدہ پورا کریں گے‘ مقصد اس نظام کا خاتمہ ہے۔میدانی کمک طیارہ بردار بحری جہاز “ابراہم لنکن”، “ٹوم ہاک” میزائلوں سے لیس 3 جنگی جہازوں کے ہمراہ، مغربی بحر ہند میں امریکی سینٹرل کمانڈ کے ذمہ داری کے علاقے میں داخل ہو چکا ہے۔ فوجی حکام نے اشارہ دیا کہ اگر احکامات ملے تو یہ بحری جہاز ایک یا دو دن میں فوجی کارروائی کر سکتا ہے۔ امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگان) نے ممکنہ ایرانی بیلسٹک میزائل حملوں سے امریکی افواج کے تحفظ کے لیے اضافی F-15E حملہ آور طیارے، اور “پیٹریاٹ” و “تھاڈ” (THAAD) فضائی دفاعی نظام بھی بھیجے ہیں۔ترک وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان نے بھی امریکا پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کرے‘ ایران کے ساتھ مسائل کو پیکج کی صورت نہ دیکھا جائے بلکہ ایک ایک کرکے حل کیا جائے جس کی ابتدا جوہری معاملے سے کی جائے تاکہ پیش رفت ممکن ہو۔ادھر اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو خبردار کرچکے ہیں کہ اگر ایران نے اسرائیل پر حملہ کیا تو اسے ایسی طاقت کا سامنا کرنا پڑے گا جو اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہوگی۔ ایران نے خلیج فارس کے اہم سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز کے قریب فضائی حدود میں لائیو فائر مشقیں کرنے کا اعلان کرتے ہوئے نوٹم جاری کیا ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی فوجی اثاثے مشرقِ وسطیٰ پہنچ چکے ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ ایران کے نوٹس کے مطابق یہ فوجی مشقیں 27 جنوری سے شروع ہوگئیں جو آج 29 جنوری تک پانچ ناٹیکل میل کے دائرے میں، زمین کی سطح سے لے کر 25,000 فٹ تک کے فضائی حصے میں جاری رہیںگی۔ہرمز کی تنگی عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے، جہاں سے روزانہ لاکھوں بیرل تیل منتقل ہوتا ہے۔ جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے کہا ہے کہ ایرانی حکومت کے ’دن گنے جا چکے ہیں‘۔ رومانیہ کے وزیرِ اعظم الیے بولوڑان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے فریڈرک مرز نے کہا کہ ’ایسا نظام جو اپنے ہی لوگوں کے خلاف کھلے تشدد اور خوف کے ذریعے اقتدار برقرار رکھے، اس کے دن گنے جا چکے ہیں‘ یہ چند ہفتوں کا معاملہ بھی ہو سکتا ہے،اس حکومت کے پاس ملک پر حکمرانی کرنے کی کوئی اخلاقی حیثیت باقی نہیں رہی‘۔ ایران میں اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام میں ایک شخص کوپھانسی دے دی گئی۔ ایرانی عدلیہ کے مطابق اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام میں حمید رضا ثابت اسماعیل پور کو اپریل 2025ء میں گرفتار کیا گیا تھا‘ حمید رضا ثابت اسماعیل پور پر موساد کو خفیہ معلومات فراہم کرنے اور تخریبی کارروائیوں کے لیے دھماکا خیز مواد خریدنے، دھماکا خیز مواد سے بھری گاڑیاں منتقل کرنے کا الزام بھی ثابت ہوا۔ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کی درخواست کی سختی سے تردید کردی ہے۔ وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں امریکی نمائندے اسٹیووٹکوف سے کوئی رابطہ نہیں ہوا، نہ ہی ایران نے مذاکرات کی کوئی خواہش ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دھمکیوں اور ناجائز مطالبات کے دباؤ میں مذاکرات ممکن نہیں ہیں‘ خطے میں امریکی فوجی نقل وحرکت اور کسی بھی ممکنہ فوجی مہم جوئی کا نتیجہ شدید عدم استحکام کی صورت میں نکلے گا، جس کی تمام علاقائی ممالک مخالفت کررہے ہیں۔ اقوامِ متحدہ میں ایران کے مشن نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے حملہ کیا تو ایران ایسا جواب دے گا جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیا گیا ہوگا۔ نیویارک میں بدھ کے روز جاری بیان میں ایرانی مشن نے کہا کہ ’ایران باہمی احترام اور مفادات کی بنیاد پر مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن اگر دباؤ ڈالا گیا تو ایران اپنا دفاع کرے گا اور ایسا جواب دے گا جو پہلے کبھی نہیں دیا گیا ہوگا‘۔ سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوتریس خلیج میں عسکری سرگرمیاں بڑھنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایک بیان میں سیکرٹری جنرل نے کہا کہ فریقین کو زیادہ سے زیادہ احتیاط برتنے کی ضرورت ہے، کسی بھی ایسی کارروائی سے گریز کیا جائے جس سے صورتحال خراب ہو‘ایران کے مسئلے کو مذاکرات اور سفارتکاری سے حل کیا جاسکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ڈونلڈ ٹرمپ انٹیلی جنس نے کہا کہ ایران نے کے مطابق ایران کے حکومت کے کے ساتھ کہ اگر کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ کے بدلتے پینترے
امریکا ایران معاہدے کے حوالے سے فریقین کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ بعض معاملات پر دونوں جانب سے سخت گیر موقف کے باعث مذاکرات کی تان بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات، غیر لچکدار رویے اور نت نئی شرائط پیش کرنے کی وجہ سے تادم تحریر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ نیز مذاکرات کا عمل ہنوز جاری ہے۔
دونوں جانب سے تجاویز اور شرائط کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سر توڑ کوشش میں مصروف ہے کہ کسی صورت امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے اور حتمی معاہدہ طے پا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، سروں پر منڈلاتے جنگ کے بادل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے ابھی چند روز قبل فیلڈ مارشل نے ایران کا ہنگامی دورہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے مجوزہ امن معاہدے کے نکات پر بات چیت کی۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے فیلڈ مارشل کے تہران کے دورے کو نمایاں طور پر شائع کیا جس کے مطابق فیلڈ مارشل کے تہران دورے نے مذاکرات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو تین نکات پر اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ کے دو اہم نکات پر مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر جنگ کے آغاز سے پہلے کی طرح مکمل ایرانی کنٹرول پر بھی اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کرے، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیا دیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔
دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ اہم بیان دیا ہے کہ ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کو تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے ایران کی اعلانیہ پیش کش کے بعد صدر ٹرمپ کا افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی پر زور دینے کا جواز باقی نہیں رہتا، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
ہمارے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، اس امر کا عکاس ہے کہ اسرائیل امریکا ایران ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے نیتن یاہو کی کوشش اور خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ان کی مرضی کے مطابق ہو اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم نہ پڑنے پائے۔ اسی باعث وہ صدر ٹرمپ کو بہکاتے اور اکساتے رہتے ہیں اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی سازشی چالوں کے فریب میں آ کر ایسے دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے ہیں جن سے امن مذاکرات چار قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پرنالہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔
ابھی امن مذاکرات حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے پھر معاہدہ ابراہیمی کا نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور دوبارہ جنگ ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز صبح شام بدلتے بیانات مطالبات اور کڑی شرائط معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔