حیدرآباد ، ایس بی سی اے میں بدعنوانی کا بازار گرم،سنگین سوالات اٹھ گئے
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
لطیف آباد یونٹ نمبر ۱، پلاٹ نمبر ۷۵۳ (بلاک ڈی)میںغیر قانونی اقدامات پر متعلقہ حکام کی خاموشی
اسسٹنٹ ڈائریکٹر اورنگزیب نے اختیارات سے تجاوز کر کے غیر قانونی تعمیرات کی اجازت دی، ذرائع
(رپورٹ: اظہر رضوی) حیدرآبادکے علاقے لطیف آباد یونٹ نمبر ۱، پلاٹ نمبر ۷۵۳ (بلاک ڈی) پر واقع ایک عمارت کی تعمیر کے حوالے سے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) کے قوانین اور ایس او پیز کی کھلی خلاف ورزی سامنے آ گئی ہے۔ذرائع کے مطابق زیرِ تعمیر عمارت میں ایس بی سی اے کے قواعد و ضوابط کو ہوا میں اُڑا دیا گیا جبکہ متعلقہ اداروں سے این او سی حاصل کیے بغیر تعمیراتی اجازت دی گئی۔ اس صورتحال کے باعث واٹر اینڈ سیوریج کے بنیادی انفراسٹرکچر کے متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔مزید یہ کہ ایس بی سی اے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر اورنگزیب پر الزام ہے کہ وہ ریجنل ڈائریکٹر کے ماتحت رہتے ہوئے اختیارات سے تجاوز کر کے متعدد غیر قانونی عمارتوں کی تعمیر کی اجازت دے رہے ہیں، جس کے باعث سرکاری خزانے کو بھاری نقصان پہنچنے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی جانب سے غیر قانونی اقدامات پر متعلقہ حکام کی خاموشی بھی کئی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔غیر مصدقہ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایس بی سی اے میں بدعنوانی کا بازار گرم ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: ایس بی سی اے
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز