Islam Times:
2026-07-24@14:30:36 GMT

ہاتھی والوں کا انجام

اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT

ہاتھی والوں کا انجام

اسلام ٹائمز: خدائے قہار نے ”الم ترکیف فعل ربک باصحاب الفیل، (کیا تو نے نہیں دیکھا کہ خدا نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا؟) کہہ کر اصل میں ہر دور کے طاغوت کو بتایا کہ دیکھ لو اپنا انجام! آج کا ابراہہ جو اپنے ہاتھیوں یا آج کی زبان میں اپنے دیو ہیکل جنگی بیڑوں پر بہت زیادہ غرور کرتا ہے، اسے خبر ہونی چاہیئے کہ ہر قسم کی طاقت و جبروت کی مالک خدا کی ذات ہے اور وہی سپر پاور ہے۔ کل جس نے ہاتھی جیسے عظیم الجثہ اور دیو ہیکل جانور کو جھنڈ کے جھنڈ پرندوں اور چھوٹے چھوٹے کنکروں کے ذریعے عبرت کا نشان بنایا تھا۔ آج اس نے وقت کے ابراہہ کا غرور توڑنے کے لیے، اس کے بڑے بڑے بحری بیڑوں کے مقابلے میں چھوٹے چھوٹے ”ڈرونز“ کا انتظام کر رکھا ہے۔ تحریر: پروفیسر سید تنویر حیدر نقوی

”ابرہہ بن صباح“ کا تعلق حبشہ سے تھا اور یمن کے حکمرانوں میں سے ایک تھا۔ ایک لڑائی میں اس کے چہرے پر لگنے والے زخم کی وجہ سے اس کا نام ”آشرم“ رکھا گیا۔ ابرہہ اس بات سے ناخوش تھا کہ کعبہ لوگوں کی خصوصی توجہ کا مرکز ہے اور اس کی زیارت سے مکہ کی طاقت اور شان و شوکت بڑھ گئی ہے۔ اس نے فیصلہ کیا کہ لوگوں کو مکہ کی بجائے یمن کی طرف آمادہ کرے۔ یہ سوچ کر اس نے صنعاء میں "قالیس" کے نام سے ایک شاندار کلیسا بنایا اور لوگوں سے کہا کہ وہ کعبہ کی بجائے اس کی زیارت کریں۔ اس چرچ کے قیام کی خبر نے عربوں کو بہت غصہ دلایا، یہاں تک کہ کہا جاتا ہے کہ ان میں سے ایک نے قالیس جا کر اس کی بے حرمتی کی۔ ابرہہ کے ایلچیوں میں سے ایک ایلچی، جو لوگوں کو ”قالیس“ کی سیر کی دعوت دینے کے لیے عربوں میں گیا تھا، اسے بھی قتل کردیا گیا۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ قریش کا ایک گروہ عیسائیوں کے ایک گرجا کے قریب تجارت کی غرض سے اترا اور کھانا پکانے کے لیے آگ جلائی۔ ہوا کے زور سے یہ آگ پھیلی اور اس نے عیسائیوں کی عبادت گاہ کو جلا دیا۔ عربوں کے ان اقدامات سے ابرہہ کو غصہ آیا اور اس نے محسوس کیا کہ کعبہ کی موجودگی میں وہ لوگوں کو مکہ سے یمن کی طرف نہیں لے جا سکتا اور اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکتا۔ لہذا اس نے کعبہ کو تباہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس مقصد کے حصول کے لیے اس نے ایک فوج تیار کی اور جنگی ہاتھیوں کے ساتھ مکہ کی طرف روانہ ہوا۔ راستے میں اس نے ہر اس قبیلے کو شکست دی اور اس کے سرداروں کو گرفتار کر لیا جس نے اس کی مخالفت کی۔ یہاں تک کہ وہ مکہ کے قریب "مغامس" یا "حب المحاسب" نامی جگہ پر اترا۔

ابرہہ نے ”اسود بن مقصود“ کی قیادت میں اپنے گھڑ سواروں کی ایک جماعت کو لوگوں کا مال لوٹنے کے لیے بھیجا۔ اسی دوران ابراہہ کے لشکریوں نے جناب عبدالمطلب کے 200 اونٹ لوٹ لیے۔ ابراہہ نے اس کے بعد ”حنطہ الحمیری“ کے ذریعے مکہ کے سردار جناب عبدالمطلب کو یہ پیغام بھیجا کہ میرا آپ سے جنگ کا ارادہ نہیں ہے بلکہ میرا قصد کعبے کو تباہ کرنا ہے۔ ابرہہ کا پیغام سننے کے بعد جناب عبدالمطلب نے کہا: "ہم بھی لڑنے کی طاقت نہیں رکھتے، لیکن کعبہ خدا کا گھر اور اس کے محبوب حضرت ابراہیم علیہ السلام کا گھر ہے۔ لہذا وہ خود اپنے حرم کی حفاظت کرے گا۔" اس کے بعد حضرت عبدالمطلب ابرہہ سے ملنے گئے۔ ان کے خوبرو چہرے اور ان کی وجاہت دیکھ کر ابرہہ تخت سے اترا اور ان کے پاس نیچے بیٹھ گیا اور کہا: آپ کیا چاہتے ہیں؟

جناب عبدالمطلب نے کہا: "تمہارے سپاہیوں نے میرے 200 اونٹ چرائے ہیں، ان سے کہو کہ وہ واپس کر دیں۔" ابرہہ کو اس درخواست پر تعجب ہوا۔ اس نے کہا: "میں نے سوچا تھا کہ آپ مجھ سے اس گھر کو تباہ نہ کرنے کے لیے کہیں گے جس کا تعلق  آپ کے اور آپ کے باپ دادا کے مذہب سے ہے۔" جناب عبدالمطلب نے کہا: ”میں اپنے اونٹوں کا مالک ہوں اور اس گھر کا بھی ایک مالک اور رب ہے جو اس کی حفاظت کرتا ہے۔ وہ خود اپنے گھر کی حفاظت کرے گا اور تمہیں اس پر حملہ کرنے سے روکے گا“۔ ابرہہ سے ملاقات سے واپسی کے بعد جناب عبدالمطلب نے مکہ والوں کو حکم دیا کہ وہ شہر چھوڑ کر آس پاس کے پہاڑوں اور وادیوں میں پناہ لے لیں اور خود چند لوگوں کے ساتھ مکہ میں ہی رہے۔

آپ نے کعبہ کی کنڈی ہاتھ میں لی اور کچھ دعائیہ اشعار کہے جن کا ترجمہ کچھ اس طرح سے ہے: ”خدایا! بندہ اپنی جگہ کی حفاظت کرتا ہے پس تو اپنے مکان کی حفاظت فرما اور اہل صلیب اور صلیب کے پرستاروں کے مقابلہ میں اپنے اہل کی مدد فرما۔ ان کی صلیب اور ان کی تدبیر، تیری تدبیر پر کبھی غالب نہیں آ سکتی۔ یہ لوگ لشکر اور ہاتھی چڑھا کر لائے ہیں تاکہ تیرے عیال کو قید کریں۔ یہ تیرے حرم کی بربادی کا قصد کر کے آئے ہیں۔ انہوں نے جہالت کی بنا پر یہ قصد کیا ہے اور تیری عظمت اور جلال کا خیال نہیں کیا“۔ اپنے خدا سے اس کلام کے بعد آپ مکہ کی ایک قریبی وادی کی طرف چلے گئے۔ کہا جاتا ہے کہ جب ابرہہ نے حملہ کرنے کا حکم دیا تو عبدالمطلب یا نفیل ابن حبیب نامی ایک شخص سب سے آگے بڑھنے والے جنگی ہاتھی کے پاس آیا اور اس کے کان میں یہ سرگوشی کی: ”حرکت بند کرو اور جہاں سے آئے ہو وہیں لوٹ جاؤ۔ یہ سرزمین خدا کی حفاظت میں ہے“۔

اچانک ہاتھی نے اس کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے اور پھر اس پر کسی قسم کا دباؤ اسے کعبہ کی طرف بڑھنے پر مجبور نہ کر سکا۔ کعبے کی سمت کے علاوہ وہ ہر سمت میں چلنے کے لیے تیار تھا لیکن جب اسے کعبے کی طرف موڑا جاتا تو اپنے قدم روک لیتا۔ قدرتِ حق جلّ شانہ کا یہ کرشمہ تو یہاں ظاہر ہوا۔ جب کہ دوسری طرف دریا کی جانب سے کچھ پرندوں کی قطاریں آتی دکھائی دیں جن میں سے ہر ایک کی چونچ اور دو پنجوں میں مسور کے دانے کی برابر کنکریاں تھیں۔ ”واقدی“ کی روایت میں ہے کہ پرندے عجیب طرح کے تھے جو اس سے پہلے نہیں دیکھے گئے تھے۔ اپنے وجود میں وہ کبوتر سے چھوٹے تھے۔ ان کے پنجے سرخ تھے۔ وہ آئے اور فوراً ہی ابرہہ کے لشکر کے اوپر چھا گئے اور وہ  کنکریں جو وہ اپنے ساتھ لائے تھے انہیں ابرہہ کے لشکر پر برسانا شروع کر دیا۔ پھر ایک ایک کنکر نے وہ کام کیا جو آج کی گولی بھی نہیں کر سکتی۔

کنکر جس پر پڑتا، اس کے بدن کو چھیدتا ہوا زمین میں گھس جاتا۔ یہ عذاب دیکھ کر سب ہاتھی بھاگ گھڑے ہوئے۔ صرف ایک ہاتھی رہ گیا جو اس کنکر سے ہلاک ہوا۔ لشکر کے سب آدمی اسی موقع پر ہلاک نہیں ہوئے بلکہ کچھ مختلف اطراف میں بھاگے اور راستے میں موت نے ان کو جا لیا۔ الغرض اس طرح ابرہہ کا لشکر تباہ و برباد ہوا اور صفحۂ ہستی سے اس کا نام و نشان مٹ گیا۔ ابرہہ کا حشر یہ ہوا کہ اس کے جسم میں ایسا زہر سرایت کر گیا جس سے اس کے بدن کا ایک ایک جوڑ گل سڑ کر گرنے لگا اور پورے بدن سے پیپ اور خون بہنے لگا۔ بالآخر صنعاء پہنچ کر اس کا سینہ پھٹ پڑا اور وہ اپنے انجام تک پہنچا۔ امام باقر علیہ السلام کے فرمان کے مطابق: ”جب ہاتھی اور ہاتھی والوں کو کنکریوں سے نشانہ بنایا گیا تو ان میں چیچک پھیل گئی اور انہیں تباہ کر دیا گیا“۔ اس وقت تک ایسی بیماری وہاں نہیں دیکھی گئی تھی۔

کہا جاتا ہے جب ابرہہ نے دیکھا کہ اس کی فوج کی یہ حالت ہوگئی ہے تو وہ جلدی سے واپس لوٹنے پر مجبور ہوگیا۔ یمن واپسی پر اس کے بہت سے لشکری راستے میں ہی ہلاک ہو گئے اور ابرہہ خود جو اس بیماری میں مبتلا تھا بڑی مشکل سے صنعاء پہنچ سکا اور وہاں پہنچ کر مر گیا۔ ایک روایت کے مطابق  صرف ایک شخص فرار ہونے میں کامیاب ہوا اور حبشہ کے بادشاہ کے دربار تک پہنچا۔ ابھی اس نے فوج کی تباہی کی اطلاع دی ہی تھی کہ نجاشی کی موجودگی میں ہی ابابیلوں میں سے ایک ابابیل کے ایک کے کنکر سے مارا گیا جو اس کا تعاقب کرنے کے لیے مقرر کیا گیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ ابابیلوں نے رات کے وقت ہاتھی کے ساتھیوں پر حملہ کیا تھا اور جب صبح جناب عبدالمطلب بیدار ہوئے تو انہوں نے سب کو تباہ و برباد پایا۔

اصحاب فیل کا یہ انجام ایک مرئی اور ٹھوس معجزہ تھا۔ ”معجزے“ اور ”اِرہاص“ میں ایک فرق ہے۔ جو ”خرق العادات“ چیزیں رسول خدا کے ہاتھوں پر نبوّت کے بعد ظاہر ہوئیں انہیں معجزہ اور جو خرقِ عادت چیزیں رسول خدا کے ہاتھوں پر نبوّت سے پہلے ظاہر ہوئیں انہیں اصطلاح میں ”اِرہاص“ کہا گیا ہے۔ اصحاب فیل کا واقعہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت سے تقریباً پچاس یا پچپن روز قبل پیش آیا تھا۔ قرآنِ کریم کی ایک پوری سورۃ ”سورۂ فیل“ اس واقعہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اصحاب فیل کا واقعہ خاتم الانبیاء اور نبی آخر الزماں کی اس دنیا میں تشریف آوری کی نشانی اور تمہید کے طور پر پیش آیا تھا۔ جس طرح رسول خداؐ کی بعثت سے پہلے خدا کے ایک دشمن کا انجام، منجئ انسانیت کی آمد کے لیے ایک تمہید بنا اسی طرح آج زمانے کے سب سے بڑے ابراہہ کا، آج کے فرزندان  عبدالمطب کے مقابلے میں اپنی طاقت کے تمام مظاہر لے کر آجانا کسی ”منجئ بشریت“ اور ”مہدئ آخرالزماں“ کے آنے کی تمہید ہو سکتا ہے۔

خدائے بزرگ و برتر نے اس واقعے میں جہاں زمانہءآخر تک کے مستضعفین و مظلومین کے لیے بالآخر ان کے مصائب کے خاتمے کی نوید رکھی ہے وہاں اس نے ہر دور کے مستکبر کے منتقی انجام کی خبر بھی دی ہے۔ خدائے قہار نے ”الم ترکیف فعل ربک باصحاب الفیل، (کیا تو نے نہیں دیکھا کہ خدا نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا؟) کہہ کر اصل میں ہر دور کے طاغوت کو بتایا کہ دیکھ لو اپنا انجام! آج کا ابراہہ جو اپنے ہاتھیوں یا آج کی زبان میں اپنے دیو ہیکل جنگی بیڑوں پر بہت زیادہ غرور کرتا ہے، اسے خبر ہونی چاہیئے کہ ہر قسم کی طاقت و جبروت کی مالک خدا کی ذات ہے اور وہی سپر پاور ہے۔ کل جس نے ہاتھی جیسے عظیم الجثہ اور دیو ہیکل جانور کو جھنڈ کے جھنڈ پرندوں اور چھوٹے چھوٹے کنکروں کے ذریعے عبرت کا نشان بنایا تھا۔ آج اس نے وقت کے ابراہہ کا غرور توڑنے کے لیے، اس کے بڑے بڑے بحری بیڑوں کے مقابلے میں چھوٹے چھوٹے ”ڈرونز“ کا انتظام کر رکھا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: جناب عبدالمطلب نے کہا جاتا ہے کہ چھوٹے چھوٹے میں سے ایک کی حفاظت میں اپنے نے ہاتھی کرتا ہے کعبہ کی کے ساتھ کی طاقت کو تباہ کے لیے ہے اور کے بعد اور وہ کی طرف نے کہا مکہ کی اور اس اور ان

پڑھیں:

آپریشن سندور کی ناکامی پر بھارتی حکومت کا بیانیہ اپنے ہی شہریوں نے زمین بوس کر دیا 

پروپیگنڈا اور گمراہ کن دعوؤں کے برعکس بھارتی نوجوان نے شکست خوردہ مودی حکومت کو آئینہ دکھا دیا۔

دہلی میں بھارتی مظاہرین نے آپریشن سندور میں شکست اورناکامی کو چھپانے کیلئےفوجیوں کی ہلاکت کو دبانے کے  پاکستانی مؤقف کی تائید کر دی۔ دہلی میں مظاہرین نے تشدد کرنےوالے پولیس اہلکاروں کو مخاطب کر کے کہاکہ حکومت نے آپریشن سندور میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی شناخت اور ان کی قربانیوں کو عوام سے چھپایا۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ جو حکومت اپنے فوجیوں کی قربانیوں کو نظر انداز کرے، وہ کسی بھی اہلکار کے ساتھ ایسا کر سکتی ہے ، حکومت کو پولیس اور فوجی جوانوں کی زندگیوں اور قربانیوں کی کوئی پروا نہیں ہے۔

آپریشن سندور میں ہلاک ہونے والے فوجی جوانوں کے نام اور قربانیوں کو حکومتی سطح پر نظر انداز کیا گیا، تم حکومت کا ساتھ دیتے ہو،لیکن یہی حکومت تمہاری موت کے بعد تمہاری شناخت تک چھپا دیتی ہے۔

بھارتی عوام  کا مودی کے خلاف اپنے غم و غصے کا اظہار  کرتے ہوئے ان کے پوسٹر پھاڑ رہے ہیں اور ان کی تصویر پر چپلیں برسا رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • این سی سی آئی اے کے افسران کو فرائض کی انجام دہی سے نہ روکا جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ
  • موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کی بطور فور سٹار جنرل ترقی، کمانڈر نیشنل سٹریٹجک کمانڈ مقرر
  • عاطف اسلم کا نیا البم ’صبح آئے نہ‘ کب ریلیز ہو گا؟ گلوکار نے بڑی اپڈیٹ دے دی
  • جنرل عامر رضا نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کے نئے کمانڈر مقرر
  • آپریشن سندور کی ناکامی پر بھارتی حکومت کا بیانیہ اپنے ہی شہریوں نے زمین بوس کر دیا 
  • ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعے) کا دن کیسا رہے گا ؟
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت