کرتار پور اور ننکانہ صاحب کو موٹر ویز سے منسلک کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
وفاقی وزیر مواصلات کی ہدایت پراین ایچ اے نے اہم اقدام کرتے ہوئے کرتار پور اور ننکانہ صاحب کو موٹر ویز سے منسلک کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر برائے مواصلات عبدالعلیم خان نے ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کرتار پور اور ننکانہ صاحب کو قومی موٹر وے نیٹ ورک سے منسلک کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔
وزیرِ مواصلات نے سیالکوٹ سے کرتار پور موٹروے کی تعمیر پر فوری کام شروع کرنے کی ہدایت دی ہے، جسے "گرو نانک ایکسپریس وے" کے نام سے منسوب کیا جائے گا۔
اجلاس کے دوران عبدالعلیم خان نے کہا کہ اس منصوبے کے گردوپیش میں بین الاقوامی معیار کے تھری، فور اور فائیو اسٹار ہوٹل تعمیر کیے جائیں گے تاکہ زائرین کو بہترین سہولیات میسر ہوں۔
انہوں نے این ایچ اے کو ہدایت کی کہ سکھ کمیونٹی کی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے لندن، کینیڈا اور امریکہ میں بڑے پیمانے پر تشہیری مہم چلائی جائے اور ان منصوبوں کو عالمی روڈ شوز کا حصہ بنایا جائے۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ یہ منصوبے خطے کے لیے "گیم چینجر" ثابت ہوں گے، جس سے نہ صرف مذہبی سیاحت کو فروغ ملے گا بلکہ نارنگ منڈی اور بدو ملہی جیسے ملحقہ شہروں کے عوام بھی مستفید ہوں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کرتار پور
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔