میلانیا ٹرمپ کی دستاویزی فلم ریلیز سے پہلے ہی مشکلات میں گھِر گئی
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
امریکی خاتونِ اوّل میلانیا ٹرمپ کی زندگی پر مبنی دستاویزی فلم، جس پر 75 ملین ڈالرز خرچ کیے گئے، امریکا اور برطانیہ میں باکس آفس پر ریلیز ہونے سے پہلے ہی کمزور آغاز کا شکار ہو گئی ہے۔
فلم کا ٹائمز اسکوائر، نیویارک میں شام 7:30 بجے کے شوز میں ایک بھی ٹکٹ فروخت نہیں ہوا، اور لندن کے زیادہ تر سنیما گھروں میں بھی ہجوم نہ ہونے کی شکایات سامنے آئیں۔ اس ناکامی نے وسط مدتی انتخابات کے دوران صدر ٹرمپ کے لیے تشویش پیدا کر دی ہے، حالانکہ ان کی سوشل میڈیا ویب سائٹ ‘ٹرتھ سوشل پر فلم کو بھرپور انداز میں پروموٹ کیا جا رہا ہے۔
دستاویزی فلم میلانیا میں صدر ٹرمپ کی حلف برداری سے 20 دن قبل کی زندگی دکھائی گئی ہے، اور دعویٰ کیا گیا ہے کہ میلانیا نے فلم میں کام کرنے کے لیے 28 ملین ڈالرز حاصل کیے ہیں۔ اس کے حقوق اسٹریمنگ پلیٹ فارم ایمازون نے 40 ملین ڈالرز میں خریدے جبکہ مارکیٹنگ اور تقسیم پر مزید 35 ملین ڈالرز خرچ کیے گئے۔
میلانیا ٹرمپ نے بتایا کہ فلم میں دکھایا گیا ہے کہ وہ کس طرح اپنے بزنس، فلاحی سرگرمیوں اور فیملی کی دیکھ بھال کرتی رہی ہیں اور وائٹ ہاؤس کے ایسٹ ونگ کو تیار کیا۔ تاہم، ایک امریکی میزبان نے اس پر طنز کیا کہ تاریخی ایسٹ ونگ اب موجود نہیں کیونکہ اسے گرا کر بال روم بنایا جا رہا ہے۔
مزید برآں، فلم کی ٹیم کے کئی ارکان نے دستاویزی فلم کو پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے اپنے نام اینڈ کریڈٹس سے نکال دیے۔ کچھ حلقوں نے میلانیا پر تنقید بھی کی کہ منی سوٹا میں فائرنگ کے واقعے کے دوران وہ اپنی فلم کی تشہیر میں مصروف تھیں۔
یہ فلم ریلیز سے پہلے ہی تنازع اور کمزور استقبال کا سامنا کر رہی ہے، جس سے میلانیا ٹرمپ کی دستاویزی کوشش کو متنازع اور مبہم آغاز کا سامنا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: میلانیا ٹرمپ دستاویزی فلم ملین ڈالرز ٹرمپ کی
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔