Islam Times:
2026-07-24@08:44:01 GMT

ایران کیخلاف ٹرمپ کی نئی ہرزہ سرائی

اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT

ایران کیخلاف ٹرمپ کی نئی ہرزہ سرائی

انتہاءپسند امریکی صدر نے مغربی ایشیائی علاقے میں ایک بڑا فوجی بیڑا بھیجنے کے بارے اپنے سابقہ ​​بیانات کو دہراتے ہوئے ایران کو ایک مرتبہ پھر دھمکیوں کا نشانہ بنایا ہے اسلام ٹائمز۔ایران کے خلاف اپنی تازہ ہرزہ سرائی میں انتہاءپسند امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعوی کیا کہ ایک بڑا امریکی فوجی بیڑہ ایران کی جانب بڑھ رہا ہے۔ سماجی نیٹ ورک ٹروتھ سوشل پر، ایران کے بارے اپنے سابقہ ​​بیانات کو دہراتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایک بہت بڑا بحری بیڑہ ایران کی جانب بڑھ رہا ہے، نیز یہ کہ یہ بحری بیڑہ طاقت، جذبے اور عظیم مقصد کے ساتھ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے!

ٹرمپ کے مطابق، ابراہم لنکن کی سربراہی میں ایران کی جانب رواں یہ بحری بیڑہ، اس بحری بیڑے سے بڑا ہے کہ جسے وینزویلا بھیجا گیا تھا۔ انتہاءپسند امریکی صدر نے کہا کہ وینزویلا بھیجے گئے بیڑے کی طرح، یہ بحری بیڑہ بھی اپنے مشن کو تیزی سے، اور اگر ضروری ہو تو طاقت کے ساتھ، فوری طور پر پورا کرنے کو تیار اور پرعزم ہے! ٹرمپ نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ ایران جلد ہی ''میز'' پر آ جائے گا اور ایک منصفانہ معاہدے پر بات چیت کرے گا، جوہری ہتھیاروں کے بغیر ایک ایسا معاہدہ کہ جو تمام فریقوں کے لئے اچھا ہو.

. کیونکہ وقت ختم ہو رہا ہے اور واقعی طور پر نازک ہے!

انتہاءپسند امریکی صدر نے مزید کہا کہ جیسا کہ میں نے ایک بار پہلے بھی ایران سے کہا تھا کہ وہ معاہدہ کر لے، انہوں نے ایسا نہیں کیا اور پھر ''آپریشن مڈ نائٹ ہیمر'' پیش آیا، جو ایران کے لئے بہت بڑا دھچکا تھا، البتہ اگلا حملہ اس سے کہیں زیادہ برا ہو گا.. دوبارہ ایسا نہ ہونے دیں!!

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: بحری بیڑہ ایران کی رہا ہے

پڑھیں:

جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان

برلن: جرمنی نے بحیرۂ احمر میں تعینات اپنے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ سفارتی پیش رفت کے بعد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے ممکنہ مشن کی فوری ضرورت باقی نہیں رہی۔

جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق واپس بلائے جانے والے جہازوں میں ’فلڈا‘ نامی مائن ہنٹر اور ’موزیل‘ نامی سپورٹ شپ شامل ہیں۔ دونوں جہاز جون میں نہرِ سویز کے راستے بحیرۂ احمر پہنچے تھے اور اس وقت جبوتی میں تعینات تھے۔

ان جہازوں کے ساتھ تقریباً 140 اہلکار بھی موجود تھے، جن میں بارودی سرنگیں صاف کرنے والے غوطہ خور، خودکار زیرِ آب نظام کے ماہرین اور سکیورٹی ٹیمیں شامل تھیں۔

جرمن حکام کے مطابق ان بحری جہازوں کو اس خدشے کے پیش نظر تیار رکھا گیا تھا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں بچھاتا ہے تو انہیں فوری کارروائی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔

جرمنی کے وزیر دفاع بورس پسٹوریئس پہلے ہی واضح کر چکے تھے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی فوجی مشن کا انحصار سیاسی اور سفارتی صورتحال کے ساتھ ساتھ ایران اور عمان سمیت علاقائی ممالک کی رضامندی پر ہوگا۔

وزارتِ دفاع نے کہا کہ یہ بحری مشن کسی جنگی کارروائی کا حصہ نہیں تھا بلکہ یورپی ممالک کی جانب سے عالمی بحری راستوں پر آزادانہ جہاز رانی کے تحفظ کی کوششوں کا حصہ تھا۔

اگرچہ یہ دونوں جہاز واپس بلائے جا رہے ہیں، تاہم جرمنی بدستور یورپی یونین کے آپریشن اسپائیڈیز میں شامل رہے گا، جس کا مقصد بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو یمن کے حوثی گروپ کے حملوں سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔

اس کے علاوہ جرمنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ لبنان کے ساحل پر اقوام متحدہ کے امن مشن یونیفل میں اپنی بحری شمولیت بھی 2026 کے اختتام تک برقرار رکھے گا۔

جرمن حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ فوری خطرات میں کچھ کمی آئی ہے، لیکن مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سکیورٹی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔ ان کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھتی ہے تو آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں عالمی جہاز رانی ایک مرتبہ پھر متاثر ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • فیفا ورلڈکپ: ٹرمپ کی مداخلت پر فیصلہ تبدیل، ناروے کا فیفا کیخلاف بڑا اقدام اٹھانے کا فیصلہ
  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی