ملک میں سونے کی قیمت میں تاریخی اضافہ: فی تولہ 21 ہزار 200 روپے مہنگا
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق ملک میں سونے کی قیمت میں ایک تاریخی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ایک ہی دن میں فی تولہ 21 ہزار 200 روپے بڑھنے کے بعد سونے کی قیمت 5 لاکھ 72 ہزار 862 روپے تک پہنچ گئی ہے۔
اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت بھی 18 ہزار 175 روپے کے اضافے کے بعد 4 لاکھ 91 ہزار 136 روپے ہو گئی ہے۔
عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں 212 ڈالر کے اضافے کے بعد فی اونس سونا 5,505 ڈالر ہو گیا ہے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق فی تولہ چاندی کی قیمت میں بھی 264 روپے کا اضافہ ہوا اور یہ 12 ہزار 175 روپے ہو گئی ہے۔
واضح رہے کہ جنوری 2026 میں سونے کی مجموعی قیمت میں 1 لاکھ 15 ہزار 900 روپے کا اضافہ ہو چکا ہے، اور گزشتہ روز بھی سونے کی قیمت میں 21 ہزار 100 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔
یہ اضافہ ملکی سونے کی مارکیٹ میں ایک نیا ریکارڈ قائم کرتا ہے، جس نے سرمایہ کاروں اور عام صارفین دونوں کے لیے خبردار کن صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سونے کی قیمت میں میں سونے کی
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔