WE News:
2026-07-24@10:37:45 GMT

بھارت۔یورپی تجارتی معاہدے کیخلاف ٹرمپ ٹیم  یورپ پر سخت برہم

اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT

بھارت۔یورپی تجارتی معاہدے کیخلاف ٹرمپ ٹیم  یورپ پر سخت برہم

امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بھارت اور یورپی یونین کے درمیان نئے آزاد تجارتی معاہدے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے یورپی قیادت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ یوکرین جنگ کے معاملے میں اپنے مؤقف کو کمزور کر رہی ہے اور جغرافیائی سیاست کے بجائے معاشی مفادات کو ترجیح دے رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیںصدر ٹرمپ بھارت سے بدظن کیوں ہوئے؟ امریکی اخبار نے بھید کھول دیا

امریکی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اسکاٹ بیسنٹ کا کہنا تھا کہ یورپی ممالک یوکرین۔روس جنگ کے محاذ پر ہونے کے باوجود ایسے فیصلے کر رہے ہیں جو بالواسطہ طور پر روسی معیشت کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ روسی تیل پر پابندیوں کے بعد بھارت نے سستا روسی خام تیل خریدا اور یورپ نے اسی تیل سے تیار شدہ مصنوعات خریدیں، جس سے جنگ کی مالی معاونت ہوئی۔

بیسنٹ کے مطابق امریکا نے روسی تیل خریدنے پر بھارت پر ٹیرف عائد کیا، مگر یورپی ممالک نے ایسا نہیں کیا کیونکہ وہ بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدہ کرنا چاہتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپ کو جب بھی یوکرین کی حمایت کی بات کرتے سنا جائے تو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اس نے تجارت کو جنگ کے خاتمے پر ترجیح دی۔

یورپی یونین اور بھارت کے درمیان یہ معاہدہ حالیہ برسوں کے بڑے تجارتی معاہدوں میں شمار ہوتا ہے، تاہم واشنگٹن میں اسے یورپ کی بدلتی ترجیحات اور پیچیدہ سفارتی حکمتِ عملی کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بھارت بھارت یورپ تجارتی ڈیل ٹرمپ انتظامیہ یوکرین.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بھارت بھارت یورپ تجارتی ڈیل ٹرمپ انتظامیہ یوکرین

پڑھیں:

یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام

یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔

یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔

کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔

یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔

کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • فیفا ورلڈکپ: ٹرمپ کی مداخلت پر فیصلہ تبدیل، ناروے کا فیفا کیخلاف بڑا اقدام اٹھانے کا فیصلہ
  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل