مذاکرات کیخلاف ہوں، روس کو یوکرین میں جنگ جاری رکھنی چاہیے: رمضان قادریوف
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
مذاکرات کیخلاف ہوں، روس کو یوکرین میں جنگ جاری رکھنی چاہیے: رمضان قادریوف WhatsAppFacebookTwitter 0 29 January, 2026 سب نیوز
ماسکو(آئی پی ایس )روس کے چیچن علاقے کے سربراہ رمضان قادریوف نے کہا ہے کہ وہ یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کے خلاف ہیں اور روس کو جنگ جاری رکھنی چاہیے۔غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق رمضان قادریوف نے کریملن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرا خیال ہے کہ جنگ کو اس کے منطقی انجام تک پہنچانا چاہیے۔۔۔ میں مذاکرات کے خلاف ہوں۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب روسی صدر ولادیمیر پیوٹن متحدہ عرب امارات کے صدر سے ملاقات کر رہے تھے۔
خبررساں ایجنسی کے مطابق خود کو صدر پیوٹن کا فٹ سولجر کہنے والے قادریوف روس کے نمایاں حامیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کے اس بیان سے سخت گیر حلقوں کی اس رائے کی عکاسی ہوتی ہے کہ روس چار سال سے جاری جنگ میں برتری حاصل کر رہا ہے اور اسے جاری رکھنا چاہیے۔تاہم جنگ روکنے یا جاری رکھنے کا فیصلہ مکمل طور پر صدر پیوٹن کے اختیار میں ہے۔ کریملن کا کہنا ہے کہ روس یوکرین میں اپنے اہداف کو سفارتکاری کے ذریعے حاصل کرنے کو ترجیح دیتا ہے لیکن اگر یہ ممکن نہ ہوا تو فوجی ذرائع سے انہیں حاصل کیا جائے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپی آئی اے نجکاری، حکومت اور عارف حبیب کنسروشیم میں دستاویزات کا تبادلہ پی آئی اے نجکاری، حکومت اور عارف حبیب کنسروشیم میں دستاویزات کا تبادلہ یو پی یونین پاکستان کا اہم اتحادی،تعلقات میں بہتری کیلئے پر عزم ہیں،وزیر اعظم برطانوی وزیراعظم کی صدر شی سے ملاقات، چین عالمی سطح پر اہم کھلاڑی قرار اسحاق ڈار کا ایرانی وزیر خارجہ سے رابطہ، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال انٹرنیشنل اداروں میں بھارتی شہری سیکیورٹی خطرہ بن گئے؟ عالمی رپورٹ میں تشویشناک انکشافات پشاور چھوڑ کر جارہا ہوں، غلام احمد بلور کا سیاست سے علیحدگی کا اعلانCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔