data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی: عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں آج جمعرات کے روز سونے اور چاندی کی قیمتوں نے تاریخ کی نئی بلندیوں کو چھو لیا۔

بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت میں ایک ہی دن کے دوران بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد سونا 5 ہزار 504 ڈالر فی اونس کی نئی بلند ترین سطح پر جا پہنچا۔ عالمی سطح پر سونے کی قیمت میں اس نمایاں اضافے کا براہ راست اثر پاکستان کی مقامی صرافہ مارکیٹوں پر بھی پڑا، جہاں سونے کی قیمتوں نے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے۔

ملکی صرافہ مارکیٹ میں 24 قیراط فی تولہ سونے کی قیمت میں 21 ہزار 200 روپے کا غیر معمولی اضافہ ہوا، جس کے بعد فی تولہ سونا 5 لاکھ 72 ہزار 862 روپے کی نئی تاریخ ساز سطح پر پہنچ گیا۔ اسی طرح فی 10 گرام سونے کی قیمت بھی 18 ہزار 175 روپے بڑھ کر 4 لاکھ 91 ہزار 136 روپے کی بلند ترین سطح پر ریکارڈ کی گئی۔

سونے کی قیمتوں میں اس تیز رفتار اضافے نے نہ صرف خریداروں کو حیران کر دیا بلکہ زیورات کے کاروبار سے وابستہ حلقوں میں بھی تشویش پیدا کر دی ہے۔

دوسری جانب چاندی کی قیمتوں میں بھی نمایاں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ مقامی مارکیٹ میں فی تولہ چاندی کی قیمت 264 روپے اضافے کے بعد 12 ہزار 175 روپے کی نئی بلند سطح پر پہنچ گئی، جب کہ فی 10 گرام چاندی کی قیمت بھی 227 روپے بڑھ کر 10 ہزار 438 روپے ہو گئی۔

عالمی مارکیٹ میں بھی چاندی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ جاری ہے، جس کا اثر براہ راست مقامی منڈیوں میں نظر آ رہا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی عالمی اور مقامی سطح پر غیر یقینی معاشی صورتحال کے باعث سونے اور چاندی کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا تھا۔ بدھ کے روز بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت ایک ہی جھٹکے میں 211 ڈالر اضافے کے بعد 5 ہزار 293 ڈالر کی سطح پر پہنچ گئی تھی، جس کے نتیجے میں پاکستان میں ایک دن کے دوران فی تولہ سونے کی قیمت میں 21 ہزار 100 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ اسی روز فی 10 گرام سونا بھی 18 ہزار 90 روپے بڑھ کر 4 لاکھ 72 ہزار 961 روپے کی سطح پر پہنچ گیا تھا۔

اسی طرح عالمی مارکیٹ میں چاندی کی قیمت میں 2 ڈالر 36 سینٹس کے اضافے کے بعد فی اونس چاندی 114 ڈالر 27 سینٹس کی بلند ترین سطح پر پہنچنے سے مقامی مارکیٹ میں بھی چاندی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا تھا، جہاں فی تولہ چاندی 11 ہزار 911 روپے اور فی 10 گرام چاندی 10 ہزار 211 روپے کی سطح پر ریکارڈ کی گئی تھی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر ڈی ڈالرائزیشن کی پالیسیوں، امریکی ڈالر کے 4 سال کی کم ترین سطح پر آنے اور جیو پولیٹیکل صورتحال میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث سرمایہ کار تیزی سے سونے اور چاندی کی جانب رجوع کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ دنیا کے بیشتر ممالک کے مرکزی بینکس کی جانب سے خالص سونے کی خریداری میں اضافے کا رجحان بھی قیمتوں میں مسلسل اضافے کی ایک بڑی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: چاندی کی قیمتوں میں سونے کی قیمت میں چاندی کی قیمت سطح پر پہنچ مارکیٹ میں ریکارڈ کی فی 10 گرام فی تولہ روپے کی میں بھی فی اونس کی نئی کے بعد

پڑھیں:

بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز

اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔

پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔

ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔

سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔

ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔

پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ

پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟